براہ راست نشریات

ترکیہ کا روسی S-44 میزائل سسٹم کسی تیسرے ملک منتقلی پر غور

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ترکیہ کا روسی ایس-400 میزائل سسٹم اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کا عسکری تنازع
ترکیہ فی الحال ان میزائل سسٹمز کو استعمال نہیں کر رہا، تاہم یہ اس کے عسکری ذخیرے کا حصہ ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

ترکیہ اس وقت روس کے ساتھ اپنے ایس-400 فضائی دفاعی نظام کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے کے حوالے سے مشاورت کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد امریکہ کے ساتھ جاری دیرینہ تنازع کو ختم کرنا اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام میں دوبارہ شمولیت کی راہ ہموار کرنا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق انقرہ حکام ماسکو سے ان میزائل سسٹمز کی دوبارہ برآمد کی اجازت کے خواہاں ہیں۔ 

ترکیہ نے یہ نظام 2017 کے معاہدے کے تحت خریدا تھا، جس کے بعد 

امریکہ نے انقرہ پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے اسے جدید ایف-35 طیاروں کے پروگرام سے نکال دیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکیہ فی الحال ان میزائل سسٹمز کو استعمال نہیں کر رہا، تاہم یہ اس کے عسکری ذخیرے کا حصہ ہیں۔

ہم سے جڑے رہیں

حالیہ ہفتوں کے دوران انقرہ اور ماسکو کے درمیان رابطوں میں تیزی آئی ہے، جبکہ اس سے قبل صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے سسٹم واپس کرنے کی تجویز مسترد ہو گئی تھی۔

یاد رہے کہ یہ مذاکرات نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل شروع ہوئے تھے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کو ایف-35 طیاروں کی فروخت پر عائد پابندیوں پر نظر ثانی کے اشارے دیے ہیں۔ 

ترکیہ کا روسی ایس-400 میزائل سسٹم اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کا عسکری تنازع
انقرہ حکام ماسکو سے ان میزائل سسٹمز کی دوبارہ برآمد کی اجازت کے خواہاں ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

ترکیہ نے ماضی میں امریکی نگرانی میں سسٹم رکھنے کی پیشکش کی تھی جسے واشنگٹن نے مسترد کر دیا تھا۔

اُدھر کریملن نے بھی ترکیہ کے ساتھ اس حساس معاملے پر رابطوں کی تصدیق کی ہے۔ 

ترجمان کریملن دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ روس اور ترکیہ کے درمیان اس موضوع پر بات چیت جاری ہے، تاہم انہوں نے اسے انتہائی حساس نوعیت کا معاملہ قرار دیا ہے جس پر مزید مشاورت کی ضرورت ہے۔

ترک اخبار حریت کے مطابق یہ میزائل سسٹم کسی خلیجی ملک منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ 

ترکیہ کا بڑا عسکری و سفارتی فیصلہ

روسی S-400 میزائل سسٹم کی کسی تیسرے ملک منتقلی پر مشاورت تیز

2017

معاہدے کا سال جب ترکیہ نے روس سے سسٹم خریدا

F-35

امریکی طیارہ پروگرام میں دوبارہ واپسی کا ہدف

01

ترکیہ امریکی پابندیاں ختم کرانے کے لیے روسی سسٹم منتقل کرنے کا خواہاں ہے۔

02

روسی میزائل سسٹمز کو کسی خلیجی ملک منتقل کیے جانے کا قوی امکان ہے۔

03

کریملن نے معاملے کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔

انقرہ اس اقدام کے ذریعے نہ صرف واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی ختم کرنا چاہتا ہے بلکہ اسے فروخت کر کے معاشی فوائد حاصل کرنے اور کیٹسا قانون کے تحت عائد پابندیاں ہٹوانے کا خواہاں ہے۔

ابھی تک ماسکو یا انقرہ کی جانب سے کسی حتمی معاہدے یا میزائل سسٹم کی حتمی منزل کے بارے میں باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ 

یہ معاملہ ترکیہ، امریکہ اور روس کے مابین تعلقات میں سب سے زیادہ پیچیدہ اور حساس نوعیت کا حامل سمجھا جاتا ہے جس پر مسلسل بات چیت جاری ہے۔