براہ راست نشریات

بڑھاپے میں یادداشت بچانی ہے؟ صرف 3 عادات اپنا لیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
یادداشت بچانی اور ڈیمنشیا سے بچاؤ کے 3 اصول
بڑھاپے میں یادداشت محفوظ رکھنے کی تیاری بڑھاپے میں نہیں، درمیانی عمر میں شروع ہوجاتی ہے (فوٹو: اے آئی)

ہم عموماً بڑھاپے کی بیماریوں کے بارے میں اس وقت سوچتے ہیں جب عمر ڈھلنے لگتی ہے، لیکن دماغی صحت کی کہانی شاید اس سے کئی دہائیاں پہلے لکھی جارہی ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں

ایک نئی طویل مدتی تحقیق کے نتائج سے یہ اشارے ملے ہیں کہ 45 سے 65 سال کی عمر کے دوران کیے گئے 3 اہم فیصلے بعد کی زندگی میں ڈیمنشیا، بشمول الزائمر سے دُور رہنے کے عرصے میں نمایاں فرق ڈال سکتے ہیں۔

یہ تینوں عادات بظاہر سادہ ہیں۔ یعنی بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنا، ذیابیطس سے بچاؤ اور سگریٹ نوشی سے دُور رہنا۔

تحقیقی اعدادوشمار

تحقیق کا چونکا دینے والا حساب

صفر خطرہ گروپ
30.1 سال

سگریٹ، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر سے پاک افراد 55 سال کی عمر کے بعد اوسطاً 30 سال سے زائد ڈیمنشیا کے بغیر جیتے ہیں۔

ایک خطرہ کا حامل
26.3 سال

کسی ایک طبی یا حیاکاتی خطرے سے متاثرہ افراد کی محفوظ ذہنی زندگی کی اوسط مدت میں تقریباً 4 سال کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

دو خطرات کا شکار
21.0 سال

دو بنیادی خطرات لاحق ہونے کی صورت میں ڈیمنشیا سے پاک سالوں کی اوسط تعداد گھٹ کر صرف 21 سال رہ جاتی ہے۔

تینوں خطرات موجود
17.0 سال

شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور تمباکو نوشی تینوں میں مبتلا افراد 55 کے بعد بمشکل 17 سال ہی ذہن کو بیماری سے محفوظ رکھ پاتے ہیں۔

12 ہزار افراد کا راز

امریکا کے NYU Langone Health سے وابستہ محققین نے 12 ہزار 409 ایسے افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جنہیں 55 سال کی عمر میں ڈیمنشیا نہیں تھا۔

ان تمام افراد کی اوسطاً 26 سال تک طبی نگرانی کی گئی۔

اس طویل عرصے کے دوران 3 ہزار 8 افراد ڈیمنشیا کا شکار ہوئے، جبکہ 5 ہزار 238 افراد اس بیماری میں مبتلا ہوئے بغیر انتقال کرگئے۔

محققین نے خاص طور پر 3 خطرات پر توجہ دی۔ یعنی ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور سگریٹ نوشی۔ اس کے نتیجے میں طبی نگرانی کے نتائج نے بالکل واضح فرق دکھایا۔

بڑھاپے میں یادداشت کی حفاظت

درمیانی عمر کی 3 عادات اور ڈیمنشیا سے پاک زندگی کی طویل مدتی تحقیق

Logo

45 سے 65 سال کی عمر کے دوران بلڈ پریشر، ذیابیطس اور سگریٹ نوشی سے بچاؤ دماغی صحت اور یادداشت کو 13 سال مزید محفوظ رکھ سکتا ہے۔

🔬 جامع طبی تحقیق

12,409

افراد کے 26 سالہ طبی ڈیٹا کے جائزے سے ثابت ہوا کہ درمیانی عمر کی عادات یادداشت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

💡 3 بنیادی احتیاطیں

3

ہائی بلڈ پریشر پر قابو، ذیابیطس سے بچاؤ اور سگریٹ نوشی سے دُوری ڈیمنشیا کا خطرہ ڈرامائی حد تک کم کرتی ہے۔

❤️ دل اور دماغ کا تعلق

خون کی شریانوں کی صحت مستحکم رہنے سے دماغ کو مسلسل صاف خون کی فراہمی جاری رہتی ہے۔

⏳ بروقت تیاری کا پیغام

بڑھاپے میں الزائمر اور ڈیمنشیا سے بچاؤ کی تیاری 50 سال سے پہلے ہی شروع کرنا ضروری ہے۔

📊 خطرات کی تعداد اور ڈیمنشیا کے بغیر اوسط زندگی (سال)

صفر خطرہ (مکمل صحتمند عادات) 30.1
1 طبی خطرہ (مثلاً ہائی بلڈ پریشر) 26.3
2 طبی خطرات 21.0
3 تمام خطرات (بلڈ پریشر، شوگر، سگریٹ) 17.0

30 سال بمقابلہ صرف 17 سال

55 سال کی عمر میں جن لوگوں کو ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر نہیں تھا اور وہ سگریٹ بھی نہیں پیتے تھے، انہوں نے اوسطاً مزید 30.1 سال ڈیمنشیا کے بغیر گزارے۔

ایک خطرہ رکھنے والوں کے لیے یہ مدت 26.3 سال، دو خطرات رکھنے والوں کے لیے 21 سال، جبکہ تینوں خطرات والے افراد کے لیے صرف 17 سال سے کچھ زیادہ رہی۔

یوں بہترین اور سب سے زیادہ خطرے والے گروپ کے درمیان ڈیمنشیا سے پاک زندگی کا فرق تقریباً 13 سال ہے۔

دل کی حفاظت، دماغ کا تحفظ

دل اور دماغ کا یہ تعلق محض اتفاق نہیں ہے۔

ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور سگریٹ نوشی خون کی شریانوں کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ دماغ کو مسلسل صحت مند خون کی فراہمی درکار ہوتی ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ ماہرین درمیانی عمر میں دل اور خون کی شریانوں کی صحت کو مستقبل کی دماغی صحت سے جوڑتے ہیں۔

تحقیق میں خواتین نے خطرات کی تعداد سے قطع نظر مردوں کے مقابلے میں زیادہ سال ڈیمنشیا کے بغیر گزارے۔ اسی طرح نسلی گروہوں کے درمیان بھی فرق سامنے آیا۔

اہم نتائج

تحقیق کے اندر سے کیا برآمد ہوا؟

مرکزی تحقیقی نکتہ

امریکی تحقیقی ادارے NYU Langone Health نے 12,409 افراد کا 26 سال تک مطالعہ کیا، جس کا بنیادی حاصل یہ ہے کہ بڑھاپے کی بھولنے کی بیماری کا علاج بڑھاپے میں نہیں بلکہ درمیانی عمر کے فیصلوں میں پوشیدہ ہے۔

1
صنفی تفاوت کے اثرات

خواتین نے خطرات کی تعداد سے قطع نظر مردوں کے مقابلے میں زیادہ سال ڈیمنشیا سے پاک زندگی کے ساتھ گزارے، جس پر مزید تحقیق جاری ہے۔

2
قابلِ اصلاح خطرات

اگرچہ جینیات اور عمر کنٹرول نہیں کیے جا سکتے، مگر بلڈ پریشر، شوگر اور تمباکو نوشی پر قابو پا کر مرض کو کئی سال پیچھے دھکیلا جا سکتا ہے۔

3
درمیانی عمر کی اہمیت

45 سے 65 سال کی عمر کا وقت دماغی صحت کے لیے سب سے زیادہ فیصلہ کن ہے؛ اسی دور کی غفلت بعد کے سالوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

4
روک تھام کی حکمت عملی

متوازن غذا، روزمرہ ورزش، باقاعدہ طبی معائنے اور سگریٹ سے پرہیز ذہنی سکت کو بڑھاپے تک برقرار رکھنے کی بہترین ترکیب ہے۔

بڑھاپے کی تیاری 50 کے بعد نہیں، پہلے!

اس تحقیق کا سب سے اہم پیغام شاید یہ نہیں کہ الزائمر کو مکمل طور پر روکا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیمنشیا کے پیچھے عمر، جینیاتی عوامل اور کئی دوسری وجوہات بھی کردار ادا کرتی ہیں۔

اصل پیغام یہ ہے کہ کچھ خطرات ایسے ہیں جن پر انسان اثرانداز ہوسکتا ہے۔ 

مثلاً متوازن غذا، جسمانی سرگرمی، بلڈ پریشر اور شوگر کی نگرانی اور سگریٹ سے دُوری صرف دل کے لیے نہیں، دماغ کے مستقبل کے لیے بھی اہم ہوسکتی ہے۔

یعنی بڑھاپے میں یادداشت محفوظ رکھنے کی تیاری شاید بڑھاپے میں نہیں، بلکہ درمیانی عمر ہی میں شروع ہوجاتی ہے۔

🧠 اصل ذرائع ORIGINAL SOURCES الزائمر، ڈیمنشیا اور درمیانی عمر کے تین اہم طبی خطرات سے متعلق اصل تحقیق اور بنیادی سائنسی حوالہ جات 🔬 4 معتبر ذرائع
🔬 اصل تحقیق اور سائنسی ڈیٹا
🧠 Neurology Open Access — اصل سائنسی تحقیق “Midlife Vascular Risk Burden and Dementia-Free Survival” نامی اصل تحقیق، جس میں ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور سگریٹ نوشی کو درمیانی عمر کے اہم خطرات کے طور پر جانچا گیا اور ڈیمنشیا سے پاک زندگی کے برسوں کا تقابل کیا گیا۔ اصل Peer-Reviewed Study تحقیق کھولیں ↗ 🇺🇸 NYU Langone Health — تحقیق کرنے والے ادارے کی رپورٹ تحقیق کی سرکاری وضاحت، جس کے مطابق نارمل بلڈ پریشر، ذیابیطس سے محفوظ رہنا اور سگریٹ نوشی نہ کرنا تقریباً 13 اضافی ڈیمنشیا فری سال سے منسلک پایا گیا۔ تحقیق کرنے والا ادارہ اصل رپورٹ کھولیں ↗ 🇺🇸 NHLBI / NIH — ARIC طویل مدتی تحقیق امریکی نیشنل ہارٹ، لنگ اینڈ بلڈ انسٹی ٹیوٹ کا سرکاری صفحہ، جس میں Atherosclerosis Risk in Communities (ARIC) اسٹڈی کی ساخت، شرکا اور کئی دہائیوں پر محیط فالو اَپ کی تفصیلات موجود ہیں۔ بنیادی تحقیقی ڈیٹا ARIC تفصیلات کھولیں ↗
📰 آزاد صحافتی تصدیق
🇬🇧 The Guardian — تحقیق کی آزاد بین الاقوامی رپورٹ 12,409 افراد، تقریباً 26 سالہ فالو اَپ، 3,008 ڈیمنشیا کیسز اور صفر خطرات رکھنے والوں میں تقریباً 30 سال ڈیمنشیا سے پاک زندگی کے نتائج پر تفصیلی رپورٹ۔ معتبر ثانوی ماخذ رپورٹ کھولیں ↗
🧠 تحقیقی خلاصہ: اصل تحقیق میں 12,409 افراد کے طویل مدتی ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ جن افراد میں درمیانی عمر کے دوران ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور سگریٹ نوشی میں سے کوئی خطرہ موجود نہیں تھا، ان میں تینوں خطرات رکھنے والوں کے مقابلے میں تقریباً 13 سال زیادہ ڈیمنشیا سے پاک زندگی دیکھی گئی۔ یہ نتائج تعلق کو ظاہر کرتے ہیں، کسی فرد کے لیے الزائمر سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتے۔ BY: overseaspost.net