برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ نے ایک خفیہ انٹیلی جنس فائل کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں، جس نے لندن کے سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
مزید پڑھیں
برطانوی خفیہ ایجنسی ’ایم آئی 6‘کے سابق افسر کرسٹوفر اسٹیل کی تیار کردہ یہ فائل، جسے ’پروجیکٹ فش‘ کا نام دیا گیا ہے، دعویٰ کرتی ہے کہ روسی انٹیلی جنس ایجنسیاں گزشتہ 4 دہائیوں سے برطانوی سیاست کے اہم ترین کرداروں کی کڑی نگرانی کر رہی ہیں۔
’پروجیکٹ فش‘ کیا ہے ؟
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ فائل 2022 کے موسم خزاں میں
کرسٹوفر اسٹیل نے اپنی نجی مشاورتی خدمات کے دوران تیار کی تھی۔
فائل کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ روسی انٹیلیجنس نے ایسے افراد کی ایک فہرست مرتب کی تھی جنہیں مستقبل میں اثر و رسوخ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا جن سے روسی مفادات کے لیے مدد لی جا سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فائل کسی بھی برطانوی سیاست دان پر براہِ راست جاسوسی یا غداری کا الزام نہیں لگاتی، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ ماسکو کس طرح ان شخصیات کو اپنی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھتا ہے۔
نشان زدہ شخصیات
اس رپورٹ میں کئی قدآور سیاسی شخصیات کے نام شامل ہیں:
- پیٹر مینڈلسن: سابق لیبر پارٹی رہنما کے بارے میں فائل میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ روسی حکام کے لیے ایک ’مخصوص رابطہ کار‘ تھے، تاہم مینڈلسن کے قریبی ذرائع نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا سیاسی ریکارڈ ہمیشہ کریملن کی پالیسیوں کے خلاف رہا ہے۔
- بورس جانسن: فائل کے مطابق روسی انٹیلی جنس نے جانسن کے آکسفورڈ میں طالب علمی کے دور سے ہی ان کی نگرانی شروع کر دی تھی۔ روسی اندازوں کے مطابق اگرچہ وہ ذہین تھے لیکن اپنی غیر متوقع شخصیت کی وجہ سے ایک ’مستحکم طویل مدتی اثاثہ‘ ثابت نہ ہو سکے۔ بورس جانسن نے ان دعووں کا مذاق اُڑاتے ہوئے اسے سوویت یونین کی سرد جنگ میں شکست کا ایک سبب قرار دیا۔
- دیگر اہم نام: فائل میں ڈومینک کمنگز (بورس جانسن کے سابق مشیر)، نائیجل فراج (سربراہ ریفارم یو کے) اور جیرمی کوربن (سابق لیبر رہنما) کا بھی تذکرہ ہے۔ جہاں نائیجل فراج کے معاملے میں روسی حکام خود منقسم نظر آئے، وہیں کوربن کے بارے میں کہا گیا کہ ان کے نظریات نیٹو، شام اور اسکریپل معاملے پر روسی بیانیے سے مطابقت رکھتے تھے، تاہم ان کے پاس کسی براہِ راست رابطے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
رپورٹ کی ساکھ پر سوالیہ نشان
یہ فائل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کرسٹوفر اسٹیل کی ساکھ پر پہلے ہی بحث جاری ہے۔
یاد رہے کہ 2016 کے امریکی انتخابات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے مبینہ تعلقات پر مشتمل اسٹیل کی رپورٹ کو بعد ازاں امریکی تحقیقات میں غیر مصدقہ قرار دیا گیا تھا۔
اسی پس منظر میں مبصرین کا کہنا ہے کہ ’پروجیکٹ فش‘ میں موجود معلومات کی تصدیق کرنا ایک مشکل کام ہے اور اس کے کئی ذرائع مشکوک ہو سکتے ہیں۔
برطانوی اسٹیبلشمنٹ کا امتحان
اگرچہ یہ فائل قانونی طور پر کسی کو مجرم ثابت نہیں کرتی، لیکن اس کا افشا ہونا برطانوی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک امتحان ہے۔
حیران کن طور پر برطانوی حکومت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، خاص طور پر پیٹر مینڈلسن کے 2025 میں بطور سفیرِ امریکہ تقرری کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات پر۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر جاسوسی کی جنگ اب صرف خفیہ دستاویزات تک محدود نہیں رہی، بلکہ سیاسی شخصیات کی پروفائلنگ اور ان کی عوامی ساکھ کو متاثر کرنا بھی اس کا حصہ بن چکا ہے۔
’پروجیکٹ فش‘ کی اہمیت اس کے قانونی ثبوتوں میں نہیں، بلکہ اس طریقہ کار کو سمجھنے میں ہے جس کے ذریعے غیر ملکی ایجنسیاں جمہوری نظام کے اندر اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
یہ فائل اس بڑھتی ہوئی رقابت کی ایک جھلک ہے جو ماسکو اور مغرب کے درمیان انٹیلی جنس کے محاذ پر جاری ہے۔