مصری فٹبال ٹیم نے شمالی امریکہ میں منعقدہ فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اپنی تاریخی کارکردگی کے بعد وطن واپسی پر شاندار عوامی پذیرائی حاصل کی ہے۔
مزید پڑھیں
ہزاروں شائقین نے العلمین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ٹیم کے اعزاز میں جمع ہوکر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی اور اپنی محبت کا اظہار کیا۔
العلمین میں تاریخی استقبال
شمالی ساحل پر واقع العلمین ایئرپورٹ کے باہر ہزاروں مداح قومی پرچم تھامے اپنے ہیروز کے منتظر تھے۔ ٹیم کے ایئرپورٹ پہنچتے ہی شائقین نے نعرے بلند کیے اور کھلاڑیوں کا گرم جوشی سے خیرمقدم کیا۔
اس موقع پر ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ٹیم انتظامیہ اور کھلاڑی شامل تھے۔
کھلاڑیوں نے ایک کھلی بس میں سوار ہو کر ایئرپورٹ کے اطراف کا دورہ کیا، جہاں ان کا استقبال ملی نغموں اور ڈھول کی تھاپ سے کیا گیا۔
مداحوں نے کپتان محمد صلاح اور دیگر کھلاڑیوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جن پر شکریہ کے کلمات درج تھے۔
حسام حسن کا منفرد انداز اور فلسطینی پرچم
ٹیم کے ہیڈ کوچ حسام حسن کی مقبولیت اس تقریب میں غیر معمولی طور پر نمایاں رہی۔ مداحوں نے ان کی ایسی بڑی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جن میں وہ فلسطینی پرچم تھامے ہوئے تھے۔
حسام حسن نے پورے ورلڈ کپ میں اپنی تکنیکی مہارت کے ساتھ ساتھ فلسطین کاز کی بھرپور حمایت کی تھی۔
انہوں نے نہ صرف میدان میں فلسطینی پرچم لہرایا بلکہ پریس کانفرنسوں میں بھی فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ یہ اقدام مصری عوام کے دلوں میں ان کے اور پوری ٹیم کے لیے احترام اور محبت کا باعث بنا۔
صدارتی پذیرائی اور سیاحتی پروموشن
مصری صدر عبدالفتاح السیسی ہفتے کے روز ٹیم کے کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف سے ملاقات کریں گے تاکہ ان کی خدمات کا اعتراف کیا جا سکے۔
WHAT A RETURN FOR EGYPT. 🇪🇬
— TSN (@TSN_Sports) July 10, 2026
Thousands of Egypt fans welcomed their national team at the airport after their historic #FIFAWorldCup run that included the nation's first ever knockout stage win 👏
🎥: @ONTVEgy pic.twitter.com/NkbRYcb7uw
استقبال کے لیے العلمین شہر کا انتخاب اس شہر کو ایک نمایاں سیاحتی اور سرمایہ کاری مرکز کے طور پر اجاگر کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
اگرچہ مصر کی ٹیم راؤنڈ آف 16 میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن سے 2-3 کے سنسنی خیز مقابلے کے بعد باہر ہو گئی تھی، لیکن اس کارکردگی نے پوری قوم کو فخر سے سرشار کر دیا۔
مصری شائقین نے اس ہار کو بھی ایک باعزت شکست کے طور پر سراہا ہے۔
کھلاڑیوں کا جذبات کا اظہار
ٹیم کے گول کیپر مصطفیٰ شوبیر سمیت دیگر کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا پر استقبالی مناظر کی ویڈیوز شیئر کیں۔
ان ویڈیوز میں شائقین کو ٹیم کے حق میں نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر احمد سید زیزو اور مصطفیٰ زیکو نے بس کی سواری کے دوران مداحوں کے ساتھ اپنے جذبات شیئر کیے۔
یہ مناظر مصر میں فٹبال کے ساتھ گہری وابستگی اور قومی ٹیم کے لیے موجود یکجہتی کی عکاسی کرتے ہیں۔ کھلاڑیوں کے لیے یہ استقبال ان کی سخت محنت اور میدان میں دکھائی گئی جرات کا بہترین صلہ ثابت ہوا۔
🚨🇪🇬 Egypt national football team get a hero’s welcome on their return from the World Cup.
— Ultras Clips (@ultras_clips) July 10, 2026
The scenes in Cairo are absolutely unreal! Win or lose, these players fought for the badge and made the entire nation proud on the world stage. The tournament might be over, but the love… pic.twitter.com/X6NZK6usKN
مستقبل کا لائحہ عمل اور حسام حسن کا معاہدہ
مصری فٹبال فیڈریشن نے وطن واپسی سے قبل ہی ہیڈ کوچ حسام حسن اور ٹیم ڈائریکٹر ابراہیم حسن کے معاہدوں میں توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔
مقامی رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ 2030 تک جاری رہے گا۔ اس فیصلے کا مقصد ٹیم کے جاری تکنیکی پروجیکٹ کو مستحکم کرنا ہے۔
یاد رہے کہ حسام حسن نے فروری 2024 میں یہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔ ان کی قیادت میں مصر نے 2025 کے افریقی کپ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی اور 8 سال کے طویل وقفے کے بعد ورلڈ کپ میں جگہ بنائی۔
انہوں نے بطور کھلاڑی اور کوچ ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والے پہلے مصری بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
کھیلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ 2026 میں مصر کی ٹیم کی کارکردگی صرف اعدادوشمار تک محدود نہیں تھی، بلکہ 20 فتوحات، 6 شکستیں اور 9 ڈراز کے ساتھ حسام حسن کا پروجیکٹ درست سمت میں گامزن دکھائی دیتا ہے۔
ارجنٹائن جیسی بڑی ٹیم کے خلاف مقابلہ کرنا اور ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مصری فٹبال اب عالمی سطح پر دوبارہ ابھر رہی ہے۔
مصری قوم کی جانب سے یہ گرم جوش استقبال آنے والے بڑے چیلنجز کے لیے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھائے گا۔