متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک 52 سالہ انڈین شہری سنیل کمار ساداسیوَن کی زندگی اس وقت ڈرامائی طور پر بدل گئی جب انہوں نے لاٹری کے ذریعے 30 ملین (3 کروڑ) درہم کی خطیر رقم جیتی۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق یہ انعام ان کی برسوں کی محنت اور جدوجہد کا ایک غیر متوقع صلہ ثابت ہوا ہے۔
طویل جدوجہد کا اختتام
سنیل کمار نے 18 برس کی عمر میں پہلی بار بیرونِ ملک سفر کیا تھا۔ 2006ء میں متحدہ عرب امارات منتقل ہونے والے سنیل نے اپنی پوری زندگی اپنے اہل خانہ کی کفالت کے لیے سخت محنت میں گزاری۔
لاٹری جیتنے کے بعد اب ان کا پہلا فیصلہ ملازمت کو خیرباد کہہ کر ہمیشہ کے لیے بھارت واپس جانا ہے۔
دوستی کا انوکھا ثبوت
سنیل نے اپنی جیت کو اپنے اس قریبی دوست کے ساتھ بھی شیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ساتھ مل کر انہوں نے لاٹری کی ٹکٹ خریدی تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ انعام صرف ان کا نہیں بلکہ ان کے اس ساتھی کا بھی ہے جو ان کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔
انعام کا دانشمندانہ استعمال
سنیل کمار نے بتایا کہ وہ اس رقم سے اپنے گھر کو بہتر بنائیں گے اور بے گھر افراد کے لیے بھی مکانات تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ قسمت کے اس تحفے کو بہت دانشمندی سے استعمال کرنا چاہتے ہیں تاکہ دوسروں کی زندگیوں میں بھی بہتری آ سکے۔
امارات: 3 کروڑ درہم جیتنے والے کا حیران کن فیصلہ
برسوں کی محنت اور طویل جدوجہد کے بعد انڈین شہری کی قسمت بدل گئی۔
امارات میں مقیم سنیل کمار نے لاٹری میں خطیر رقم جیتنے کے بعد ملازمت چھوڑ کر مستقل طور پر وطن واپسی اور فلاحی کاموں کا فیصلہ کیا ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
جیت کا حیران کن فارمولا
سنیل نے اپنی جیت کا راز فاش کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے لاٹری کے لیے وہ نمبر منتخب کیے جو ان کی زندگی کے اہم ترین واقعات سے جڑے تھے۔
ان نمبرز میں ان کی اپنی، اہلیہ اور بیٹی کی تاریخِ پیدائش شامل تھی، جس نے انہیں یہ غیر معمولی کامیابی دلائی۔
خوشخبری کا ناقابلِ یقین لمحہ
سنیل کو اپنی جیت کا علم اس وقت ہوا جب وہ اپنی شفٹ کے بعد کمرے میں آرام کر رہے تھے۔
لاٹری کے نتائج دیکھ کر انہیں شدید حیرانی ہوئی اور انہوں نے فوراً اپنی اہلیہ کو کال کر کے یہ خوشخبری سنائی۔ ان کے لیے یہ لمحہ محض دولت کا حصول نہیں بلکہ ایک جذباتی ریلیف تھا۔
مایوسی سے بچنے کا مشورہ
لوگوں کے نام پیغام میں سنیل نے کہا کہ وہ برسوں سے لاٹری کھیل رہے تھے لیکن کبھی بڑی کامیابی نہیں ملی۔
انہوں نے ہمت نہ ہارنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ قسمت بدلنے میں دیر نہیں لگتی، بس صحیح وقت کا انتظار کرنا ہی اصل امتحان ہے۔
نفسیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سنیل کمار کی کہانی بطور محنت کش تارک وطن اس زندگی کی عکاس ہے جو برسوں غیر یقینی حالات میں بسر ہوتی ہے۔
30 ملین درہم کی یہ رقم نہ صرف ان کی اپنی زندگی کو خوشحال بنائے گی بلکہ دیگر لوگوں کے لیے بھی امید کی کرن ثابت ہوئی ہے، جس نے ایک عام انسان کو اچانک ایک بڑی سماجی ذمہ داری سونپ دی ہے۔