براہ راست نشریات

ابن البواب: عظیم خطاط جس نے عربی حروف کو نئی روح اور حسن بخشا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عظیم عربی خطاط ابن البواب کا تیار کردہ تاریخی نسخہ
ابن البواب کے والد ایک دربان تھے، اسی نسبت سے وہ ابن البواب کہلائے (فوٹو: اے آئی)

ابو الحسن علی بن ہلال بغدادی، جو تاریخ میں ابن البواب کے نام سے مشہور ہیں، عربی خطاطی کی تاریخ کا ایک درخشاں نام ہیں۔

مزید پڑھیں

عباسی دور میں بغداد میں مقیم اس عظیم فنکار نے ابن مقلہ کے وضع کردہ ہندسی اصولوں کو مزید وسعت دے کر عربی حروف کو ایک نئی جمالیاتی شکل عطا کی۔

ابن البواب کے والد ایک دربان تھے، اسی نسبت سے وہ ابن البواب کہلائے۔  انہوں نے ابن مقلہ کے سخت اور خشک ہندسی اصولوں میں لچک، نفاست اور مٹھاس پیدا کی۔ 

کہا جاتا ہے کہ ابن مقلہ نے خط کے اصول بنائے تو ابن البواب نے ان اصولوں میں روح پھونک دی۔

اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز انہوں نے ایک معمولی نقش نگار اور مصور کے طور پر کیا، جس نے انہیں رنگوں، خالی جگہوں اور توازن کا گہرا شعور دیا۔ 

عظیم عربی خطاط ابن البواب کا تیار کردہ تاریخی نسخہ
وہ صرف ایک ماہر خطاط ہی نہیں بلکہ ایک ادیب، شاعر اور عالم دین بھی تھے (فوٹو: انٹرنیٹ)

انہوں نے خطاطی کی تعلیم ابن مقلہ کی بہن یا ان کے شاگردوں سے حاصل کی اور اس فن کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔

وہ صرف ایک ماہر خطاط ہی نہیں بلکہ ایک ادیب، شاعر اور عالم دین بھی تھے۔ 

بغداد کی جامع مسجد المنصور کے امام کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے علاوہ انہوں نے شیراز میں بہاالدولہ بن عضد الدولہ کی لائبریری کے نگراں اور ایک کاتب کے طور پر بھی کام کیا۔

ابن البواب نے خطاطی کے 6 اہم اسالیب یعنی ثلث، نسخ، توقیع، محقق، ریحانی اور رقاع کو کمال تک پہنچایا۔ 

عظیم عربی خطاط ابن البواب کا تیار کردہ تاریخی نسخہ
ابن مقلہ نے خط کے اصول بنائے تو ابن البواب نے ان اصولوں میں روح پھونک دی (فوٹو: انٹرنیٹ)

ان کے حروف میں ایسا توازن اور ہم آہنگی تھی کہ ناقدین اسے آنکھوں کو مسحور کر دینے والا فن قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے ہی نسخ کو کتابت اور مصاحف کے لیے ایک مستقل اور خوبصورت خط بنایا۔

ان کا سب سے بڑا شاہکار ’مصحفِ چیسٹر بیٹی‘ ہے، جو 391 ہجری (1001 عیسوی) میں تحریر کیا گیا۔ 

یہ تاریخ کا پہلا مصحف ہے جو ہرن کی کھال کے بجائے کاغذ پر لکھا گیا، جس میں ریحانی اور محقق خطوط کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ نایاب نسخہ آج آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں محفوظ ہے۔

انہوں نے اپنے علم کو عام کرنے کے لیے ’الرائية‘ نامی ایک منظومہ بھی لکھا، جس میں قلم اور سیاہی کی تیاری کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ 

عظیم عربی خطاط ابن البواب کا تیار کردہ تاریخی نسخہ
انہوں نے ابن مقلہ کے سخت اور خشک ہندسی اصولوں میں لچک، نفاست اور مٹھاس پیدا کی (فوٹو: انٹرنیٹ)

اُن کی یہ تعلیمات عراق، شام، مصر اور ایران سمیت پوری اسلامی دنیا کے خطاطوں کے لیے صدیوں تک مشعل راہ بنی رہیں۔

ابن البواب کی وفات 413 ہجری (1022 عیسوی) میں ہوئی۔ 

ان کا چھوڑا ہوا فنی ورثہ آج بھی عباسی دور کی قدیم مخطوطات سے لے کر جدید مساجد کے کتبوں اور دنیا بھر کی آرٹ گیلریوں میں ایک اعلیٰ بصری فن کے طور پر زندہ و تابندہ ہے۔