امریکی بانڈز کی بڑھتی ہوئی پیداوار، مضبوط ڈالر اور امریکہ، ایران کشیدگی کے باعث گولڈ کی قیمتوں میں مسلسل دباؤ برقرار ہے۔
سونا 7 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ سرمایہ کار امریکی روزگار کے اہم اعدادوشمار کے منتظر ہیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکی نمائندوں سے ملاقات سے انکار کے بعد تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
آج بدھ کے روز گولڈ کی قیمتوں میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی اور گزشتہ سیشن میں 7 ماہ کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد بھی دباؤ برقرار رہا۔
امریکی خزانے کے بانڈز کی بڑھتی ہوئی پیداوار، مضبوط ڈالر اور امریکہ و ایران کے درمیان مستقل امن معاہدے کی امیدوں کے کمزور پڑنے سے مہنگائی کے خدشات برقرار ہیں، جس کے باعث امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات مضبوط ہو گئی ہیں۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت تقریباً 1.1 فیصد کمی کے بعد 3,959 ڈالر فی اونس تک آ گئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 3,942.99 ڈالر فی اونس تک گر گئی تھی، جو گزشتہ نومبر کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔
مزید پڑھیں
اسی طرح اگست کی ترسیل کے لیے امریکی گولڈ فیوچر کنٹریکٹس بھی 1.5 فیصد کمی کے ساتھ 3,978.2 ڈالر فی اونس پر آ گئے، جس سے قیمتی دھات پر فروخت کا دباؤ مزید واضح ہو گیا۔
گزشتہ روز سونے نے 2013 کے بعد اپنی سب سے بڑی سہ ماہی گراوٹ ریکارڈ کی، جبکہ جون میں مسلسل چوتھے ماہ بھی اس کی قیمت میں کمی دیکھی گئی۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث مہنگائی کے خدشات میں اضافہ ہوا، جس نے امریکی شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات کو تقویت دی۔
عالمی معاشی تجزیاتی ادارے ٹیسٹی لائیو کے گلوبل میکرو اکنامکس کے سربراہ ایلیا اسپیواک کے مطابق امریکی بانڈز کی بڑھتی ہوئی پیداوار ہی سونے کی قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ ہے، جبکہ ڈالر کی مضبوطی نے بھی سونے کو دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے مزید مہنگا بنا دیا ہے۔
اسی دوران امریکی ڈالر میں معمولی اضافہ اور 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں اضافے نے بھی سونے کی کشش کو کمزور کیا، کیونکہ سونا کسی قسم کی منافع بخش آمدنی فراہم نہیں کرتا۔
سونے کی قیمت 7 ماہ کی کم ترین سطح پر
سونے کے فیوچر کنٹریکٹس مسلسل دباؤ میں ہیں۔ قیمت $5,400 سے اوپر کی سطح سے پھسل کر $4,000 سے نیچے آگئی، جبکہ مارکیٹ میں فروخت کا رجحان غالب ہے۔
ایک منٹ کا خلاصہ
چارٹ واضح کرتا ہے کہ ریکوری کی ہر کوشش کمزور رہی اور قیمت بتدریج نیچے آتی گئی۔ $4,000 کی سطح ٹوٹنے کے بعد سونے پر دباؤ مزید نمایاں ہوگیا۔
مارکیٹ کے اندازوں کے مطابق سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول نے ستمبر میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکان کو تقریباً 67 فیصد ظاہر کیا ہے، جو سخت مانیٹری پالیسی کے تسلسل کی توقعات کی عکاسی کرتا ہے۔
سرمایہ کار آج اے ڈی پی کی جانب سے جاری کیے جانے والے جون کے روزگار کے اعدادوشمار اور کل جمعرات کو جاری ہونے والی نان فارم پے رولز رپورٹ کے منتظر ہیں، کیونکہ یہ اعدادوشمار آئندہ امریکی شرح سود اور سونے کی قیمتوں کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے یہ اعلان کہ وہ خطے میں پہنچنے والے امریکی نمائندوں سے ملاقات نہیں کرے گا، تیل کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنا۔ نئی جھڑپوں نے سفارتی پیش رفت کی امیدوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی مندی دیکھی گئی۔
چاندی 1.4 فیصد کمی کے بعد 57.75 ڈالر فی اونس پر آ گئی، پلاٹینم 0.6 فیصد گر کر 1,542 ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ پیلیڈیم 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 1,199.34 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتا رہا۔