براہ راست نشریات

گھریلو ملازمین کے لیے 3 ماہ کا اقامہ، ہزاروں پاکستانیوں کو بڑی سہولت

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Saudi Iqama Renewal

سالانہ فیس کی یک مشت ادائیگی ختم، آجر کو آسانی، پاکستانی کارکن کو بروقت تجدید کی امید

سعودی عرب نے گھریلو ملازمین اور ان کے مساوی کارکنوں کے اقامے 3، 6، 9 یا 12 ماہ کے لیے جاری اور تجدید کرنے کی سہولت متعارف کرادی۔
اس فیصلے سے پرائیویٹ ڈرائیوروں، گھریلو ملازمین، مالیوں، چوکیداروں اور چرواہوں سمیت ہزاروں پاکستانی کارکنوں کا اقامہ بروقت تجدید ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
فیس آجر ہی ادا کرے گا اور مختصر اقامہ ملازمت کے معاہدے یا کارکن کے حقوق کو متاثر نہیں کرے گا۔

OVERSEAS POST  |  PREMIUM STORY
  • نیا طریقۂ کار اقامہ فیس میں کمی نہیں کرتا۔
  • آجر کو پورے سال کی فیس پیشگی ادا کرنے کی پابندی سے نجات دلاتا ہے۔
  • تجدید میں تاخیر کم اور پاکستانی ڈرائیوروں و گھریلو کارکنوں کا قانونی استحکام بہتر ہوسکتا ہے۔

سعودی عرب میں کسی پاکستانی ڈرائیور یا گھریلو ملازم کا اقامہ ختم ہوجائے تو تجدید کی فیس ادا کرنا قانونی طور پر آجر کی ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن اس عمل میں تاخیر کے عملی نتائج سب سے پہلے کارکن کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

اقامہ ہی وہ بنیادی قانونی دستاویز ہے جس پر کارکن کی مملکت میں رہائش، ملازمت، نقل و حرکت، سفر اور روزمرہ کے متعدد سرکاری و ڈیجیٹل معاملات کا انحصار ہوتا ہے۔

اسی لیے گھریلو ملازمین کے اقامے 3 ماہ یا اس کے مضارب میں جاری اور تجدید کرنے کا نیا سعودی فیصلہ محض آجروں کے لیے مالی سہولت نہیں، بلکہ ان ہزاروں پاکستانی کارکنوں کے لیے بھی براہِ راست اہمیت رکھتا ہے جو مملکت میں پرائیویٹ ڈرائیور، گھریلو ملازم، باورچی، مالی، چوکیدار یا چرواہے کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تجدید کے وقت مطلوبہ رقم کم ہونے سے اس بات کا امکان بڑھ سکتا ہے کہ آجر اقامہ بروقت تجدید کرائے۔ 

یوں کارکن کے اقامے کی تجدید میں تاخیر اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قانونی و انتظامی مشکلات کو کم کیا جاسکتا ہے۔

اہم نکات

1

گھریلو ملازمین کا اقامہ کم از کم تین ماہ کے لیے جاری یا تجدید ہوسکے گا۔

2

آجر تین، چھ، نو یا بارہ ماہ میں سے اپنی ضرورت کے مطابق مدت منتخب کرسکے گا۔

3

یہ فیس میں کمی نہیں، بلکہ سالانہ ادائیگی کو مختصر مدتوں میں تقسیم کرنے کی سہولت ہے۔

4

اقامہ جاری اور تجدید کرانے کی فیس ادا کرنا قانونی طور پر آجر کی ذمہ داری ہے۔

5

تین ماہ کا اقامہ کارکن کے ملازمت کے معاہدے یا قانونی حقوق کو مختصر نہیں کرے گا۔

6

پرائیویٹ ڈرائیور، گھریلو ملازم، مالی، چوکیدار اور چرواہے بھی فیصلے میں شامل ہیں۔

7

نیا نظام 2021 سے گھریلو ملازمین پر عائد سہ ماہی تجدید کا استثنا ختم کرتا ہے۔

8

بروقت تجدید سے ہزاروں پاکستانی کارکنوں کی قانونی حیثیت اور ملازمت کا تسلسل بہتر ہوسکتا ہے۔

سعودی عرب نے کیا فیصلہ کیا ہے؟

سعودی وزارتِ داخلہ نے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس، یعنی محکمہ جوازات، کے ذریعے وزارتِ افرادی قوت و سماجی ترقی اور گھریلو ملازمین کی قومی ریکروٹمنٹ پلیٹ فارم مساند کے تعاون سے نیا طریقۂ کار نافذ کرنا شروع کردیا ہے۔

اس کے تحت گھریلو ملازمین اور ان کے زمرے میں شامل دیگر کارکنوں کے اقامے کم از کم 3 ماہ کے لیے جاری یا تجدید کیے جاسکیں گے۔

نئے نظام میں آجر اپنی ضرورت کے مطابق مدت منتخب کرکے صرف اسی مدت کی فیس ادا کرسکے گا۔ 

اب اس کے لیے لازمی نہیں ہوگا کہ وہ ہر حال میں پورے سال کی اقامہ فیس ایک ہی مرتبہ پیشگی ادا کرے۔

اس طرح اقامہ درج ذیل مدت کے لیے جاری یا تجدید کیا جاسکتا ہے:

  • 3 ماہ
  • 6 ماہ
  • 9 ماہ
  • 12 ماہ

تاہم یہاں ایک بنیادی نکتے کو سمجھنا ضروری ہے: 

یہ فیصلہ فیس میں کمی نہیں بلکہ ادائیگی کو قسطوں میں تقسیم کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

اگر کوئی ملازم پورا سال ایک ہی آجر کے پاس کام کرتا ہے تو مختلف سہ ماہی مدتوں میں ادا کی جانے والی مجموعی بنیادی فیس ایک سال کی فیس کے برابر ہی ہوگی۔ 

اصل فرق صرف یہ ہے کہ آجر کو پوری رقم ایک ہی وقت میں ادا نہیں کرنا پڑے گی۔

65465446

2021 سے جاری استثنا ختم

اس فیصلے کی اصل اہمیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے کئی سال سے موجود ایک استثنا ختم کردیا گیا ہے۔

سعودی عرب نے 2021 میں اداروں اور کمپنیوں سے وابستہ غیرملکی کارکنوں کے اقاموں، ورک پرمٹ اور مالی واجبات کی سہ ماہی بنیاد پر ادائیگی کی اجازت دی تھی۔ 

اس نظام کے تحت کم از کم تین ماہ کے لیے اقامہ جاری یا تجدید کیا جاسکتا تھا۔

لیکن گھریلو ملازمین اور ان کے مساوی کارکنوں کو اس سہولت سے واضح طور پر مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ ان کے اقامے کی تجدید کے لیے سالانہ فیس کی ادائیگی ضروری تھی۔

وزارتِ افرادی قوت و سماجی ترقی کی سرکاری دستاویز میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ 2021 میں شروع کی گئی سہ ماہی ادائیگی کی سہولت گھریلو ملازمین پر لاگو نہیں ہوگی۔ 

نیا فیصلہ اب اسی استثنا کو ختم کرکے گھریلو شعبے کو بھی سہ ماہی تجدید کے نظام میں شامل کرتا ہے۔

سادہ الفاظ میں، سعودی عرب نے تین ماہ کے اقامے کا تصور پہلی مرتبہ متعارف نہیں کرایا، بلکہ پہلے سے موجود سہولت کا دائرہ گھریلو ملازمین تک وسیع کردیا ہے۔ 

آجر کو کتنی رقم ادا کرنا ہوگی؟

سرکاری ابشر گائیڈ کے مطابق گھریلو ملازم کے اقامے کی بنیادی سالانہ فیس تقریباً 600 ریال ہے۔ 

سالانہ فیس کو منتخب مدت کے تناسب سے تقسیم کیا جائے تو ابتدائی تخمینہ کچھ یوں بنتا ہے:

اقامہ کی مدت اور متوقع فیس

600 ریال سالانہ بنیادی فیس کی بنیاد پر تخمینی تقسیم

اقامے کی مدت متوقع بنیادی فیس
3 ماہ 150 ریال
6 ماہ 300 ریال
9 ماہ 450 ریال
12 ماہ 600 ریال
اہم وضاحت: یہ اعداد سالانہ بنیادی فیس کی متناسب تقسیم پر مبنی تخمینے ہیں۔ حتمی رقم وہی ہوگی جو سروس استعمال کرتے وقت سرکاری پلیٹ فارم پر ظاہر ہو۔

یہ اعداد سرکاری گائیڈ میں درج 600 ریال سالانہ فیس کی بنیاد پر کیے گئے وضاحتی تخمینے ہیں۔ 

حتمی اور قابلِ ادائیگی رقم وہی ہوگی جو سروس استعمال کرتے وقت متعلقہ سرکاری پلیٹ فارم پر دکھائی جائے گی۔

مثال کے طور پر، ایک پرائیویٹ ڈرائیور رکھنے والا آجر پورے سال کے 600 ریال پیشگی ادا کرنے کے بجائے تقریباً 150 ریال ادا کرکے 3 ماہ کے لیے اقامہ تجدید کراسکتا ہے۔

 

اسی طرح دو گھریلو ملازمین رکھنے والے آجر کو سالانہ 1,200 ریال ایک ساتھ ادا کرنے کے بجائے پہلے 3 ماہ کے لیے تقریباً 300 ریال ادا کرنا ہوں گے۔

اس فرق کو مستقل بچت نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ کارکنوں کے پورا سال ملازمت میں رہنے کی صورت میں باقی فیس بعد کی مدتوں میں ادا کرنا ہوگی۔ 

البتہ آجر کو اخراجات تقسیم کرنے اور عارضی طور پر اپنی نقد رقم دوسرے مالی واجبات کے لیے استعمال کرنے کی سہولت ضرور مل جائے گی۔

اقامہ فیس ادا کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟

نئی سہولت آجر کو دی گئی ہے، کیونکہ گھریلو ملازم اپنے اقامے کی فیس ادا کرنے کا قانونی طور پر ذمہ دار نہیں۔

سعودی وزارتِ افرادی قوت کی جاری کردہ گھریلو ملازمین کے حقوق و فرائض سے متعلق دستاویز کے مطابق آجر پر کارکن کی ریکروٹمنٹ، اقامہ، ورک پرمٹ اور ان کی تجدید کی فیس ادا کرنا لازم ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ اقامے کی سہ ماہی تجدید کی سہولت ملنے کے بعد بھی آجر اس کی فیس کارکن کے ذمے نہیں ڈال سکتا اور نہ محض اس بنیاد پر اس کی تنخواہ سے رقم کاٹنا درست ہوگا۔

پاکستانی کارکنوں کے لیے فیصلہ کیوں اہم ہے؟

سعودی عرب میں بڑی تعداد میں پاکستانی شہری گھریلو شعبے سے وابستہ ہیں۔ 

ان میں بالخصوص پرائیویٹ ڈرائیور، گھریلو کارکن، باورچی، مالی، چوکیدار اور چرواہے شامل ہیں۔

پاکستان کے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے سرکاری ریکارڈ میں بھی سعودی عرب کے لیے پرائیویٹ ڈرائیور، گھریلو ملازم اور مویشیوں کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کی بھرتیوں اور ملازمتوں کا تسلسل نظر آتا ہے۔

 

پاکستانی کارکن کو اس فیصلے سے براہِ راست مالی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ اقامہ فیس آجر ادا کرتا ہے، تاہم اس کے کئی اہم بالواسطہ فوائد ہوسکتے ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے؟

سعودی عرب میں ہزاروں پاکستانی پرائیویٹ ڈرائیور، گھریلو ملازم اور دیگر گھریلو پیشوں سے وابستہ ہیں۔ اگرچہ اقامہ فیس آجر ادا کرتا ہے، لیکن تجدید میں تاخیر کا سب سے بڑا عملی نقصان کارکن کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

کم مدت کی فیس بروقت اقامہ تجدید کرانے میں مدد دے سکتی ہے۔
کارکن کی قانونی حیثیت، ملازمت اور روزمرہ معاملات کا تسلسل برقرار رہ سکتا ہے۔
سالانہ فیس ایک ساتھ ادا نہ کرسکنے والا آجر تین ماہ کی تجدید کراسکے گا۔
پاکستان میں کارکن کے خاندان کا مالی استحکام بھی اس کی قانونی ملازمت سے وابستہ ہے۔

سب سے پہلا فائدہ یہ ہے کہ کم مدت کی فیس ادا کرنے کی سہولت آجر کو بروقت تجدید پر آمادہ کرسکتی ہے۔ 

اگر پورے سال کی فیس ایک ساتھ دستیاب نہ ہو تو اب وہ کم از کم تین ماہ کے لیے اقامہ تجدید کراسکے گا۔

دوسرا فائدہ کارکن کی قانونی حیثیت کے تسلسل سے متعلق ہے۔ 

مؤثر اقامہ کارکن کو سرکاری و ڈیجیٹل معاملات مکمل کرنے، اپنی ملازمت کو قانونی طور پر جاری رکھنے اور اقامہ نمبر سے منسلک خدمات استعمال کرنے میں مدد دیتا ہے۔

مثال کے طور پر، وزارتِ افرادی قوت کے مطابق ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے گھریلو ملازمین کی تنخواہ منتقل کرنے کے لیے کارکن کے اقامے سے منسلک نمبر اور مساند پر دستاویزی معاہدے کا ہونا ضروری ہے۔ 

تیسرا فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ تجدید میں تاخیر کے باعث کارکن کے غیرمنظم یا غیرقانونی حیثیت میں رہنے کا عرصہ کم ہوجائے۔ 

ایسی صورتِ حال میں اکثر کارکن براہِ راست ذمہ دار نہیں ہوتا، لیکن اس کے نتائج پھر بھی اسی کی روزمرہ زندگی اور ملازمت پر مرتب ہوتے ہیں۔

کیا تین ماہ کا اقامہ ملازمت کا معاہدہ بھی مختصر کردے گا؟

اس کا واضح جواب ہے: نہیں۔

اقامے کی مدت اور ملازمت کے معاہدے کی مدت دو الگ معاملات ہیں۔ کسی کارکن کا اقامہ تین ماہ کے لیے مؤثر ہوسکتا ہے، جبکہ اس کا مساند پر درج ملازمت کا معاہدہ ایک یا دو سال کے لیے جاری رہ سکتا ہے۔

مختصر مدت کے اقامے سے آجر کو یہ حق حاصل نہیں ہوجاتا کہ وہ ہر تین ماہ بعد یک طرفہ طور پر ملازمت کا معاہدہ ختم کردے۔

اسی طرح اس فیصلے سے کارکن کی تنخواہ، ہفتہ وار آرام، سالانہ چھٹی، طبی سہولت، سفری ٹکٹ یا دوسرے قانونی و معاہداتی حقوق متاثر نہیں ہوتے۔

نیا فیصلہ صرف اقامے کی مدت اور اس کی فیس وصول کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق ہے، آجر اور کارکن کے درمیان ملازمت کے بنیادی تعلق کو تبدیل نہیں کرتا۔

تین ماہ کی تجدید کب زیادہ مفید ہوگی؟

3 ماہ کا آپشن اس وقت زیادہ مفید ہوسکتا ہے جب کارکن کا معاہدہ ختم ہونے کے قریب ہو، اس کے فائنل ایگزٹ کی تیاری جاری ہو، کفالت یا خدمات کی منتقلی زیرِ غور ہو، یا آئندہ پورے سال تک ملازمت جاری رہنے کا فیصلہ ابھی نہ ہوا ہو۔

یہ سہولت ان خاندانوں کے لیے بھی اہم ہے جن کے پاس ایک سے زیادہ گھریلو ملازمین ہیں۔ وہ تمام کارکنوں کی سالانہ فیس ایک ساتھ ادا کرنے کے بجائے تجدید کے اوقات اور اخراجات مختلف مدتوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔

اس کے برعکس اگر کارکن کے پورا سال ملازمت جاری رکھنے کا فیصلہ واضح ہو تو سالانہ تجدید زیادہ آسان ثابت ہوسکتی ہے، کیونکہ اس میں بار بار تاریخِ اختتام کی نگرانی اور سال میں متعدد مرتبہ تجدید کا عمل مکمل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

نئی لچک کو لاپروائی یا تاخیر کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ 

سہ ماہی تجدید کا مطلب یہ بھی ہے کہ آجر کو سال میں زیادہ مرتبہ اقامے کی میعاد پر نظر رکھنا ہوگی۔

فیکٹ باکس

کم از کم مدت 3 ماہ
دستیاب مدتیں 3، 6، 9، 12 ماہ
سالانہ بنیادی فیس 600 ریال
3 ماہ کا تخمینہ 150 ریال
فیس کون ادا کرے گا؟ آجر
کیا فیس کم ہوئی؟ نہیں
کیا معاہدہ مختصر ہوگا؟ نہیں
متعلقہ ادارے جوازات، مساند

’گھریلو ملازمین اور ان کے مساوی کارکنوں‘ میں کون شامل ہے؟

سرکاری ضوابط کے مطابق گھریلو ملازم سے مراد ہر وہ شخص ہے جو آجر یا اس کے اہلِ خانہ کو براہِ راست یا بالواسطہ گھریلو خدمات فراہم کرے اور کام کے دوران آجر کی نگرانی میں ہو۔

اس زمرے میں بنیادی طور پر شامل ہیں:

  • مرد یا خاتون گھریلو ملازم
  • پرائیویٹ ڈرائیور
  • مالی
  • گھریلو چوکیدار
  • چرواہا
  • دیگر منظور شدہ گھریلو پیشے

ابشر گائیڈ کے مطابق گھریلو ملازمین کے اقامے جاری یا تجدید کرانے والا مستفید سعودی شہری یا ایسا قانونی مقیم بھی ہوسکتا ہے جس کا ابشر اکاؤنٹ فعال ہو اور اس کے نام پر گھریلو ملازم رجسٹرڈ ہو۔

اس طرح یہ فیصلہ صرف سعودی خاندانوں تک محدود نہیں، بلکہ ان اہل غیرملکی مقیم خاندانوں کو بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے جن کے نام پر گھریلو ملازمین قانونی طور پر رجسٹرڈ ہیں۔

فیصلہ کن امور کو تبدیل نہیں کرتا؟

نیا فیصلہ اقامے کے اجرا اور تجدید کی بنیادی شرائط ختم نہیں کرتا۔ اس سے سابقہ جرمانے یا واجبات معاف نہیں ہوں گے، جبکہ ریکروٹمنٹ فیس، کارکن کی تنخواہ، انشورنس اور سفری ٹکٹ کے اخراجات بھی اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔

اقامے کی تجدید کے لیے کارکن کا پاسپورٹ مؤثر ہونا، سسٹم میں اس کی تصویر اور فنگر پرنٹ دستیاب ہونا، اس کے خلاف غیرحاضری یا فرار کی رپورٹ درج نہ ہونا اور متعلقہ فیس، جرمانے یا ٹریفک خلاف ورزیاں ادا ہونا ضروری ہے۔

6545646

ابتدائی سرکاری اعلان میں نئے اصول اور اس کے نفاذ کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم رپورٹ کی تیاری تک تمام عملی مراحل اور ممکنہ صورتوں کی وضاحت پر مشتمل الگ تفصیلی گائیڈ جاری نہیں کیا گیا۔

اسی لیے آجر کو وہی مدت، رقم اور طریقۂ کار اختیار کرنا چاہیے جو سرکاری پلیٹ فارمز پر اس کے اکاؤنٹ میں ظاہر ہو۔

محض مالی سہولت سے بڑا فیصلہ

اس فیصلے کی اصل اہمیت صرف 600 ریال کو چھوٹی ادائیگیوں میں تقسیم کرنے تک محدود نہیں۔ 

یہ اقامے کی فیس کو آجر کی حقیقی ضرورت اور منتخب مدت سے جوڑتا، گھریلو ملازمین پر عائد سابق استثنا ختم کرتا اور جوازات و مساند کے درمیان ڈیجیٹل انضمام کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

سعودی عرب میں کام کرنے والے ہزاروں پاکستانی گھریلو کارکنوں کے لیے اس فیصلے کا مطلب نہ تنخواہ میں براہِ راست اضافہ ہے اور نہ ملازمت کی لاگت میں کمی۔

البتہ یہ ان کے لیے اس سے کہیں زیادہ اہم معاملے کے تحفظ میں مدد دے سکتا ہے: اقامے کا مسلسل مؤثر رہنا اور سالانہ فیس ایک ساتھ ادا کرنے کے دباؤ کی وجہ سے تجدید کا عمل معطل نہ ہونا۔

یہ سہولت بنیادی طور پر آجر کی مالی ذمہ داری آسان بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے، لیکن اس کا عملی فائدہ پاکستانی کارکن اور پاکستان میں مقیم اس کے خاندان تک بھی پہنچ سکتا ہے، جس کی مالی زندگی مملکت میں کارکن کی قانونی، محفوظ اور مستحکم ملازمت سے وابستہ ہے۔

📚 رپورٹ کے اصل اور معتبر ذرائع VERIFIED SOURCES گھریلو ملازمین کے سہ ماہی اقامے، فیس، سرکاری ضوابط، مساند اور پاکستانی کارکنوں سے متعلق بنیادی حوالہ جات 9 معتبر ذرائع
نیا فیصلہ اور اس کے نفاذ کی تفصیلات
عکاظ — سعودی وزارتِ داخلہ اور وزارتِ افرادی قوت کا نیا اعلان گھریلو ملازمین اور ان کے مساوی کارکنوں کے اقامے تین ماہ یا اس کے مضارب میں جاری اور تجدید کرنے، جبکہ منتخب مدت کی فیس الگ ادا کرنے کی بنیادی خبر۔ بنیادی خبر اصل رپورٹ کھولیں ↗ صحیفہ عاجل — گھریلو ملازمین کا اقامہ تین ماہ سے شروع جوازات، وزارتِ افرادی قوت اور مساند کے تعاون سے سہ ماہی بنیاد پر اقامہ جاری کرنے، تجدید اور فیس ادا کرنے کی مکمل وضاحت۔ فیصلے کی تفصیل اصل رپورٹ کھولیں ↗
سابق حکومتی فیصلہ اور سہ ماہی قواعد
سعودی وزارتِ داخلہ — 2021 کے کابینہ فیصلے کا سرکاری متن ورک پرمٹ سے منسلک اقاموں کی سہ ماہی تجدید کی اجازت اور گھریلو ملازمین کو سابقہ استثنا دینے سے متعلق اصل حکومتی فیصلہ۔ سرکاری فیصلہ سرکاری متن کھولیں ↗ سعودی وزارتِ افرادی قوت — اقامہ اور ورک پرمٹ فیس کی تقسیم تین ماہ کی تجدید، فیس کی سہ ماہی تقسیم اور گھریلو ملازمین کے سابق استثنا سے متعلق قواعد و ضوابط۔ سرکاری ضابطہ اصل دستاویز کھولیں ↗
اقامہ فیس اور آجر کی ذمہ داری
ابشر — گھریلو ملازمین کے اقامے کی سالانہ بنیادی فیس سرکاری سروس گائیڈ میں گھریلو ملازمین کے اقامے کی بنیادی سالانہ فیس 600 ریال درج ہے۔ سہ ماہی اعداد اسی رقم کی متناسب تقسیم پر مبنی ہیں۔ سرکاری PDF گائیڈ گائیڈ کھولیں ↗ سعودی وزارتِ افرادی قوت — اقامہ فیس ادا کرنا آجر کی ذمہ داری سرکاری حقوق و فرائض کی دستاویز کے مطابق اقامہ، ورک پرمٹ، ان کی تجدید اور متعلقہ اخراجات کی ادائیگی آجر پر لازم ہے۔ حقوق و فرائض سرکاری دستاویز کھولیں ↗
گھریلو ملازمین کی تعریف اور مساند خدمات
سعودی وزارتِ افرادی قوت — گھریلو ملازمین کے ضوابط گھریلو ملازم، پرائیویٹ ڈرائیور، مالی، گھریلو چوکیدار اور ان کے مساوی پیشوں کی سرکاری تعریف اور قانونی دائرۂ کار۔ سرکاری تعریف ضوابط کھولیں ↗ مساند — گھریلو ملازمین کی سرکاری قومی پلیٹ فارم گھریلو ملازمین کی بھرتی، معاہدوں، خدمات کی منتقلی، شکایات اور متعلقہ انتظامی خدمات کے لیے سرکاری پلیٹ فارم۔ سرکاری پلیٹ فارم مساند کھولیں ↗
پاکستانی کارکنوں سے متعلق سرکاری ماخذ
پاکستان بیورو آف امیگریشن — سعودی عرب میں پاکستانی کارکنوں کی ملازمتیں پرائیویٹ ڈرائیور، گھریلو ملازم، باورچی، چرواہے اور دیگر پیشوں میں پاکستانی کارکنوں کی بھرتی اور بیرون ملک ملازمتوں کا سرکاری ریکارڈ۔ پاکستانی سرکاری ماخذ سرکاری ریکارڈ کھولیں ↗
ℹ️ فیس سے متعلق ضروری وضاحت
150، 300 اور 450 ریال کے اعداد الگ سرکاری فیس کے طور پر جاری نہیں کیے گئے، بلکہ ابشر گائیڈ میں درج 600 ریال کی سالانہ بنیادی فیس کو تین، چھ اور نو ماہ کے تناسب سے تقسیم کرکے تخمینہ لگایا گیا ہے۔
3 ماہ تقریباً 150 ریال
6 ماہ تقریباً 300 ریال
9 ماہ تقریباً 450 ریال
12 ماہ 600 ریال
ادارتی نوٹ: اس رپورٹ کی تیاری میں سعودی وزارتِ داخلہ، وزارتِ افرادی قوت، ابشر، مساند، عکاظ، صحیفہ عاجل اور پاکستان بیورو آف امیگریشن کے اصل اور معتبر ذرائع سے استفادہ کیا گیا ہے۔ فیس، خدمات یا طریقۂ کار میں تبدیلی کی صورت میں متعلقہ سرکاری پلیٹ فارم کی تازہ ہدایات کو حتمی حیثیت حاصل ہوگی۔ BY: overseaspost.net