آبنائے ہرمز میں اس وقت پُراسرار خاموشی چھائی ہوئی ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان 2 روز قبل 170 اہداف پر ہونے والے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہے۔
مزید پڑھیں
اس دوران پاکستان اور قطر کی جانب سے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ امریکہ نے مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کے لیے اہداف کی ایک نئی فہرست تیار کر رکھی ہے۔
عسکری ماہر کرنل نضال ابو زید کا کہنا ہے کہ اس وقت جاری خاموشی جنگی تیاریوں میں کمی کا پیش خیمہ نہیں ہے۔
امریکی طیارہ بردار جنگی جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کے کمانڈر نے
اپنے عملے کو مکمل الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے، جس کا مقصد ایران کے مغربی ساحلی پٹی پر نئی فائر بیلٹس قائم کرنا ہے۔
ابو زید کے مطابق حالیہ حملوں کے ساتھ ساتھ ایران کے شمالی اور مغربی ساحلی علاقوں میں وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔
آپریشنل سرگرمیوں میں وقفے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انٹیلی جنس کا عمل رک گیا ہے، بلکہ یہ ’آگ کے سائے میں مذاکرات‘ کی حکمت عملی ہے۔
صحافی محمود الزبیق نے بتایا کہ طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن اس وقت بحیرہ عرب میں عمان کے ساحل سے 200 سے 300 کلومیٹر دُور تعینات ہے۔
اس تعیناتی کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حمل کے راستوں سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھنا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق قبرص کے اکروتیری (Akrotiri) ایئربیس سے ایندھن بھرنے والے طیاروں کی کریٹ (Crete) میں واقع سودا بے (Souda Bay) کی جانب نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔
یہ پیش رفت کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے امریکی تیاریوں کی عکاسی کرتی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شروع کیے گئے مذاکرات میں تعطل کی بڑی وجہ مفاہمت کی یادداشت کا پانچواں آرٹیکل ہے، جس پر ایران کو اعتراض ہے۔
سلطنتِ عمان کی جانب سے تجویز کردہ جنوبی راستے پر ایران تحفظات رکھتا ہے، جبکہ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ معاہدے کے 60 دن کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے۔
دوسری جانب میدانی صورتحال یہ ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے حملوں کے خوف سے جنوبی راستہ تقریباً خالی ہو چکا ہے۔
جمعرات کے روز اس راستے سے کوئی بھی تجارتی جہاز نہیں گزرا، جبکہ مجموعی طور پر صرف 15 جہازوں نے ہی آبنائے ہرمز سے سفر کیا جو کہ انتہائی کم تعداد ہے۔
عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کا اصل مقصد ایرانی پاسداران انقلاب کی بحری صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے تاکہ ایران سے وہ اہم تزویراتی کارڈ چھینا جا سکے جسے وہ مذاکرات میں بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے۔
امریکہ اس صورت حال میں براہ راست تصادم سے بچتے ہوئے اپنی پوزیشن مستحکم رکھنے کا خواہاں ہے۔
اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایرانی حملے جنگ بندی کے خاتمے کا اشارہ ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے حملے بند نہ کیے تو امریکہ تنازع کو مزید بڑھانے پر مجبور ہوگا، جس سے خطے میں غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے۔