انسانی صحت اور طویل عمری کے لیے نیند کے مثالی دورانیے پر ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ رات کو 6.4 سے 7.8 گھنٹے تک کی نیند انسانی جسم اور دماغ کے لیے سب سے زیادہ مفید ثابت ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں
کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق اس مخصوص دورانیے سے کم یا زیادہ سونا نہ صرف حیاتیاتی بڑھاپے کے عمل کو غیر معمولی طور پر تیز کر دیتا ہے بلکہ اس کی وجہ سے انسان میں مختلف دائمی اور پیچیدہ امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
بڑھاپے کی رفتار اور نیند کے حوالے سے کیے گئے اس مطالعے کے دوران محققین نے تقریباً 5 لاکھ افراد کے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔
تحقیق کے دوران نیند کے معمولات اور جسمانی اعضا کی صحت کے درمیان تعلق کا موازنہ کیا گیا تاکہ نیند کے درست اور صحت مند دورانیے کا تعین کیا جا سکے۔
ماہرین کو نتائج سے یہ بات پتا چلی کہ جو لوگ روزانہ 6.4 سے 7.8 گھنٹے سوتے ہیں، ان میں بڑھاپے کی علامات سست روی سے ظاہر ہوتی ہیں اور ان کی عمومی صحت ان لوگوں کے مقابلے میں بہتر رہی جو اس سے کم یا زیادہ سوتے تھے۔
محققین کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی یا بے خوابی براہ راست ڈپریشن، ذہنی اضطراب، ذیابیطس ٹائپ ٹو اور ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
اس کے علاوہ اس کا گہرا تعلق دل، پھیپھڑوں اور نظام ہضم کی مختلف پیچیدگیوں سے بھی پایا گیا ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جونہاؤ وین کے مطابق نیند انسانی جسمانی افعال کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے کیونکہ اسی دوران میٹابولزم، مدافعتی نظام اور دیگر اندرونی عمل اپنی بحالی کا کام مکمل کرتے ہیں جو طویل عمری کے ضامن ہیں۔
محققین نے اس اہم نکتے پر بھی زور دیا ہے کہ نیند کی کمی محض بیماریوں کی براہ راست وجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ اکثر اوقات انسانی جسم میں پہلے سے موجود کسی پوشیدہ طبی مسئلے کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتی ہے جس پر توجہ دینا ضروری ہے۔