ہم عموماً بڑھاپے کی بیماریوں کے بارے میں اس وقت سوچتے ہیں جب عمر ڈھلنے لگتی ہے، لیکن دماغی صحت کی کہانی شاید اس سے کئی دہائیاں پہلے لکھی جارہی ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں
ایک نئی طویل مدتی تحقیق کے نتائج سے یہ اشارے ملے ہیں کہ 45 سے 65 سال کی عمر کے دوران کیے گئے 3 اہم فیصلے بعد کی زندگی میں ڈیمنشیا، بشمول الزائمر سے دُور رہنے کے عرصے میں نمایاں فرق ڈال سکتے ہیں۔
یہ تینوں عادات بظاہر سادہ ہیں۔ یعنی بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنا، ذیابیطس سے بچاؤ اور سگریٹ نوشی سے دُور رہنا۔
تحقیقی اعدادوشمار
تحقیق کا چونکا دینے والا حساب
تحقیق کا چونکا دینے والا حساب
سب سے بڑا تقابلی فرق
درمیانی عمر میں بنیادی صحت برقرار رکھنے والے اور تینوں بیماریوں کے خطرے میں مبتلا افراد کی ذہنی صحت کی عمر میں ناقابلِ یقین تفاوت۔
سگریٹ، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر سے پاک افراد 55 سال کی عمر کے بعد اوسطاً 30 سال سے زائد ڈیمنشیا کے بغیر جیتے ہیں۔
کسی ایک طبی یا حیاکاتی خطرے سے متاثرہ افراد کی محفوظ ذہنی زندگی کی اوسط مدت میں تقریباً 4 سال کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔
دو بنیادی خطرات لاحق ہونے کی صورت میں ڈیمنشیا سے پاک سالوں کی اوسط تعداد گھٹ کر صرف 21 سال رہ جاتی ہے۔
شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور تمباکو نوشی تینوں میں مبتلا افراد 55 کے بعد بمشکل 17 سال ہی ذہن کو بیماری سے محفوظ رکھ پاتے ہیں۔
12 ہزار افراد کا راز
امریکا کے NYU Langone Health سے وابستہ محققین نے 12 ہزار 409 ایسے افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جنہیں 55 سال کی عمر میں ڈیمنشیا نہیں تھا۔
ان تمام افراد کی اوسطاً 26 سال تک طبی نگرانی کی گئی۔
اس طویل عرصے کے دوران 3 ہزار 8 افراد ڈیمنشیا کا شکار ہوئے، جبکہ 5 ہزار 238 افراد اس بیماری میں مبتلا ہوئے بغیر انتقال کرگئے۔
محققین نے خاص طور پر 3 خطرات پر توجہ دی۔ یعنی ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور سگریٹ نوشی۔ اس کے نتیجے میں طبی نگرانی کے نتائج نے بالکل واضح فرق دکھایا۔
بڑھاپے میں یادداشت کی حفاظت
درمیانی عمر کی 3 عادات اور ڈیمنشیا سے پاک زندگی کی طویل مدتی تحقیق
45 سے 65 سال کی عمر کے دوران بلڈ پریشر، ذیابیطس اور سگریٹ نوشی سے بچاؤ دماغی صحت اور یادداشت کو 13 سال مزید محفوظ رکھ سکتا ہے۔
🔬 جامع طبی تحقیق
12,409افراد کے 26 سالہ طبی ڈیٹا کے جائزے سے ثابت ہوا کہ درمیانی عمر کی عادات یادداشت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔
💡 3 بنیادی احتیاطیں
3ہائی بلڈ پریشر پر قابو، ذیابیطس سے بچاؤ اور سگریٹ نوشی سے دُوری ڈیمنشیا کا خطرہ ڈرامائی حد تک کم کرتی ہے۔
❤️ دل اور دماغ کا تعلق
خون کی شریانوں کی صحت مستحکم رہنے سے دماغ کو مسلسل صاف خون کی فراہمی جاری رہتی ہے۔
⏳ بروقت تیاری کا پیغام
بڑھاپے میں الزائمر اور ڈیمنشیا سے بچاؤ کی تیاری 50 سال سے پہلے ہی شروع کرنا ضروری ہے۔
📊 خطرات کی تعداد اور ڈیمنشیا کے بغیر اوسط زندگی (سال)
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
30 سال بمقابلہ صرف 17 سال
55 سال کی عمر میں جن لوگوں کو ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر نہیں تھا اور وہ سگریٹ بھی نہیں پیتے تھے، انہوں نے اوسطاً مزید 30.1 سال ڈیمنشیا کے بغیر گزارے۔
ایک خطرہ رکھنے والوں کے لیے یہ مدت 26.3 سال، دو خطرات رکھنے والوں کے لیے 21 سال، جبکہ تینوں خطرات والے افراد کے لیے صرف 17 سال سے کچھ زیادہ رہی۔
یوں بہترین اور سب سے زیادہ خطرے والے گروپ کے درمیان ڈیمنشیا سے پاک زندگی کا فرق تقریباً 13 سال ہے۔
حیاکاتی تعامل
دل بچانے سے دماغ محفوظ رہے گا، دونوں میں کیا کنکشن ہے؟
دل بچانے سے دماغ محفوظ رہے گا، دونوں میں کیا کنکشن ہے؟
خون کی فراہمی میں رکاوٹ
ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس شریانوں کو سخت اور باریک بنا دیتے ہیں۔ جب دماغ کے خلیات کو متواتر اور صاف خون نہیں ملتا تو ان کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل تیز ہو جاتا ہے جو ڈیمنشیا کا باعث بنتا ہے۔
آکسیجن کی قلت اور سوزش
سگریٹ کا دھواں شریانوں میں سوجن اور نالیوں کے سکڑنے کا سبب بنتا ہے۔ یہ زہریلا مواد دماغی شریانوں کی لچک ختم کر کے الزائمر کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
طبی حقیقت: عروقی صحت (Vascular Health) کو درمیانی عمر میں برقرار رکھنا دراصل دماغ کو آئندہ دہائیوں میں ناکارہ ہونے اور الزائمر جیسے موذی مرض سے محفوظ رکھنے کی پہلی دفاعی لائن ہے۔
دل کی حفاظت، دماغ کا تحفظ
دل اور دماغ کا یہ تعلق محض اتفاق نہیں ہے۔
ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور سگریٹ نوشی خون کی شریانوں کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ دماغ کو مسلسل صحت مند خون کی فراہمی درکار ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین درمیانی عمر میں دل اور خون کی شریانوں کی صحت کو مستقبل کی دماغی صحت سے جوڑتے ہیں۔
تحقیق میں خواتین نے خطرات کی تعداد سے قطع نظر مردوں کے مقابلے میں زیادہ سال ڈیمنشیا کے بغیر گزارے۔ اسی طرح نسلی گروہوں کے درمیان بھی فرق سامنے آیا۔
اہم نتائج
تحقیق کے اندر سے کیا برآمد ہوا؟
تحقیق کے اندر سے کیا برآمد ہوا؟
مرکزی تحقیقی نکتہ
امریکی تحقیقی ادارے NYU Langone Health نے 12,409 افراد کا 26 سال تک مطالعہ کیا، جس کا بنیادی حاصل یہ ہے کہ بڑھاپے کی بھولنے کی بیماری کا علاج بڑھاپے میں نہیں بلکہ درمیانی عمر کے فیصلوں میں پوشیدہ ہے۔
صنفی تفاوت کے اثرات
خواتین نے خطرات کی تعداد سے قطع نظر مردوں کے مقابلے میں زیادہ سال ڈیمنشیا سے پاک زندگی کے ساتھ گزارے، جس پر مزید تحقیق جاری ہے۔
قابلِ اصلاح خطرات
اگرچہ جینیات اور عمر کنٹرول نہیں کیے جا سکتے، مگر بلڈ پریشر، شوگر اور تمباکو نوشی پر قابو پا کر مرض کو کئی سال پیچھے دھکیلا جا سکتا ہے۔
درمیانی عمر کی اہمیت
45 سے 65 سال کی عمر کا وقت دماغی صحت کے لیے سب سے زیادہ فیصلہ کن ہے؛ اسی دور کی غفلت بعد کے سالوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
روک تھام کی حکمت عملی
متوازن غذا، روزمرہ ورزش، باقاعدہ طبی معائنے اور سگریٹ سے پرہیز ذہنی سکت کو بڑھاپے تک برقرار رکھنے کی بہترین ترکیب ہے۔
بڑھاپے کی تیاری 50 کے بعد نہیں، پہلے!
اس تحقیق کا سب سے اہم پیغام شاید یہ نہیں کہ الزائمر کو مکمل طور پر روکا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیمنشیا کے پیچھے عمر، جینیاتی عوامل اور کئی دوسری وجوہات بھی کردار ادا کرتی ہیں۔
اصل پیغام یہ ہے کہ کچھ خطرات ایسے ہیں جن پر انسان اثرانداز ہوسکتا ہے۔
مثلاً متوازن غذا، جسمانی سرگرمی، بلڈ پریشر اور شوگر کی نگرانی اور سگریٹ سے دُوری صرف دل کے لیے نہیں، دماغ کے مستقبل کے لیے بھی اہم ہوسکتی ہے۔
یعنی بڑھاپے میں یادداشت محفوظ رکھنے کی تیاری شاید بڑھاپے میں نہیں، بلکہ درمیانی عمر ہی میں شروع ہوجاتی ہے۔