امریکا نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے درجنوں اہداف پر دو گھنٹے طویل حملے کیے، جبکہ سعودی اور امریکی افواج نے عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
اسی دوران مصر کی دمیاط بندرگاہ پر ایک امریکی کمپنی کی ملکیت گیس اسٹوریج جہاز مبینہ ڈرون حملے کا نشانہ بنا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے جاری ہیں اور انہیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مکمل مذاکرات کی طرف واپس لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
خلیجی جنگ اب صرف امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کے تبادلے یا آبنائے ہرمز میں جاری بحری محاذ آرائی تک محدود نہیں رہی۔
گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران جنگ کا جغرافیہ تیزی سے عراق، اردن، سعودی عرب اور کویت سے ہوتا ہوا بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع مصر کی دمیاط بندرگاہ تک پھیل گیا ہے۔
اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ مکمل طور پر منقطع نہیں ہوا۔
تازہ ترین اور سب سے بڑی عسکری پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے اندر بھاری فضائی حملوں کی دو گھنٹے طویل کارروائی مکمل کرنے کا اعلان کیا۔ امریکی بیان کے مطابق حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فوجی کمان مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی و دفاعی مقامات اور بحری صلاحیتوں سے متعلق مراکز شامل تھے۔
اہم ترین ہائی لائٹس +
- امریکا نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے درجنوں فوجی اہداف پر دو گھنٹے طویل حملے کیے۔
- سعودی عرب نے پہلی مرتبہ عراق میں ایران نواز گروہوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی۔
- دمیاط بندرگاہ پر امریکی ملکیت گیس اسٹوریج جہاز مبینہ ڈرون حملے کا نشانہ بنا۔
- پاکستان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے خطے میں تعینات امریکی افواج پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے جانے کے جواب میں کی گئی۔
امریکا نے دعویٰ کیا کہ تمام ایرانی میزائل کامیابی سے روک لیے گئے، جبکہ اردن نے بھی اپنی فضائی حدود سے گزرنے والے پانچ ایرانی میزائل مار گرانے کا اعلان کیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ میں 50 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی تعینات ہیں۔ یہ تعداد ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن طویل عسکری کشیدگی کے امکان کے لیے تیار ہے، اگرچہ سفارتی سطح پر مذاکرات کی بحالی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
سعودی عرب دفاع سے براہِ راست جواب کی جانب
ایران کے اندر امریکی حملوں کے ساتھ سعودی افواج نے بھی امریکی سینٹرل کمانڈ کے تعاون سے عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کے ٹھکانوں پر ہدفی کارروائیاں کیں۔
موجودہ جنگ کے دوران یہ پہلا موقع ہے جب سعودی عرب نے امریکا کے ساتھ مشترکہ فوجی حملوں میں اپنی شرکت کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔
فیکٹ باکس +
| اہم پیش رفت | تازہ تفصیل |
|---|---|
| امریکی حملے | پاسدارانِ انقلاب کے درجنوں اہداف |
| کارروائی کا دورانیہ | تقریباً دو گھنٹے |
| امریکی فوجی موجودگی | 50 ہزار سے زیادہ اہلکار |
| عراق میں نقصان | کم از کم 20 ہلاک، 32 زخمی |
| دمیاط میں متاثرہ جہاز | Energos Winter اور GasLog Salem |
| دمیاط میں جانی نقصان | کوئی ہلاکت یا زخمی نہیں |
| برینٹ خام تیل | تقریباً 91.80 ڈالر فی بیرل |
| سفارتی حیثیت | پاکستان کے مطابق مذاکرات جاری |
ریاض کے مطابق یہ حملے عراقی سرزمین سے سعودی عرب کے مشرقی علاقے اور ریاض کے اطراف واقع تیل کی تنصیبات پر مسلسل ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے۔
سعودی حکام نے کارروائی کو محدود اور مخصوص اہداف تک مرکوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مملکت کو اپنی سلامتی اور اہم قومی تنصیبات کے دفاع کا حق حاصل ہے۔
دوسری جانب عراق کی حشد الشعبی فورسز نے بتایا کہ ان حملوں میں کم از کم 20 اہلکار ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔
بعض اطلاعات میں ایرانی فوجی مشیروں کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
عراقی صدارتی دفتر نے حملوں کو ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا، تاہم اس نے مسلح گروہوں سے ہمسایہ ممالک پر حملے بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
سعودی عرب کی جانب سے براہِ راست عسکری جواب کے باوجود ریاض جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق سعودی وزیر دفاع نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات میں خبردار کیا کہ حوثیوں کے خلاف کارروائی یا عراقی گروہوں پر حملوں کا دائرہ بڑھانے سے ایسے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں جن پر قابو پانا مشکل ہوگا۔
دمیاط بھی جنگ کے نقشے پر
گزشتہ چند گھنٹوں کی سب سے حیران کن پیش رفت مصر کی دمیاط بندرگاہ پر ایک امریکی کمپنی کی ملکیت گیس اسٹوریج جہاز کو نشانہ بنایا جانا ہے۔
برطانوی میری ٹائم سکیورٹی کمپنی امبری نے ابتدائی جائزے میں بتایا کہ کم از کم ایک ڈرون نے فلوٹنگ گیس اسٹوریج اور ری گیسی فکیشن یونٹ Energos Winter کو نشانہ بنایا۔
حملے کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی، جو قریب موجود گیس ٹینکر GasLog Salem تک پھیل گئی۔
دمیاط کیوں اہم موڑ ہے؟ +
یہ واقعہ جنگ کے خطرے کو خلیج اور بحیرۂ احمر سے بحیرۂ روم تک پہنچاتا ہے۔ مصر نے حریق کی تصدیق کی ہے، لیکن سرکاری طور پر ابھی اسے ڈرون حملہ قرار نہیں دیا۔ کسی فریق نے بھی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
اصل رپورٹ دیکھیں
دو سکیورٹی اور 3 تجارتی ذرائع نے بھی امکان ظاہر کیا کہ دھماکا ڈرون حملے کے نتیجے میں ہوا۔
دونوں جہازوں کے عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ امدادی ٹیموں نے آگ پر قابو پالیا۔ واقعے میں کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
مصر کی وزارتِ پٹرولیم نے بندرگاہ میں آگ لگنے اور اس پر قابو پانے کی تصدیق کی، لیکن سرکاری بیان میں اسے ڈرون حملہ قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی اس کی ذمہ داری کسی فریق پر عائد کی گئی۔
ایران، حوثیوں یا کسی دوسرے مسلح گروہ نے بھی تاحال اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، اس لیے حملہ آور کی شناخت ابھی غیر واضح ہے۔
دمیاط واقعے کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ اس نے خطرے کو پہلی مرتبہ بحیرۂ روم میں مصر کی توانائی تنصیبات تک پہنچا دیا ہے۔
نشانہ بننے والا جہاز مصر میں درآمدی گیس ذخیرہ کرنے اور اسے دوبارہ قابلِ استعمال شکل میں منتقل کرنے کے نظام کا حصہ ہے۔
امریکی کمپنی کی ملکیت ہونے کے باعث یہ واقعہ محض بحری حادثہ نہیں بلکہ اہم سیاسی اور سکیورٹی پہلو بھی رکھتا ہے۔
ہرمز اور باب المندب پر بیک وقت دباؤ
آبنائے ہرمز میں پاسدارانِ انقلاب نے تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا کر روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان جہازوں نے انتباہ نظر انداز کرتے ہوئے غیر مجاز بحری راستہ استعمال کیا تھا۔
سعودی عرب کا براہِ راست جواب +
یہ موجودہ جنگ کے دوران سعودی عرب کی پہلی اعلانیہ مشترکہ کارروائی ہے۔ تاہم ریاض جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے اور عراق و یمن میں بے قابو محاذ کھلنے سے بچنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
تفصیلی رپورٹ
دوسری جانب ایک قطری ایل این جی ٹینکر ایران کی اجازت اور تہران کے مقرر کردہ راستے سے آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہوگیا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں کی، بلکہ وہ جہازوں کے لیے انتخابی نظام نافذ کرکے بحری آمدورفت پر عملی کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے۔
تہران نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ علاقائی انتظام اور بحری جہازوں سے رضاکارانہ فیس وصول کرنے سے متعلق عمانی تجویز بھی مسترد کردی ہے۔
ایران کا اصرار ہے کہ اسے آبنائے کے داخلی اور بعض خارجی راستوں کے انتظام کا حق حاصل ہے۔
ادھر بحیرۂ احمر میں حوثی سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد تجارتی جہازوں پر فیس عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
یوں خلیجی توانائی برآمدات کو مشرق میں ہرمز، مغرب میں باب المندب اور اب بحیرۂ روم کے راستے دمیاط پر بیک وقت خطرات کا سامنا ہے۔
پاکستان: مذاکرات ختم نہیں ہوئے
ان غیر معمولی عسکری پیش رفتوں کے درمیان پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے آج اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔
مذاکرات میں خاص طور پر آبنائے ہرمز اور کشیدگی کم کرنے کے معاملات پر توجہ دی جارہی ہے۔
ہرمز سے باب المندب تک +
- آبنائے ہرمز: ایران نے تین ٹینکروں کو روکنے اور انتخابی بحری گزرگاہ نافذ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
- باب المندب: حوثی سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی اور تجارتی جہازوں پر فیس لگانے پر غور کر رہے ہیں۔
- دمیاط: امریکی ملکیت گیس جہاز پر مبینہ حملے نے خطرہ بحیرۂ روم تک پہنچا دیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان دونوں ممالک کو دوبارہ مکمل طور پر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان اس معاہدے کے ضامنوں اور سہولت کاروں میں شامل ہے۔
ترجمان کے مطابق اسلام آباد واشنگٹن اور تہران پر زور دے رہا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری کریں اور مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ تکنیکی مذاکرات کا آغاز کریں۔
پاکستانی بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔
حملوں کے باوجود آبنائے ہرمز، جنگ بندی اور علاقائی کشیدگی کم کرنے سے متعلق بات چیت کسی نہ کسی سطح پر جاری ہے۔
تیل کی منڈی پر جنگ کا دباؤ
امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کی بحالی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل دوسرے روز بڑھ گئیں۔
برینٹ خام تیل تقریباً 91.80 ڈالر فی بیرل، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 84.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
پاکستان کا آج کا بیان +
تازہ بیان دیکھیں
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز سے ٹینکروں کی آمدورفت طویل مدت تک کم رہی یا کسی بڑی تیل تنصیب کو نقصان پہنچا تو قیمتوں میں ایک اور بڑی چھلانگ آسکتی ہے۔
موجودہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
امریکا ایران کے اندر حملے کر رہا ہے، سعودی عرب اپنی سرحدوں سے باہر جوابی کارروائی پر اتر آیا ہے، جبکہ ایران نواز گروہ اپنے اہداف کا جغرافیہ مسلسل وسیع کر رہے ہیں۔
توانائی تنصیبات اور عالمی بحری راستے بھی فریقین کے لیے دباؤ بڑھانے کے اہم ہتھیار بن گئے ہیں۔
تاہم پاکستان کا تازہ بیان سفارت کاری کی ایک چھوٹی مگر اہم کھڑکی کھلی رہنے کی نشاندہی کرتا ہے۔
اب یہ اسلام آباد اور اس کے شراکت داروں کی کوششوں پر منحصر ہوگا کہ جاری رابطوں کو عملی تکنیکی مذاکرات میں تبدیل کیا جاسکتا ہے یا نہیں—اس سے پہلے کہ کوئی بڑا جانی نقصان یا اہم تیل تنصیب کی تباہی پورے خطے کو ایسی جنگ میں دھکیل دے جسے روکنا انتہائی مشکل ہوجائے۔
⚓
اصل اور بنیادی ذرائع
دمیاط ڈرون حملے، ایران پر امریکی کارروائی، عراق میں سعودی–امریکی حملوں اور خلیجی جنگ کی تازہ صورتِ حال کے بنیادی ذرائع
13 بنیادی ذرائع
اصل اور بنیادی ذرائع
دمیاط ڈرون حملے، ایران پر امریکی کارروائی، عراق میں سعودی–امریکی حملوں اور خلیجی جنگ کی تازہ صورتِ حال کے بنیادی ذرائع