براہ راست نشریات

مباپے پر نسل پرستانہ حملہ، میکرون میدان میں، سفارتی بحران

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
کیلیان مباپے نسل پرستی

فرانس اور پیراگوئے کے درمیان ورلڈ کپ کے میچ کے بعد کیلیان مباپے کے خلاف مبینہ نسل پرستانہ بیانات نے سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے مباپے کی حمایت کرتے ہوئے نسل پرستی کی مذمت کی، جبکہ پیراگوئے کی حکومت نے بھی متنازع بیانات سے لاتعلقی اختیار کر لی۔

فرانس اور پیراگوئے کے درمیان فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پری کوارٹر فائنل کی کشیدگی میدان سے نکل کر سیاسی اور سفارتی سطح تک پہنچ گئی، جب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے قومی ٹیم کے کپتان کیلیان مباپے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ان کے خلاف ہونے والے نسل پرستانہ بیانات کی شدید مذمت کی۔

صدر میکرون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ کیلیان مباپے کا ایک اور گول، مگر اس بار نسل پرستی کے خلاف۔ 

میری مکمل حمایت ان کے ساتھ ہے۔ 

جب الفاظ ہماری اقدار کو مجروح کرتے ہیں تو ہمارا جواب عزت، احترام اور اخوت ہوتا ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب مباپے نے پیراگوئے کی سینیٹر سیلیسٹے اماریا کی جانب سے کیے گئے مبینہ نسل پرستانہ تبصروں پر سخت ردعمل دیا۔ 

یہ تنازع فرانس کی جانب سے پیراگوئے کو 0-1 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں رسائی کے بعد شروع ہوا۔

مبابے نے اپنے بیان میں سینیٹر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے منصب کی اہل نہیں اور نہ ہی پیراگوئے کی نمائندگی کرتی ہیں، جس نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کھیل اور بہترین کھیلوں کی روح کا مظاہرہ کیا۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی کو بھی دنیا میں نفرت اور نسل پرستی پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

معاملہ بڑھنے پر پیراگوئے کی حکومت نے بھی فوری طور پر سینیٹر کے بیانات سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت ہر قسم کے نسل پرستانہ رویوں اور نفرت انگیز تقاریر کی مخالفت کرتی ہے۔

ادھر فرانسیسی فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ مباپے کے خلاف کیے گئے بیانات پر قانونی کارروائی کی جائے گی، کیونکہ انہیں نفرت انگیز اور امتیازی اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

اس واقعے نے ایک بار پھر عالمی فٹبال میں نسل پرستی کے مسئلے کو نمایاں کر دیا ہے، حالانکہ فیفا اور مختلف براعظمی فٹبال تنظیمیں کئی برسوں سے اس رجحان کے خلاف سخت مہم چلا رہی ہیں۔

خصوصی رپورٹ
صرف آپ کے لیے، کلک کریں

کیلیان مباپے ماضی میں بھی متعدد مرتبہ سوشل میڈیا اور اسٹیڈیمز میں نسل پرستانہ حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں اور وہ مسلسل مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف مزید سخت سزائیں متعارف کرائی جائیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق صدر میکرون کی فوری مداخلت اس بات کی علامت ہے کہ فرانس میں نسل پرستی کے معاملات اب صرف کھیل تک محدود نہیں رہے بلکہ قومی اقدار، سماجی ہم آہنگی اور ریاستی موقف کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔

ورلڈ کپ کی تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں