دنیا کی تجارت میں ایک خاموش مگر بڑی اور تیز تبدیلی چل رہی ہے۔
مزید پڑھیں
کئی ممالک ڈالر پر انحصار گھٹانے، اپنی کرنسیوں میں تجارت بڑھانے اور متبادل ادائیگی نظام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر روسی بینک پی ایس بی کے سربراہ پیوتر فرادکوف کے نزدیک صرف ڈالر چھوڑ دینا مالی آزادی کی ضمانت نہیں۔
ان کا بنیادی نکتہ سادہ ہے کہ اگر ادائیگی کسی ایسے بیرونی نظام سے گزر رہی ہے جس کی منتقلی اور لیکویڈیٹی پر کسی دوسرے ملک یا
ادارے کا کنٹرول ہے، تو کرنسی بدلنے کے باوجود انحصار اپنی جگہ رہتا ہے۔
⚙️ بنیادی حقیقت
ڈالر بدلا تو کیا واقعی نظام بھی بدل جائے گا؟
ڈالر بدلا تو کیا واقعی نظام بھی بدل جائے گا؟
🔍 کرنسی نہیں، انفرااسٹرکچر اصل طاقت ہے
صرف تجارتی لین دین میں ڈالر کا نام ہٹا کر مقامی کرنسی لکھ دینا حقیقی مالی خود مختاری نہیں دیتا۔ اگر رقوم کی منتقلی، میسجنگ چینلز اور لیکویڈیٹی کلیئرنگ اب بھی بیرونی یا مغربی زیرِ اثر سرورز سے گزرے تو انحصار اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔
اسٹیبل کوائنز کا اندرونی تضاد
2025 میں 33 ٹریلین ڈالر کی کرپٹو ٹرانزیکشنز کے باوجود 98% اسٹیبل کوائنز کی پشت پناہی اور قیمت براہِ راست ڈالر سے ہی جڑی ہوئی ہے۔
چینلز اور میسجنگ کا کنٹرول
جب تک رقوم کی تصدیق اور ترسیل کا تکنیکی نیٹ ورک آزاد نہ ہو، پابندیاں عائد کرنے والی قوتیں کسی بھی دوسری کرنسی کی ٹریڈ روک سکتی ہیں۔
تقسیم شدہ لیکویڈیٹی کی ضرورت
مقامی کرنسیوں میں تجارت تب ہی کامیاب ہو سکتی ہے جب فریقین کے پاس باہمی زرمبادلہ کا مناسب اور متحرک ذخیرہ موجود ہو۔
متوازی مالیاتی دنیا کا چیلنج
اصلی تبدیلی کا مطلب ایک کرنسی ہٹا کر دوسری لانا نہیں بلکہ ایسے کثیر قطبی نظام بنانا ہے جن پر کسی ایک ملک کی ویٹو پاور نہ ہو۔
اسٹیبل کوائنز کا حیران کن عروج
کرنسیوں کی اس بحث میں اسٹیبل کوائنز تیزی سے اہم ہوئے ہیں۔
فرادکوف کے مطابق 2025 میں ان سے منسلک لین دین تقریباً 33 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا، جو ایک سال میں 72 فیصد اضافہ تھا۔ اسی عرصے میں ویزا کا حجم 16.7 ٹریلین اور ماسٹر کارڈ کا 10.6 ٹریلین ڈالر رہا۔
ڈالر کی اجارہ داری اور متوازی ادائیگی کے نظام
عالمی تجارت میں کرنسی تبدیل کرنے سے زیادہ رقم کی ترسیل کے انفرااسٹرکچر اور کنٹرول کی نئی جنگ
عالمی معیشت میں اصل مقابلہ کرنسیوں سے بڑھ کر ادائیگیوں کے نیٹ ورکس پر کنٹرول کا ہے، جہاں اسٹیبل کوائنز اور متبادل نظام ڈالر پر انحصار توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تیزی سے پھیلتے ہوئے ڈیجیٹل کوائنز میں زیادہ تر اثاثوں کی قدر براہ راست ڈالر سے منسلک ہے، جس سے پس پردہ امریکی گرفت اب بھی قائم ہے۔
سوئفٹ کے متبادل اور خودمختار مالی راستوں کے لیے سرکاری ڈیجیٹل کرنسیوں پر کام کرنے والے ممالک کی تعداد میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔
مستقبل کی عالمی تجارت میں بنیادی سوال محض کرنسی کا انتخاب نہیں بلکہ یہ ہوگا کہ درآمدی و برآمدی ادائیگی کس نیٹ ورک اور بیرونی شرائط کے تحت منتقل ہوتی ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
لیکن یہاں ایک دلچسپ تضاد ہے۔ تقریباً 98 فیصد اسٹیبل کوائنز کی مالیت ڈالر سے جڑی ہوئی ہے۔ یعنی ادائیگی ڈیجیٹل ہوسکتی ہے، رفتار کہیں زیادہ ہوسکتی ہے، مگر پس منظر میں ڈالر کی گرفت پھر بھی برقرار رہتی ہے۔
اصل مقابلہ کرنسی کا نہیں
فرادکوف کی گفتگو کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ مستقبل کی جنگ صرف ڈالر، یوآن یا کسی قومی کرنسی کے درمیان نہیں ہوگی، بلکہ اصل مقابلہ اس انفرااسٹرکچر پر ہوگا جس کے ذریعے دنیا بھر میں رقم حرکت کرتی ہے۔
🌐
SWIFT کے مقابل نئی مالیاتی دنیا کون بنا رہا ہے؟
مغربی مالیاتی پابندیوں کے خوف نے دنیا کے ابھرتے ہوئے ممالک کو پابند کیا ہے کہ وہ سوئفٹ (SWIFT) پر انحصار ختم کر کے خود مختار ٹرانزیکشن سسٹمز کھڑے کریں۔
کراس بارڈر انٹر بینک پیمنٹ سسٹم تیزی سے عالمی بینکوں کو جوڑ کر ڈالر کے بغیر تصفیہ کر رہا ہے۔
پی ایس بی کا تیار کردہ نیا نظام سرحد پار بغیر کسی مرکزی مغربی رکاوٹ کے نقد رقم کا تبادلہ کرتا ہے۔
برازیل، جاپان، ترکیہ اور انڈونیشیا سرکاری ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے براہ راست باہمی رابطے بنا رہے ہیں۔
سوئفٹ پر سیاسی اثرورسوخ کے خدشات نے کئی ممالک کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔
چین کا CIPS نظام آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ مرکزی بینکوں کی ڈیجیٹل کرنسیوں پر کام کرنے یا انہیں جانچنے والے ممالک کی تعداد مئی 2020 کے 35 سے بڑھ کر 146 ہوچکی ہے۔
پاکستان کے لیے ڈالر سے ہٹتی دنیا میں کیا چھپا ہے؟
◀
🇵🇰 ادائیگی کے نیٹ ورک کی آزادی اصل نجات
درآمدی ایندھن اور بیرونی قرضوں میں گھری پاکستانی معیشت کے لیے مستقبل کا چیلنج صرف یہ نہیں کہ تجارت کس کرنسی میں ہو، بلکہ یہ ہے کہ ترسیلات اور ادائیگی کے ذرائع کتنے محفوظ، سستے اور پابندیوں سے آزاد ہیں۔
1. CIPS اور یوآن ٹریڈ کا انضمام
چین سے بھاری درآمدات کے لیے ڈالر کی خریداری کا دباؤ ختم کر کے براہِ راست سی آئی پی ایس کلیئرنگ استعمال کرنا۔
2. روس اور وسطی ایشیا سے بارٹر و نان ڈالر چینلز
سستے خام تیل اور گندم کی خریداری کے لیے سوئفٹ پر انحصار کم کر کے متبادل لیکویڈیٹی چینلز سے فائدہ اٹھانا۔
3. تارکینِ وطن کی ترسیلاتِ زر کے اخراجات
خلیجی ممالک سے آنے والے اربوں ڈالرز کے لیے ڈیجیٹل کوریڈورز استعمال کر کے بینکاری فیس اور وقت بچانا۔
4. فارن ایکسچینج ذخائر پر کم دباؤ
ملٹی کرنسی سیٹلمنٹ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں ڈالر کی قلت کے نتیجے میں بار بار روپے کی بے قدری کا تدارک۔
نئی مالیاتی دنیا کی تیاری
روس کے علاوہ برازیل، انڈونیشیا، جاپان، ترکی اور قازقستان بھی قومی کرنسیوں یا مقامی اثاثوں سے منسلک نئے مالیاتی ذرائع پر غور کر رہے ہیں۔
افریقہ بھی مستقبل کی ایک بڑی مارکیٹ بن سکتا ہے، جہاں 2050 تک آبادی ڈھائی ارب تک پہنچنے کی توقع ہے۔
روس نے اسی سوچ کے تحت سرحد پار تجارت کے لیے A7 ادائیگی نظام تیار کیا۔ فرادکوف کے مطابق یہ مختلف ممالک اور کرنسیوں میں موجود تقسیم شدہ لیکویڈیٹی کے ذریعے کام کرتا ہے اور سوئفٹ پر انحصار کم کرنے کی کوشش ہے۔
⚡
خاموش ڈیجیٹل انقلاب کی کہانی
عالمی ٹائم فریم
1. ویزا اور ماسٹر کارڈ سے آگے کی دوڑ (2025)
اسٹیبل کوائنز کا سالانہ حجم 72 فیصد اضافے کے بعد 33 ٹریلین ڈالر پہنچ گیا، جس نے ویزا ($16.7T) اور ماسٹر کارڈ ($10.6T) کے مشترکہ والیم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
2. مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسیوں کا پھیلاؤ (2020–2026)
مئی 2020 میں صرف 35 ممالک سی بی ڈی سیز پر کام کر رہے تھے، جو بڑھ کر 146 ریاستوں تک پہنچ چکا ہے تاکہ روایتی فنانشل ثالثوں کا کردار ختم ہو۔
3. افریقہ اور گلوبل ساؤتھ کا ابھار (2050 ہدف)
ڈھائی ارب آبادی کے حامل مستقبل کے افریقی و ایشیائی خطے بلاک چین اور خودمختار مالیاتی پروٹوکولز کے ذریعے مغرب کے متوازی معیشت تخلیق کر رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے اس تبدیلی کا مطلب
پاکستان جیسے درآمدات، برآمدات اور بیرونی ادائیگیوں سے گہرے طور پر جڑے ملک کے لیے یہ تبدیلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ مستقبل میں سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ تجارت ڈالر، یوآن یا روپے میں ہوتی ہے۔
زیادہ اہم سوال یہ ہوگا کہ ادائیگی کس نیٹ ورک سے گزرتی ہے، اس کی لاگت کتنی اور اس پر اختیار کس کا ہے۔
عالمی تجارت ڈالر کے اچانک خاتمے کی طرف نہیں، بلکہ متوازی مالیاتی نظاموں کی دنیا کی جانب بڑھ رہی ہے۔