براہ راست نشریات

تھامس جیفرسن سے ٹرمپ تک: اسلام سے متعلق امریکی نظریہ کیسے بدلا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اسلام سے متعلق امریکی نظریہ، تھامس جیفرسن کا قرآن اور جدید سیاسی بیانیے کا اثر
تھامس جیفرسن قرآن کے عالمگیر مذہبی آزادی کے تصور سے بے حد متاثر ہوئے تھے (فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر وہاں اسلامو فوبیا کا جائزہ لینا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں

اگرچہ مسلمان امریکی تاریخ کا اٹوٹ حصہ رہے ہیں، تاہم حالیہ دہائیوں میں میڈیا، سیاسی بیانیے اور انتہا پسندانہ نظریات نے ان کے خلاف تعصب کو ایک عالمی رجحان بنا دیا ہے۔

مسلم تاریخ کا امریکی بنیادوں سے گہرا تعلق

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ مسلمان امریکہ کی آزادی سے پہلے یہاں موجود تھے۔ 

غلام بنا کر لائے گئے افریقیوں میں 15 سے 30 فیصد کا تعلق مغربی افریقہ کے مسلم اکثریتی علاقوں سے تھا۔ ان میں سے کئی تعلیم یافتہ تھے اور عربی زبان پر عبور رکھتے تھے۔

ہم سے جڑے رہیں

مسیحی مالکان کے جبر کے باوجود یہ مسلمان خفیہ طور پر اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھتے تھے۔

وہ خنزیر کے گوشت اور شراب سے اجتناب کرتے، روایتی لباس پہنتے اور اسلامی تہوار مناتے تھے۔ حتیٰ کہ بانی صدر تھامس جیفرسن نے بھی قانون کی تعلیم کے دوران قرآن کا مطالعہ کیا تھا۔

اسلام سے متعلق امریکی نظریہ، تھامس جیفرسن کا قرآن اور جدید سیاسی بیانیے کا اثر
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ مسلمان امریکہ کی آزادی سے پہلے یہاں موجود تھے (فوٹو: انٹرنیٹ)

جیفرسن کا مطالعہ اور مذہبی آزادی کا تصور

تھامس جیفرسن قرآن کے عالمگیر مذہبی آزادی کے تصور سے بے حد متاثر ہوئے تھے۔

اس مطالعے نے ان کے اندر مذہبی معاشرے اور ثقافت کے عزم کو تقویت دی، جس کی بنیاد پر انہوں نے زور دیا کہ امریکی شہریوں کے بنیادی حقوق کا ان کے مذہبی عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔

اسلامو فوبیا کی جدید جڑیں اور عالمگیریت

11 ستمبر کے واقعات اور القاعدہ کے سامنے آنے کے بعد اسلامو فوبیا میں بہت تیزی آئی۔

بعد ازاں داعش کے عروج، یورپی ممالک میں ہجرت اور دائیں بازو کی سیاست نے اس تعصب کو مزید ہوا دی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بیانیے نے اسلام کو ایک بنیاد پرست (Radical) کے طور پر پیش کیا۔

امریکہ میں اسلام اور بدلتے نظریات

تاریخی جڑوں سے جدید چیلنجز اور سماجی خدمات کا جائزہ

80%

ٹی وی پر مسلمانوں کی منفی میڈیا کوریج

63%

مسلمانوں کو مذہبی امتیاز کا سامنا

$4.3B

امریکی مسلمانوں کے سالانہ فلاحی عطیات

01

آزادی سے قبل افریقی غلاموں میں 15 سے 30 فیصد مسلمان شامل تھے۔

02

بانی صدر تھامس جیفرسن نے مذہبی آزادی کے لیے قرآن کا مطالعہ کیا۔

03

11 ستمبر کے بعد میڈیا اور سیاسی بیانیے نے تعصب کو ہوا دی۔

میڈیا کا منفی کردار اور اعداد و شمار

2016 تک مسلمانوں کے بارے میں دو تہائی عالمی خبریں منفی یا تنقیدی تھیں۔

ٹیلی ویژن پر اسلام کے بارے میں 80 فیصد سے زائد کوریج منفی رہی۔ امریکہ، برطانیہ اور جرمنی میں ہر 10 میں سے 9 مضامین مسلمانوں کے خلاف منفی تاثرات کے حامل تھے۔

سیاسی بیانیہ اور تعصب کے شکار مسلمان

پولیٹیکل اینڈ سوشل انڈرسٹینڈنگ کے 2025 کے سروے کے مطابق 63 فیصد مسلمانوں نے مذہبی امتیاز کا سامنا کرنے کی شکایت کی، جو کہ یہودی (50 فیصد) اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں سے کہیں زیادہ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت اور قدامت پسندانہ خیالات کو اسلامو فوبیا کے پھیلاؤ میں اہم محرک قرار دیا گیا۔

اسلام سے متعلق امریکی نظریہ، تھامس جیفرسن کا قرآن اور جدید سیاسی بیانیے کا اثر
2016 تک مسلمانوں کے بارے میں دو تہائی عالمی خبریں منفی یا تنقیدی تھیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

مسلم کمیونٹی کی کامیابی اور سماجی خدمات

ان تمام تر چیلنجز کے باوجود امریکی مسلمان ڈاکٹرز، وکلا، پروفیسرز اور سیاست دانوں کی شکل میں معاشرے میں کامیاب اور نمایاں ہیں۔

2020ء میں امریکی مسلمانوں نے تقریباً 4.3 ارب ڈالر خیراتی کاموں میں دیے۔ زہران ممدانی کا نیویارک کے میئر کے طور پر انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمان اب قومی دھارے میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔

تحقیقی کوششیں اور مستقبل کا لائحہ عمل

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کا بریج انیشیٹو (Bridge Initiative) آج اسلامو فوبیا کے خلاف ایک اہم علمی ذریعہ ہے۔

یہ ادارہ حکومتوں کی امتیازی پالیسیوں اور اسلام دشمن سازشی نظریات کا تجزیہ کرتا ہے، جو دنیا بھر کے صحافیوں اور محققین کے لیے ایک ریفرنس کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسلام سے متعلق امریکی نظریہ، تھامس جیفرسن کا قرآن اور جدید سیاسی بیانیے کا اثر
11 ستمبر کے واقعات اور القاعدہ کے سامنے آنے کے بعد اسلامو فوبیا میں بہت تیزی آئی (فوٹو: انٹرنیٹ)

مبصرین کے مطابق امریکہ میں اسلامو فوبیا کا مسئلہ محض چند انتہا پسندوں کا عمل نہیں، بلکہ یہ میڈیا اور سیاسی نظریات کی پیداوار ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جب تک اسلام کو ایک مذہبی حقیقت کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا، اس تعصب کا خاتمہ مشکل رہے گا۔ مسلمانوں کی تعلیمی اور سماجی کامیابی ہی اس منفی بیانیے کو شکست دینے کا واحد راستہ ہے۔