عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعرات کو سونے کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ خام تیل میں مسلسل کمی دیکھی گئی۔ کمزور امریکی روزگار کے اعداد و شمار نے شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کو تقویت دی، جبکہ سرمایہ کار غیر زرعی ملازمتوں کی رپورٹ کے منتظر ہیں۔
جمعرات کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ خام تیل مسلسل تیسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہا۔
دوسری جانب امریکی ڈالر تقریباً مستحکم رہا کیونکہ سرمایہ کار امریکہ کی غیر زرعی ملازمتوں Non-Farm Payrolls کی رپورٹ کے منتظر ہیں، جو فیڈرل ریزرو کی آئندہ مالیاتی پالیسی کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گی۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی نجی شعبے کی ملازمتوں کے اعداد و شمار توقعات سے کم رہے اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی کے خدشات بھی کم ہوئے۔
اسی بنا پر منڈیوں میں یہ توقعات مضبوط ہو رہی ہیں کہ اگر معاشی سست روی کے آثار برقرار رہے تو امریکی مرکزی بینک ستمبر میں شرح سود میں کمی کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
اسپاٹ مارکیٹ میں سونے کی قیمت تقریباً 4116 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ اگست کے لیے امریکی گولڈ فیوچر 4082.7 ڈالر فی اونس کے قریب رہے۔
سونے کی اس تیزی کی بنیادی وجہ امریکی ادارے اے ڈی پی ADP کی رپورٹ رہی، جس کے مطابق جون میں نجی شعبے میں صرف 98 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں۔
جبکہ ماہرین 118 ہزار نئی ملازمتوں کی توقع کر رہے تھے۔
کمزور اعداد و شمار نے اس تاثر کو تقویت دی کہ امریکی لیبر مارکیٹ کی رفتار سست پڑ رہی ہے، جس سے فیڈرل ریزرو پر شرح سود میں نرمی کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
🥇 سونے میں تیزی
کمزور امریکی نجی ملازمتوں کے اعداد و شمار کے بعد سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دوبارہ سونے کی طرف متوجہ ہو گئے۔
🛢 تیل پر دباؤ
امریکا ایران مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات کے بعد خام تیل مسلسل تیسرے روز دباؤ میں رہا۔
📉 شرح سود کی توقعات
مارکیٹ میں ستمبر کے دوران فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کے امکانات مضبوط ہو رہے ہیں۔
💵 ڈالر مستحکم
امریکی ڈالر تقریباً مستحکم رہا، جبکہ سرمایہ کار سرکاری ملازمتوں کی رپورٹ سے پہلے محتاط دکھائی دیے۔
- سونا 4116 ڈالر فی اونس کے قریب پہنچ گیا۔
- تیل مذاکراتی پیش رفت کے باعث دباؤ میں رہا۔
- کمزور ADP رپورٹ نے شرح سود میں کمی کی امید بڑھائی۔
- ڈالر مستحکم جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹیں محتاط رہیں۔
- امریکی ملازمتوں کی رپورٹ مارکیٹ کی اگلی سمت طے کرے گی۔
- کمزور رپورٹ کی صورت میں سونے میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔
- تیل کی قیمتیں ہرمز اور ایران امریکا مذاکرات سے متاثر رہیں گی۔
- ڈالر، بانڈز اور اسٹاک مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور روزگار کے اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دوبارہ سونے کی جانب راغب کیا ہے۔
اے بی سی ریفائنری کے ڈائریکٹر نکولس فرابل کے مطابق موجودہ سطح پر سونے میں شارٹ سیلنگ کے لیے سرمایہ کار محتاط ہیں اور قیمتوں کو نیچے دھکیلنے کی ہر کوشش کو خریدار ناکام بنا رہے ہیں۔
ان کے مطابق اگر آج جاری ہونے والی امریکی سرکاری ملازمتوں کی رپورٹ بھی کمزور رہی تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق مالیاتی منڈیاں اس وقت تقریباً 64 فیصد امکان ظاہر کر رہی ہیں کہ فیڈرل ریزرو ستمبر میں شرح سود میں کمی کرے گا، اس لیے آج کی ملازمتوں کی رپورٹ سرمایہ کاروں کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی۔
چاندی تقریباً 59.7 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1622 ڈالر اور پیلیڈیم 1230 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔
دوسری جانب خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کی بڑی وجہ قطر میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات ہیں۔
ان مذاکرات کا محور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ تھا، جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی تھی۔
قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق اسلام آباد میں جون کے دوران طے پانے والی مفاہمتی یادداشت سے متعلق معاملات پر مثبت پیش رفت ہوئی، تاہم مستقل امن کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
ان خبروں کے بعد برینٹ خام تیل تقریباً 71 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ WTI تقریباً 67.4 ڈالر فی بیرل تک گر گیا، جو کئی ماہ کی کم ترین سطح ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی عالمی مہنگائی کے دباؤ کو کم کر سکتی ہے، جس سے فیڈرل ریزرو کو شرح سود میں نرمی کا زیادہ موقع مل سکتا ہے۔
کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر تقریباً مستحکم رہا، جبکہ جاپانی ین 4 دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا، جس سے جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت سے متعلق قیاس آرائیاں بھی بڑھ گئیں۔
ڈالر انڈیکس تقریباً 101.2 پوائنٹس پر رہا جبکہ ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 162 جاپانی ین رہی۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق جون میں امریکہ میں تقریباً 110 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہونے اور بے روزگاری کی شرح 4.3 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع ہے۔
اگر رپورٹ ان اندازوں سے مختلف آئی تو عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
ادھر عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی دباؤ کا شکار رہیں۔ امریکہ میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں فروخت کے رجحان نے ایشیائی اور یورپی منڈیوں کو بھی متاثر کیا۔ جاپان کا نکی 225 انڈیکس دو فیصد سے زیادہ گر گیا، جبکہ یورپی ٹیکنالوجی سیکٹر میں بھی تقریباً 1.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
امریکہ میں بدھ کے روز نیسڈیک 0.65 فیصد، ایس اینڈ پی 500 0.19 فیصد جبکہ ڈاؤ جونز معمولی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت بڑے فیصلوں سے گریز کر رہے ہیں اور امریکی ملازمتوں کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ یہی رپورٹ آئندہ ہفتوں میں سونے، تیل، ڈالر، بانڈز اور عالمی اسٹاک مارکیٹوں کی سمت کا تعین کرے گی۔
اس وقت عالمی مالیاتی منڈیوں کی نظریں امریکی لیبر مارکیٹ کے اعداد و شمار پر مرکوز ہیں، کیونکہ یہی اعداد و شمار فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی اور عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات کا فیصلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔