یورپی یونین نے تارکین وطن کے حوالے سے ایک اہم قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت ان افراد کو واپس بھیجنے کے مراکز قائم کیے جائیں گے جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔
مزید پڑھیں
17 جون کو ہونے والی ووٹنگ میں 418 ارکان نے قانون کی حمایت کی۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت اس نعرے کی عملی تعبیر ہے جو ماضی میں دائیں بازو کی جماعتیں لگاتی آئی ہیں۔
اب یہ محض انتخابی نعرہ نہیں رہا بلکہ یورپی یونین کی باقاعدہ انتظامی اور سیاسی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے جس سے یورپ کی مجموعی سیاسی سمت میں واضح تبدیلی نظر آتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ دائیں بازو کی نظریاتی فتح ہے کیونکہ روایتی دائیں بازو کی جماعتوں نے بھی اس اقدام کو تاریخی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب دائیں بازو کے رہنما جارڈن بارڈیلا کا دعویٰ ہے کہ یہ پالیسی ان کے ایجنڈے کے عین مطابق ہے جو اب پورے یورپ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
نئی پالیسی کے تحت یورپی ممالک کو اجازت ہوگی کہ وہ تارکین وطن کی واپسی کے لیے تیسرے ممالک میں مراکز قائم کریں۔
اس اقدام کا مقصد پناہ گزینوں کو یورپی سرزمین سے دُور رکھنا ہے، جس سے بین الاقوامی تحفظ کے نظام کے بجائے اخراج پر مبنی حکمت عملی کو ترجیح دی گئی ہے۔
یہ عمل دراصل تارکین وطن کے انتظام کو بیرونی ممالک کے سپرد کرنے کے طویل سلسلے کی کڑی ہے۔
واضح رہے کہ اِس سے قبل ترکی، لیبیا اور تیونس کے ساتھ معاہدے کیے گئے تھے، لیکن اب یہ عمل مراکز کے قیام تک پہنچ چکا ہے جس پر انسانی حقوق کے حلقوں کو شدید تحفظات ہیں۔
یورپ کی پالیسی میں تاریخی تبدیلی
تارکین وطن کی واپسی کا نیا قانون منظور
حمایت میں ووٹ (17 جون 2026)
موجودہ ملک بدری عملدرآمد شرح
پالیسی کا موازنہ اور اہداف
نئی حکمت عملی اور خدشات
تیسرے ممالک میں مراکز: یورپی سرزمین سے دور تارکین وطن کو رکھنے کے لیے مراکز کا قیام۔
سیاسی تبدیلی: دائیں بازو کا انتخابی نعرہ اب یورپی یونین کی باقاعدہ انتظامی پالیسی بن چکا ہے۔
انسانی حقوق کے تحفظات: ناقدین کے مطابق ان مراکز میں اپیل کا حق اور قانونی پیچیدگیاں شدید ہوں گی۔
by: overseaspost.net
ناقدین کا کہنا ہے کہ ان مراکز میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی جہاں پناہ کے حق یا ملک بدری کے فیصلوں کے خلاف اپیل کرنا مشکل ہوگا۔
اس قانون سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بھی خدشہ ہے کیونکہ یورپی یونین اب تارکین وطن کو روکنے کے لیے آمرانہ نظاموں سے تعاون کرنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کر رہی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اب تارکین وطن کے انتظام کے لیے ٹھیکیداری کے اصول پر کام کر رہی ہے تاکہ اپنی سرحدوں سے باہر مراکز قائم کیے جا سکیں۔
اس عمل میں انسانی حقوق کے ان اصولوں کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے جن کا یورپی یونین ماضی میں پرچار کرتی رہی ہے۔
موجودہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بدری کے فیصلوں پر عمل درآمد کی شرح صرف 20 فیصد ہے، جس کی وجہ سے یونان، جرمنی اور ہالینڈ جیسے ممالک نے دباؤ ڈالا۔
اس کارکردگی کو بہتر بنانے کی دوڑ میں اب ایسے انتظامی علاقے بنائے جا رہے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی غیر واضح ہے۔
بائیں بازو اور گرین پارٹیوں کے رہنماؤں نے اس قانون کو غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی قرار دیا ہے۔
اس پیش رفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یورپی سیاست میں پاپولزم اور سیکیورٹی خدشات کے دباؤ تلے روایتی سیاسی قوتیں اب انتہائی دائیں بازو کے نظریات کو اپنانے پر مجبور ہو چکی ہیں۔