یورپی پارلیمنٹ کے درجنوں قانون سازوں نے فیفا کے صدر جیانی انفانتینو کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ اقدام امریکی فٹبال کھلاڑی فولارین بالوگن کو ملنے والے ریڈ کارڈ کے باوجود انہیں اگلا میچ کھیلنے کی اجازت دینے کے متنازع فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ فولارین بالوگن کو یکم جولائی کو بوسنیا کے خلاف اہم میچ میں ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا، جس کے بعد وہ اگلے میچ سے باہر ہو گئے تھے۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مبینہ مداخلت کے بعد فیفا نے 25 سالہ کھلاڑی کی معطلی کو اچانک ختم کر دیا تھا۔
فیفا ورلڈکپ میں اس مداخلت کو یورپی پارلیمنٹ کے ارکان باری اینڈریوز، لارا وولٹرز اور نیلز فوگلسانگ نے مشترکہ بیان میں انصاف کا قتل قرار دیا ہے۔
قانون سازوں کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران قوانین میں تبدیلی کرنا فیفا کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے جو کہ نہایت شرمناک ہے۔
علاوہ ازیں قانون سازوں نے یورپی ممالک کی فٹبال فیڈریشنز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فیفا کی اخلاقی کمیٹی پر دباؤ ڈالیں، تاکہ یہ بات عیاں ہو کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ نے واقعی کھلاڑی کی معطلی ختم کرنے میں کوئی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
اس معاملے میں سیاسی غیر جانبداری کی خلاف ورزیوں کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس میں امریکی صدر کو فیفا پیس ایوارڈ دینے کا معاملہ بھی شامل ہے۔
یورپی ارکان کے مطابق فیفا بار بار ٹرمپ انتظامیہ کے ناجائز مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کررہی ہے۔ دوسری جانب فیفا نے اپنے دفاع میں مؤقف اپنایا ہے کہ کھلاڑی کی معطلی ختم کرنے کا فیصلہ ایک تادیبی کمیٹی کا تھا۔
تاہم اب تک 35 یورپی قانون ساز اس تحقیقاتی مطالبے کی حمایت میں دستخط کر چکے ہیں، جن کا ماننا ہے کہ کھیل کی شفافیت ختم ہو رہی ہے۔
قانون سازوں نے زور دیا ہے کہ کھیل کی خوبصورتی، شائقین کا اعتماد منصفانہ اور شفاف قوانین میں پوشیدہ ہے۔
جب فیفا کا صدر سیاسی دباؤ کے تحت کھلاڑیوں کے کھیلنے کا فیصلہ کرتا ہے، تو کھیلوں میں انصاف کا تصور ختم ہو جاتا ہے اور شائقین کا اعتماد بری طرح مجروح ہوتا ہے۔