براہ راست نشریات

ہرمز میں پھر کشیدگی: پاسداران کا اثرورسوخ ختم کرنے کا امریکی پلان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہازوں کی تعیناتی اور سیکیورٹی صورتحال کا منظر
امریکہ آبنائے ہرمز پر ایرانی پاسداران ایران کا اثر و رسوخ ختم کرنا چاہتا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

آبنائے ہرمز میں اس وقت پُراسرار خاموشی چھائی ہوئی ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان 2 روز قبل 170 اہداف پر ہونے والے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہے۔

مزید پڑھیں

اس دوران پاکستان اور قطر کی جانب سے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ امریکہ نے مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کے لیے اہداف کی ایک نئی فہرست تیار کر رکھی ہے۔

عسکری ماہر کرنل نضال ابو زید کا کہنا ہے کہ اس وقت جاری خاموشی جنگی تیاریوں میں کمی کا پیش خیمہ نہیں ہے۔ 

امریکی طیارہ بردار جنگی جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کے کمانڈر نے 

اپنے عملے کو مکمل الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے، جس کا مقصد ایران کے مغربی ساحلی پٹی پر نئی فائر بیلٹس قائم کرنا ہے۔

ابو زید کے مطابق حالیہ حملوں کے ساتھ ساتھ ایران کے شمالی اور مغربی ساحلی علاقوں میں وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ 

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

آپریشنل سرگرمیوں میں وقفے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انٹیلی جنس کا عمل رک گیا ہے، بلکہ یہ ’آگ کے سائے میں مذاکرات‘ کی حکمت عملی ہے۔

صحافی محمود الزبیق نے بتایا کہ طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن اس وقت بحیرہ عرب میں عمان کے ساحل سے 200 سے 300 کلومیٹر دُور تعینات ہے۔ 

آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی اور ایرانی بحری جہازوں کا سفر
امریکی ڈسٹرائر ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں حصہ لے رہا ہے (فوٹو: یو ایس سینٹرل کمانڈ)

اس تعیناتی کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حمل کے راستوں سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھنا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق قبرص کے اکروتیری (Akrotiri) ایئربیس سے ایندھن بھرنے والے طیاروں کی کریٹ (Crete) میں واقع سودا بے (Souda Bay) کی جانب نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔ 

یہ پیش رفت کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے امریکی تیاریوں کی عکاسی کرتی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شروع کیے گئے مذاکرات میں تعطل کی بڑی وجہ مفاہمت کی یادداشت کا پانچواں آرٹیکل ہے، جس پر ایران کو اعتراض ہے۔ 

آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہازوں کی تعیناتی اور سیکیورٹی صورتحال کا منظر
اس وقت جاری خاموشی جنگی تیاریوں میں کمی کا پیش خیمہ نہیں ہے، ماہرین (فوٹو: انٹرنیٹ)

سلطنتِ عمان کی جانب سے تجویز کردہ جنوبی راستے پر ایران تحفظات رکھتا ہے، جبکہ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ معاہدے کے 60 دن کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے۔

دوسری جانب میدانی صورتحال یہ ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے حملوں کے خوف سے جنوبی راستہ تقریباً خالی ہو چکا ہے۔ 

جمعرات کے روز اس راستے سے کوئی بھی تجارتی جہاز نہیں گزرا، جبکہ مجموعی طور پر صرف 15 جہازوں نے ہی آبنائے ہرمز سے سفر کیا جو کہ انتہائی کم تعداد ہے۔

ہم سے جڑے رہیں

عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کا اصل مقصد ایرانی پاسداران انقلاب کی بحری صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے تاکہ ایران سے وہ اہم تزویراتی کارڈ چھینا جا سکے جسے وہ مذاکرات میں بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے۔ 

امریکہ اس صورت حال میں براہ راست تصادم سے بچتے ہوئے اپنی پوزیشن مستحکم رکھنے کا خواہاں ہے۔

اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایرانی حملے جنگ بندی کے خاتمے کا اشارہ ہیں۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے حملے بند نہ کیے تو امریکہ تنازع کو مزید بڑھانے پر مجبور ہوگا، جس سے خطے میں غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے۔