براہ راست نشریات

کیا مصنوعی ذہانت کو جذباتی اور اخلاقی احساس سکھایا جا سکتا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مصنوعی ذہانت اخلاقی اور جذباتی احساس کی تکنیکی تربیت کے مراحل کے دوران
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل صرف نظریاتی نہیں بلکہ فی الوقت تجرباتی مراحل میں ہے (فوٹو: اے آئی)

مصنوعی ذہانت کی تیزی کے ساتھ جاری ترقی کے ساتھ ہی ماہرین ایک اہم سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا مشینوں کو غلطی پر جواب دہ بنایا جا سکتا ہے؟

مزید پڑھیں

اسی طرح ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اے آئی ایجنٹس کو حساب کتاب (کیلکولیشنز) سے نکال کر اس میں احساسِ ذمہ داری اور اخلاقی اقدار شامل کر سکیں گے؟

نفسیاتی تجربات سے اے آئی کی تربیت

ماہرین نفسیات کے مشہور ’سکینر باکس‘ تجربے میں چوہوں کو مخصوص بٹن دبانے پر سزا یا انعام دیا جاتا تھا۔ 

ٹیک مارکیٹ
ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور جدید گیجٹس کی تازہ ترین خبریں، کلک کریں
مصنوعی ذہانت اخلاقی اور جذباتی احساس کی تکنیکی تربیت کے مراحل کے دوران
کاروباری اداروں کو درپیش سب سے بڑا چیلنج اے آئی کی غلطی سے ہونے والے مالی نقصان کا ازالہ ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

اس عمل سے جانوروں نے درد اور خوشی کے فرق کو سمجھنا سیکھ لیا۔ کیا یہی طریقہ کار مصنوعی ذہانت کو جوابدہ بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے؟

ٹیکنالوجی ایکسپرٹس کے مطابق اس حکمتِ عملی میں اے آئی ایجنٹ کو پوائنٹس سسٹم سے جوڑا جاتا ہے۔

جب سسٹم درست کام کرتا ہے تو اس کے پوائنٹس بڑھ جاتے ہیں اور غلطی کرنے یا قوانین کی خلاف ورزی پر یہ پوائنٹس کم کر دیے جاتے ہیں۔ یہ عمل اسے بہتر کارکردگی پر اکساتا ہے۔

مصنوعی ذہانت اخلاقی اور جذباتی احساس کی تکنیکی تربیت کے مراحل کے دوران
ماہرین ایک اہم سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا مشینوں کو غلطی پر جواب دہ بنایا جا سکتا ہے؟ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ڈیجیٹل والِٹ: احتساب کا نیا طریقہ

کاروباری اداروں کو درپیش سب سے بڑا چیلنج اے آئی کی غلطی سے ہونے والے مالی نقصان کا ازالہ ہے۔

اس کا حل ’ڈیجیٹل والِٹ‘ کی صورت میں تجویز کیا گیا ہے، جہاں اے آئی ایجنٹ کو ایک تنخواہ یافتہ ملازم کی طرح کام پر رکھا جاتا ہے۔

ہم سے جڑے رہیں

اس ماڈل میں اے آئی ایجنٹ کو کرپٹو کرنسی کا ایک بجٹ دیا جاتا ہے اور غلطی کی صورت میں اس کے ڈیجیٹل والِٹ سے رقم کٹوتی کر کے کمپنی کو معاوضہ دیا جاتا ہے۔

اسی طرح ایجنٹ کو شاندار کارکردگی پر بونس ملتا ہے۔ یہ طریقہ کار عملی طور پر احتساب کو یقینی بناتا ہے۔

مصنوعی ذہانت اخلاقی اور جذباتی احساس کی تکنیکی تربیت کے مراحل کے دوران
اے آئی ماڈلز کو ایسے ماحول میں تربیت دی جا رہی ہے جہاں وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

تکنیکی تربیت اور مستقبل

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل صرف نظریاتی نہیں بلکہ فی الوقت تجرباتی مراحل میں ہے۔

اے آئی ماڈلز کو ایسے ماحول میں تربیت دی جا رہی ہے جہاں وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔ انہیں سزاؤں کے طور پر سست رفتار کارکردگی یا محدود رسائی جیسے اقدامات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت اخلاقی اور جذباتی احساس کی تکنیکی تربیت کے مراحل کے دوران
ہم اے آئی کو سزا اور جزا کے ریاضیاتی نظام کے ذریعے ذمہ دار بنا سکتے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

مزید برآں غلطی کرنے والے اے آئی کو ’سینڈ باکس‘ نامی مخصوص محیط ماحول میں قید کر کے پیچیدہ اور تھکا دینے والے ڈیٹا بیس کی درستگی جیسے مشکل کام سونپے جا سکتے ہیں۔ 

اس طرح مشین کے لیے غلطی کا ارتکاب ایک غیر منافع بخش تجربہ بن جاتا ہے۔

اخلاقی سوالات اور انسانی برتری

اگرچہ ہم اے آئی کو سزا اور جزا کے ریاضیاتی نظام کے ذریعے ذمہ دار بنا سکتے ہیں، لیکن پھر بھی یہ ایک بنیادی حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔

مصنوعی ذہانت اخلاقی اور جذباتی احساس کی تکنیکی تربیت کے مراحل کے دوران
مشین صرف ڈیٹا اور پوائنٹس کی زبان سمجھتی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

یعنی مشین صرف ڈیٹا اور پوائنٹس کی زبان سمجھتی ہے، جبکہ احساسِ ذمہ داری کی گہری انسانی اخلاقی قدر بدستور انسان ہی کا خاصہ رہے گی، جس کا متبادل ممکن ہیں۔