براہ راست نشریات

اوپیک پلس کا بڑا فیصلہ، اگست سے تیل کی پیداوار میں اضافہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

اوپیک پلس کے تحت سعودی عرب، روس اور دیگر 6 ممالک نے عالمی تیل مارکیٹ کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے اگست 2026 سے یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی تیل پیدا کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ مستقبل کے فیصلے مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق کیے جائیں گے۔

سعودی عرب، روس، عراق، کویت، قازقستان، الجزائر اور سلطنت عمان نے اوپیک پلس کے رضاکارانہ پیداوار میں کمی کے معاہدے کے تحت اگست 2026 سے تیل کی پیداوار میں یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ فیصلہ آج اتوار کو ساتوں ممالک کے ورچوئل اجلاس میں کیا گیا، جس میں عالمی تیل مارکیٹ کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ 

اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تیل کی عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھنا تمام شریک ممالک کی مشترکہ ترجیح ہے۔

مزید پڑھیں

اجلاس کے اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ اپریل 2023 میں اعلان کردہ رضاکارانہ اضافی کٹوتیوں کی مرحلہ وار واپسی کا حصہ ہے۔ 

تاہم ممالک نے واضح کیا کہ پیداوار میں اضافے کی رفتار مکمل طور پر مارکیٹ کی صورتحال سے مشروط ہوگی، اور ضرورت پڑنے پر اضافے کو روکنے، کم کرنے یا واپس لینے کا اختیار بھی برقرار رہے گا۔

اوپیک پلس کے رکن ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ اعلانِ 

تعاون اور پیداوار میں کمی سے متعلق تمام فیصلوں پر مکمل عمل درآمد کے پابند ہیں، جبکہ جنوری 2024 سے مقررہ حد سے زیادہ پیداوار کرنے والے ممالک اس اضافی پیداوار کا ازالہ بھی جاری رکھیں گے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ موجودہ فیصلہ متعلقہ ممالک کو اپنے ازالہ منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد کا موقع فراہم کرے گا، جبکہ مشترکہ وزارتی نگرانی کمیٹی JMMC پیداوار، معاہدوں کی پاسداری اور ازالہ منصوبوں کی مسلسل نگرانی کرتی رہے گی۔

ساتوں ممالک کا اگلا اجلاس 2 اگست 2026 کو ہوگا، جس میں عالمی تیل مارکیٹ، معاہدوں پر عمل درآمد اور ازالہ منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

خصوصی رپورٹ
صرف آپ کے لیے، کلک کریں