براہ راست نشریات

عوامی استقبال: مصری فٹبال ٹیم کا ورلڈکپ سے شاندار واپسی پر خیرمقدم

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مصری فٹبال ٹیم کا العلمین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شائقین کی جانب سے شاندار استقبال
ہزاروں شائقین نے العلمین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ٹیم کے اعزاز میں جمع ہو کر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی (فوٹو: ایکس)

مصری فٹبال ٹیم نے شمالی امریکہ میں منعقدہ فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اپنی تاریخی کارکردگی کے بعد وطن واپسی پر شاندار عوامی پذیرائی حاصل کی ہے۔

مزید پڑھیں

ہزاروں شائقین نے العلمین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ٹیم کے اعزاز میں جمع ہوکر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی اور اپنی محبت کا اظہار کیا۔

العلمین میں تاریخی استقبال

شمالی ساحل پر واقع العلمین ایئرپورٹ کے باہر ہزاروں مداح قومی پرچم تھامے اپنے ہیروز کے منتظر تھے۔  ٹیم کے ایئرپورٹ پہنچتے ہی شائقین نے نعرے بلند کیے اور کھلاڑیوں کا گرم جوشی سے خیرمقدم کیا۔ 

اس موقع پر ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ٹیم انتظامیہ اور کھلاڑی شامل تھے۔

کھلاڑیوں نے ایک کھلی بس میں سوار ہو کر ایئرپورٹ کے اطراف کا دورہ کیا، جہاں ان کا استقبال ملی نغموں اور ڈھول کی تھاپ سے کیا گیا۔ 

مداحوں نے کپتان محمد صلاح اور دیگر کھلاڑیوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جن پر شکریہ کے کلمات درج تھے۔

ورلڈ کپ کی تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں

حسام حسن کا منفرد انداز اور فلسطینی پرچم

ٹیم کے ہیڈ کوچ حسام حسن کی مقبولیت اس تقریب میں غیر معمولی طور پر نمایاں رہی۔ مداحوں نے ان کی ایسی بڑی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جن میں وہ فلسطینی پرچم تھامے ہوئے تھے۔

مصری فٹبال ٹیم کا العلمین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شائقین کی جانب سے شاندار استقبال
ٹیم کے ایئرپورٹ پہنچتے ہی شائقین نے نعرے بلند کیے اور کھلاڑیوں کا گرم جوشی سے خیرمقدم کیا (فوٹو: ایکس)

حسام حسن نے پورے ورلڈ کپ میں اپنی تکنیکی مہارت کے ساتھ ساتھ فلسطین کاز کی بھرپور حمایت کی تھی۔

انہوں نے نہ صرف میدان میں فلسطینی پرچم لہرایا بلکہ پریس کانفرنسوں میں بھی فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ یہ اقدام مصری عوام کے دلوں میں ان کے اور پوری ٹیم کے لیے احترام اور محبت کا باعث بنا۔

صدارتی پذیرائی اور سیاحتی پروموشن

مصری صدر عبدالفتاح السیسی ہفتے کے روز ٹیم کے کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف سے ملاقات کریں گے تاکہ ان کی خدمات کا اعتراف کیا جا سکے۔

استقبال کے لیے العلمین شہر کا انتخاب اس شہر کو ایک نمایاں سیاحتی اور سرمایہ کاری مرکز کے طور پر اجاگر کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔

اگرچہ مصر کی ٹیم راؤنڈ آف 16 میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن سے 2-3 کے سنسنی خیز مقابلے کے بعد باہر ہو گئی تھی، لیکن اس کارکردگی نے پوری قوم کو فخر سے سرشار کر دیا۔ 

مصری شائقین نے اس ہار کو بھی ایک باعزت شکست کے طور پر سراہا ہے۔

مصری فٹبال ٹیم کا العلمین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شائقین کی جانب سے شاندار استقبال
ہزاروں شائقین نے العلمین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ٹیم کے اعزاز میں جمع ہو کر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی (فوٹو: ایکس)

کھلاڑیوں کا جذبات کا اظہار

ٹیم کے گول کیپر مصطفیٰ شوبیر سمیت دیگر کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا پر استقبالی مناظر کی ویڈیوز شیئر کیں۔

ان ویڈیوز میں شائقین کو ٹیم کے حق میں نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر احمد سید زیزو اور مصطفیٰ زیکو نے بس کی سواری کے دوران مداحوں کے ساتھ اپنے جذبات شیئر کیے۔

یہ مناظر مصر میں فٹبال کے ساتھ گہری وابستگی اور قومی ٹیم کے لیے موجود یکجہتی کی عکاسی کرتے ہیں۔ کھلاڑیوں کے لیے یہ استقبال ان کی سخت محنت اور میدان میں دکھائی گئی جرات کا بہترین صلہ ثابت ہوا۔

مستقبل کا لائحہ عمل اور حسام حسن کا معاہدہ

مصری فٹبال فیڈریشن نے وطن واپسی سے قبل ہی ہیڈ کوچ حسام حسن اور ٹیم ڈائریکٹر ابراہیم حسن کے معاہدوں میں توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔

مقامی رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ 2030 تک جاری رہے گا۔ اس فیصلے کا مقصد ٹیم کے جاری تکنیکی پروجیکٹ کو مستحکم کرنا ہے۔

ہم سے جڑے رہیں

یاد رہے کہ حسام حسن نے فروری 2024 میں یہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔ ان کی قیادت میں مصر نے 2025 کے افریقی کپ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی اور 8 سال کے طویل وقفے کے بعد ورلڈ کپ میں جگہ بنائی۔ 

انہوں نے بطور کھلاڑی اور کوچ ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والے پہلے مصری بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

کھیلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ 2026 میں مصر کی ٹیم کی کارکردگی صرف اعدادوشمار تک محدود نہیں تھی، بلکہ 20 فتوحات، 6 شکستیں اور 9 ڈراز کے ساتھ حسام حسن کا پروجیکٹ درست سمت میں گامزن دکھائی دیتا ہے۔ 

مصری فٹبال ٹیم کا العلمین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شائقین کی جانب سے شاندار استقبال
ٹیم کے ہیڈ کوچ حسام حسن کی مقبولیت اس تقریب میں غیر معمولی طور پر نمایاں رہی (فوٹو: ایکس)

ارجنٹائن جیسی بڑی ٹیم کے خلاف مقابلہ کرنا اور ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مصری فٹبال اب عالمی سطح پر دوبارہ ابھر رہی ہے۔ 

مصری قوم کی جانب سے یہ گرم جوش استقبال آنے والے بڑے چیلنجز کے لیے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھائے گا۔