فرانس اور پیراگوئے کے درمیان ورلڈ کپ کے میچ کے بعد کیلیان مباپے کے خلاف مبینہ نسل پرستانہ بیانات نے سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے مباپے کی حمایت کرتے ہوئے نسل پرستی کی مذمت کی، جبکہ پیراگوئے کی حکومت نے بھی متنازع بیانات سے لاتعلقی اختیار کر لی۔
فرانس اور پیراگوئے کے درمیان فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پری کوارٹر فائنل کی کشیدگی میدان سے نکل کر سیاسی اور سفارتی سطح تک پہنچ گئی، جب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے قومی ٹیم کے کپتان کیلیان مباپے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ان کے خلاف ہونے والے نسل پرستانہ بیانات کی شدید مذمت کی۔
صدر میکرون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ کیلیان مباپے کا ایک اور گول، مگر اس بار نسل پرستی کے خلاف۔
میری مکمل حمایت ان کے ساتھ ہے۔
جب الفاظ ہماری اقدار کو مجروح کرتے ہیں تو ہمارا جواب عزت، احترام اور اخوت ہوتا ہے۔
Un but de plus pour Kylian Mbappé. Contre le racisme cette fois. Tout mon soutien. Quand les mots salissent, nos valeurs répondent : dignité, respect, fraternité. @KMbappe 👏
— Emmanuel Macron (@EmmanuelMacron) July 6, 2026
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب مباپے نے پیراگوئے کی سینیٹر سیلیسٹے اماریا کی جانب سے کیے گئے مبینہ نسل پرستانہ تبصروں پر سخت ردعمل دیا۔
یہ تنازع فرانس کی جانب سے پیراگوئے کو 0-1 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں رسائی کے بعد شروع ہوا۔
مبابے نے اپنے بیان میں سینیٹر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے منصب کی اہل نہیں اور نہ ہی پیراگوئے کی نمائندگی کرتی ہیں، جس نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کھیل اور بہترین کھیلوں کی روح کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی کو بھی دنیا میں نفرت اور نسل پرستی پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
Madame Celeste Amarilla,
— Kylian Mbappé (@KMbappe) July 6, 2026
Vous êtes une femme méprisable et indigne de sa fonction.
Vous ne représentez pas le Paraguay, ce pays qui a transpiré la passion et l’honneur tout au long de la compétition. Par votre inconscience et votre racisme décomplexé, le monde entier a déjà… pic.twitter.com/EnYmgQXvPL
معاملہ بڑھنے پر پیراگوئے کی حکومت نے بھی فوری طور پر سینیٹر کے بیانات سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت ہر قسم کے نسل پرستانہ رویوں اور نفرت انگیز تقاریر کی مخالفت کرتی ہے۔
ادھر فرانسیسی فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ مباپے کے خلاف کیے گئے بیانات پر قانونی کارروائی کی جائے گی، کیونکہ انہیں نفرت انگیز اور امتیازی اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر عالمی فٹبال میں نسل پرستی کے مسئلے کو نمایاں کر دیا ہے، حالانکہ فیفا اور مختلف براعظمی فٹبال تنظیمیں کئی برسوں سے اس رجحان کے خلاف سخت مہم چلا رہی ہیں۔
کیلیان مباپے ماضی میں بھی متعدد مرتبہ سوشل میڈیا اور اسٹیڈیمز میں نسل پرستانہ حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں اور وہ مسلسل مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف مزید سخت سزائیں متعارف کرائی جائیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر میکرون کی فوری مداخلت اس بات کی علامت ہے کہ فرانس میں نسل پرستی کے معاملات اب صرف کھیل تک محدود نہیں رہے بلکہ قومی اقدار، سماجی ہم آہنگی اور ریاستی موقف کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔