لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کے یورپ سے باہر منتقل ہونے کے بعد فٹبال کی دنیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
مزید پڑھیں
فیفا ورلڈکپ 2026 کے اختتام کے قریب پہنچنے کے ساتھ ہی یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا یورپ سے باہر کھیلنے والے کھلاڑی بیلن ڈی اور کا اعزاز حاصل کر سکتے ہیں۔
بیلن ڈی اور سے متعلق بڑھتا ہوا تجسس
عام طور پر بیلن ڈی اور کے حوالے سے بحث بڑے ٹورنامنٹس کے دوران عروج پر ہوتی ہے۔
تاہم اس ایوارڈ کے معیارات صرف ایک ماہ کی کارکردگی پر نہیں بلکہ اگست سے شروع ہو کر پورے سیزن کی مقامی، براعظمی اور بین الاقوامی کارکردگی پر مبنی ہوتے ہیں۔
میسی اور رونالڈو کے نئے چیلنجز
اس سال یہ بحث زیادہ اہم ہے کیونکہ میسی اور رونالڈو اب امریکا اور سعودی عرب میں کھیل رہے ہیں۔
میسی 39 سال کی عمر میں انٹر میامی کی نمائندگی کرتے ہوئے ورلڈ کپ میں 8 گول اور 4 اسسٹ کے ساتھ نمایاں کارکردگی دکھا چکے ہیں۔
دوسری جانب 41 سالہ کرسٹیانو رونالڈو نے النصر کے ساتھ سعودی لیگ کا ٹائٹل جیتا ہے۔
اگرچہ پرتگال کی ٹیم ورلڈ کپ سے باہر ہو چکی ہے، لیکن رونالڈو نے بین الاقوامی کیریئر جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ دونوں کھلاڑی اب جیوگرافیکل حدود کو چیلنج کر رہے ہیں۔
بیلن ڈی اور کے قواعد میں تاریخی تبدیلیاں
فرانس فٹبال کی جانب سے 1956 میں جب بیلن ڈی اور کا آغاز ہوا تو یہ صرف یورپی کھلاڑیوں کے لیے تھی۔
1995 میں تمام ممالک کو موقع ملا لیکن شرط یہ تھی کہ وہ یورپی کلبوں میں کھیلیں۔ 2007 سے یہ تمام پابندیاں ختم کر دی گئیں اور اسے دنیا کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ بنا دیا گیا۔
یورپ کا غلبہ اور استثنائی کیس
گزشتہ 18 برسوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فاتح کھلاڑیوں کا تعلق یورپی کلبوں ہی سے رہا ہے۔
کاکا، رونالڈو، میسی، لوکا موڈرچ اور دیگر سب نے یورپی لیگز میں کھیلتے ہوئے یہ اعزاز جیتا۔ میسی 2023 میں واحد کھلاڑی تھے جنہوں نے انٹر میامی میں منتقلی کے بعد یہ ایوارڈ اپنے نام کیا۔
میسی کا 2023 کا ایوارڈ منفرد کیوں نہیں؟
فرانس فٹبال کے مطابق میسی کا 2023 کا ایوارڈ مکمل طور پر یورپ سے باہر کی کارکردگی نہیں مانا جا سکتا۔
کیونکہ نیا نظام اب اگست سے جولائی تک کے سیزن پر محیط ہے، جبکہ میسی کا زیادہ تر اسکور پیرس سینٹ جرمین کے ساتھ کارکردگی اور ورلڈ کپ کی فتح پر مبنی تھا۔
مستقبل کے امکانات
تکنیکی طور پر اب کوئی بھی کھلاڑی کہیں بھی کھیل کر یہ ایوارڈ جیت سکتا ہے کیونکہ ضوابط میں کوئی جغرافیائی قید نہیں۔
تاہم عملی طور پر یورپ کی بڑی لیگز اور چیمپئنز لیگ کی اہمیت کے پیش نظر اب بھی یہ فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔
اگرچہ بیلن ڈی اور کو انتظامی طور پر اب عالمی سطح پر کھول دیا ہے لیکن تاریخ اور ووٹرز کا رجحان اب بھی یورپی فٹبال کے گرد گھومتا ہے۔
میسی اور رونالڈو جیسے کھلاڑی اپنی انفرادی برانڈ ویلیو سے اس روایت کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس کے لیے انہیں یورپ سے باہر بھی غیر معمولی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنا ہوگا۔