ریاض میں 43 ممالک اور یورپی یونین کے نمائندوں کا اجلاس، مرکزی ہیڈکوارٹر بھی مملکت میں قائم کیا جائے گا
سعودی عرب نے بحیرۂ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو حوثی حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے پاکستان، امریکا، مصر اور ترکی سمیت تقریباً 50 ممالک کو نئے بحری اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔
اتحاد کا مرکز ریاض اور قیادت سعودی عرب کے پاس ہوگی، تاہم اس کے باضابطہ نام، مکمل رکنیت اور عسکری قواعد کا سرکاری اعلان ابھی سامنے نہیں آیا۔
سعودی عرب نے باب المندب، بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کی جانب باضابطہ قدم اٹھا دیا ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ریاض میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی اجلاس میں مختلف ممالک کے چیفس آف اسٹاف، عسکری نمائندوں اور یورپی یونین کے وفد نے شرکت کی۔
سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں 43 ممالک کے نمائندے شریک ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر 51 ممالک اور متعلقہ بین الاقوامی فریقوں کو دعوت دی گئی تھی۔
اجلاس کا بنیادی مقصد سعودی عرب کی جانب سے پیش کردہ کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کی تجویز پر مشاورت، اس کا ادارہ جاتی ڈھانچہ تیار کرنا اور مستقبل کے عملی طریقۂ کار پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا تھا۔
یہ پیش رفت ان ابتدائی اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایک وسیع بین الاقوامی اتحاد کے قیام پر مختلف ممالک سے رابطے کر رہا ہے۔
تاہم اب معاملہ محض سفارتی مشاورت یا مجوزہ منصوبے تک محدود نہیں رہا۔
سعودی وزارتِ دفاع کے اعلان اور ریاض اجلاس نے اسے باقاعدہ تاسیسی مرحلے میں داخل کردیا ہے۔
مزید پڑھیں
پاکستان سمیت 14 ممالک کی حمایت
اجلاس کے اختتام پر 14 شریک ممالک نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے منصوبے کی حمایت کی۔
ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔
سعودی بیان میں بتایا گیا کہ دیگر ممالک اتحاد میں شمولیت کے لیے اپنی قومی منظوریوں کا عمل مکمل کر رہے ہیں۔
پاکستان کی حمایت اس پیش رفت کا ایک اہم پہلو ہے۔
ابتدائی میڈیا رپورٹوں میں اسلام آباد کو اتحاد میں شمولیت کی دعوت دیئے جانے کا ذکر موجود تھا، لیکن پاکستان کے فیصلے کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
نئے بیان کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان ان 14 ممالک میں شامل ہے جنہوں نے سعودی منصوبے کی حمایت کا باضابطہ اظہار کیا ہے۔
★اہم ترین نکات⌄
- سعودی عرب نے کثیرقومی بحری دفاعی اتحاد کا رسمی منصوبہ پیش کردیا۔
- ریاض اجلاس میں 43 ممالک اور یورپی یونین کے نمائندے شریک ہوئے۔
- پاکستان سمیت 14 ممالک نے منصوبے کی حمایت کی ہے۔
- اتحاد کی قیادت سعودی عرب کرے گا اور مرکزی ہیڈکوارٹر بھی مملکت میں ہوگا۔
- مجوزہ دائرۂ کار باب المندب، بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن ہوگا۔
- اتحاد ابھی تأسیسی مرحلے میں ہے؛ عملی بحری آپریشن شروع نہیں ہوا۔
تاہم ’منصوبے کی حمایت‘ اور مکمل عملی رکنیت کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
کسی فوجی اتحاد میں باقاعدہ شمولیت، بحری اثاثے فراہم کرنے اور عملی ذمہ داریاں قبول کرنے کے لیے بعض ممالک کو داخلی قانونی، پارلیمانی یا حکومتی منظوری درکار ہوسکتی ہے۔
اس لیے موجودہ مرحلے پر زیادہ درست بات یہ ہے کہ 14 ممالک نے اتحاد کے قیام کی حمایت کردی ہے، جبکہ ان کی فوجی شراکت، بحری اثاثوں اور عملی ذمہ داریوں کی تفصیلات آئندہ طے کی جائیں گی۔
سعودی عرب بانی اور قائد ہوگا
ریاض اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سعودی عرب نئے اتحاد کی بانی اور قائد ریاست ہوگا، جبکہ اس کا مرکزی ہیڈ کوارٹر بھی مملکت میں قائم کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ بحیرۂ احمر کے سعودی ساحل، اہم بندرگاہوں، توانائی کی برآمدات اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کے تحفظ میں ریاض کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔
اجلاس میں اتحاد کے مجوزہ میثاق، تنظیمی ڈھانچے، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے انتظامات اور مستقبل کے عملی منصوبوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی اعلان کے ساتھ اتحاد کے عسکری اور انتظامی ڈھانچے کی تیاری بھی شروع ہوچکی ہے۔
▦فیکٹ باکس⌄
تاہم اتحاد نے ابھی باقاعدہ بحری آپریشن شروع نہیں کیا۔
میثاق کی حتمی منظوری، کمانڈ کے درجات، رکن ممالک کی ذمہ داریوں، بحری اثاثوں کی فراہمی، قواعدِ کار اور کسی خطرے کی صورت میں مشترکہ ردعمل کا طریقہ ابھی مکمل ہونا باقی ہے۔
اتحاد کہاں کام کرے گا؟
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق نئے اتحاد کی توجہ 3 اہم سمندری علاقوں پر مرکوز ہوگی:
- باب المندب
- بحیرۂ احمر
- خلیجِ عدن
یہ سمندری راستہ ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کے درمیان تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔
باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور بحیرۂ عرب سے ملاتا ہے، جبکہ شمال میں یہی راستہ نہرِ سویز کے ذریعے بحیرۂ روم اور یورپی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
اس علاقے میں کسی طویل رکاوٹ کی صورت میں بحری جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے، جس سے ایندھن، انشورنس اور سامان کی ترسیل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
!یہ خبر کیوں اہم ہے؟⌄
- شپنگ اور انشورنس کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
- تیل اور درآمدی اشیا کی قیمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
- نہرِ سویز اور عالمی سپلائی چین پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
- سعودی بندرگاہوں اور توانائی کی برآمدات کو اضافی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
حالیہ عرصے میں حوثی حملوں، میزائلوں، ڈرونز اور تجارتی جہاز رانی کو دی جانے والی دھمکیوں نے اس سمندری گزرگاہ کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
سعودی اقدام کا مقصد ان خطرات کے خلاف انفرادی کارروائیوں کے بجائے ایک منظم، کثیر القومی اور مستقل دفاعی فریم ورک قائم کرنا ہے۔
پاکستان کیا کردار ادا کرسکتا ہے؟
پاکستانی بحریہ بین الاقوامی بحری تعاون اور مشترکہ ٹاسک فورسز میں طویل تجربہ رکھتی ہے۔ پاکستان 2004 سے کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے ساتھ کام کر رہا ہے اور ٹاسک فورس 150 سمیت مختلف بحری مشنز کی کئی مرتبہ قیادت بھی کرچکا ہے۔
اس تجربے کی بنیاد پر پاکستان نئے اتحاد کو متعدد شعبوں میں تعاون فراہم کرسکتا ہے، جن میں شامل ہیں:
- بحری نگرانی اور گشت
- انٹیلی جنس اور معلومات کا تبادلہ
- تجارتی جہازوں کا تحفظ
- انسدادِ اسمگلنگ آپریشنز
- مشترکہ تربیت اور کمانڈ
- سمندری خطرات کی بروقت شناخت
⚓پاکستان کا ممکنہ کردار⌄
- بحری نگرانی، گشت اور خطرات کی شناخت
- انٹیلی جنس اور آپریشنل معلومات کا تبادلہ
- تجارتی جہازوں کا تحفظ اور انسدادِ اسمگلنگ
- مشترکہ تربیت اور کمانڈ اینڈ کنٹرول
پاکستان کے لیے بحیرۂ عرب، خلیجِ عدن اور باب المندب کی سلامتی براہِ راست اقتصادی اہمیت رکھتی ہے۔
پاکستان کی توانائی درآمدات اور یورپ و مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تجارت کا بڑا حصہ انہی سمندری راستوں سے منسلک ہے۔
جہاز رانی کے اخراجات یا انشورنس پریمیم میں اضافہ پاکستان میں درآمدی ایندھن، صنعتی خام مال اور صارفین کی اشیا کی قیمتوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔
اسی طرح سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے لیے بھی دونوں ملکوں کا دفاعی تعاون خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ پاکستان اتحاد کو جنگی بحری جہاز فراہم کرے گا، اس کا کردار انٹیلی جنس اور تربیتی تعاون تک محدود رہے گا یا پاک بحریہ کسی مخصوص ٹاسک فورس کی ذمہ داری سنبھالے گی۔
موجودہ بحری مشنز سے کیا فرق ہوگا؟
بحیرۂ احمر اور اس کے آس پاس پہلے ہی متعدد بین الاقوامی بحری انتظامات موجود ہیں۔
ان میں کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کی ٹاسک فورس 153، امریکا کی زیرِ قیادت آپریشن پراسپیریٹی گارڈین اور یورپی یونین کا آپریشن ایسپائیڈز شامل ہیں۔
۞سعودی عرب میں پاکستانیوں کے لیے⌄
نیا اتحاد اس لحاظ سے مختلف ہوگا کہ اس کی بنیاد اور قیادت سعودی عرب کے پاس ہوگی اور اس کا مرکزی ہیڈکوارٹر بھی مملکت میں قائم کیا جائے گا۔
اس میں عرب، اسلامی، افریقی اور ایشیائی ممالک کی نمایاں شرکت متوقع ہے۔
یہ اتحاد موجودہ بحری مشنز کی جگہ لینے کے بجائے ان کے ساتھ معلومات کے تبادلے، ذمہ داری کے علاقوں کی تقسیم اور مشترکہ نگرانی کے ذریعے تعاون کرسکتا ہے۔
البتہ عملی ہم آہنگی ایک اہم امتحان ہوگی۔
ایک ہی سمندری علاقے میں متعدد اتحادوں اور بحری فورسز کی موجودگی کے باعث کمانڈ، ذمہ داریوں اور قواعدِ عمل میں وضاحت ضروری ہوگی، تاکہ کارروائیوں میں تکرار یا باہمی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
کیا تصدیق ہوچکی ہے؟
اب یہ باضابطہ طور پر تصدیق شدہ ہے کہ:
- سعودی عرب نے کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
- ریاض میں بین الاقوامی تاسیسی اجلاس منعقد ہوا۔
- اجلاس میں 43 ممالک اور یورپی یونین کے نمائندوں نے شرکت کی۔
- پاکستان سمیت 14 ممالک نے منصوبے کی حمایت کی۔
- سعودی عرب اتحاد کا بانی اور قائد ہوگا۔
- اتحاد کا مرکزی ہیڈکوارٹر سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔
- دوسرے ممالک اپنی قومی منظوریوں کا عمل مکمل کر رہے ہیں۔
≠موجودہ بحری مشنز سے فرق⌄
- کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کی ٹاسک فورس 153
- آپریشن پراسپیریٹی گارڈین
- یورپی یونین کا آپریشن ایسپائیڈز
کون سی تفصیلات ابھی باقی ہیں؟
اتحاد کے حوالے سے ابھی کئی اہم امور کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، جن میں حتمی رکن ممالک کی فہرست، ہر ملک کی فوجی شراکت، بحری اور فضائی اثاثوں کی تعداد، آپریشن شروع ہونے کی تاریخ، قواعدِ عمل، مالی اخراجات اور کسی حملے کی صورت میں مشترکہ ردعمل کا طریقہ شامل ہیں۔
ریاض اجلاس کے بعد اگلا مرحلہ اتحاد کے میثاق کو حتمی شکل دینا، قومی منظوریوں کا عمل مکمل کرنا اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کا باقاعدہ نظام قائم کرنا ہوگا۔
اسی مرحلے میں یہ واضح ہوگا کہ اتحاد معلومات کے تبادلے، نگرانی اور بحری گشت تک محدود رہتا ہے یا اسے تجارتی جہازوں کے عملی تحفظ اور سمندری خطرات کے خلاف دفاعی کارروائی کا اختیار بھی دیا جاتا ہے۔
نئی علاقائی بحری حکمتِ عملی
سعودی عرب کی یہ پیش رفت بحیرۂ احمر کی سلامتی میں ایک نئی علاقائی حکمتِ عملی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاض اہم بحری راستوں کے تحفظ کے لیے صرف بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے ایک ایسا بین الاقوامی فریم ورک قائم کرنا چاہتا ہے جس کی قیادت خطے کے اندر ہو۔
➜ممکنہ اگلے منظرنامے⌄
پاکستان سمیت 14 ممالک کی ابتدائی حمایت اتحاد کے لیے اہم سیاسی بنیاد فراہم کرتی ہے، لیکن اس کی حقیقی کامیابی کا فیصلہ عملی ڈھانچے، بحری صلاحیت، واضح کمانڈ اور رکن ممالک کے مستقل تعاون سے ہوگا۔
فی الحال سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ سعودی بحری اتحاد اب کوئی غیر مصدقہ تجویز نہیں رہا۔
یہ سرکاری طور پر اعلان شدہ، تاسیسی مرحلے میں داخل ہونے والا اور پاکستان سمیت متعدد ممالک کی حمایت حاصل کرنے والا کثیر القومی دفاعی منصوبہ بن چکا ہے۔
⚓
اصل اور بنیادی ذرائع
پاکستان سمیت 14 بانی ممالک، سعودی بحری دفاعی اتحاد اور بحیرۂ احمر کے موجودہ بین الاقوامی مشنز کے بنیادی ذرائع
11 اصل ذرائع
اصل اور بنیادی ذرائع
پاکستان سمیت 14 بانی ممالک، سعودی بحری دفاعی اتحاد اور بحیرۂ احمر کے موجودہ بین الاقوامی مشنز کے بنیادی ذرائع