براہ راست نشریات

کینیڈا کا توانائی بحران سے نجات کا منصوبہ: پہلی قومی جوہری پالیسی تیار

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
کینیڈا کی نئی قومی جوہری پالیسی اور انرجی پلان
کینیڈا کا مقصد توانائی کا تحفظ اور کلین انرجی و جدید جوہری ٹیکنالوجی میں عالمی رہنما بنانا ہے (فوٹو: اے آئی)

کینیڈا نے اپنی تاریخ میں پہلی بار قومی جوہری توانائی حکمت عملی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے روایتی توانائی شعبے کو پائیدار معاشی ترقی کے مرکزی انجن میں تبدیل کرنا ہے۔

مزید پڑھیں

منصوبے کا ہدف توانائی کا تحفظ یقینی بنانا اور کینیڈا کو کلین انرجی و جدید جوہری ٹیکنالوجی میں عالمی رہنما بنانا ہے۔

اقتصادی بحالی کے لیے اہم قدم

یہ حکمت عملی ایک ایسے نازک معاشی موڑ پر سامنے آئی ہے جب کینیڈا کو گزشتہ 2 سہ ماہیوں میں مجموعی ملکی پیداوار (GDP) میں گراوٹ کے باعث ہلکے معاشی جمود کا سامنا ہے۔ 

واضح رہے کہ کینیڈا میں سال 2026 میں نمو کی شرح 1.1 فیصد سے 1.5 فیصد کے درمیان متوقع ہے۔

حکمت عملی کے بنیادی ستون

حکومتی دستاویز کے مطابق یہ منصوبہ توانائی سیکیورٹی اور اخراج میں کمی کے درمیان توازن قائم کرے گا۔

اس کے 4 اہم نکات میں مقامی سطح پر 10 بڑے ری ایکٹرز کی تعمیر، 2050 تک بجلی کی ترسیلی صلاحیت کو دگنا کرنا، یورینیم کی برآمدات میں اضافہ اور اسمال ری ایکٹرز جیسی مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری شامل ہیں۔

کینیڈا کی نئی قومی جوہری پالیسی اور انرجی پلان
اس اقدام کا مقصد ملک کے روایتی توانائی شعبے کو پائیدار معاشی ترقی کے مرکزی انجن میں تبدیل کرنا ہے (فوٹو: اے آئی)

سیاسی اختلاف اور خدشات

کینیڈین کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر بویلِیوِر نے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے اسے محض اعلانات قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نتائج دینے میں ناکام رہی ہے، لہٰذا جوہری ریگولیٹری قوانین میں نرمی کی جائے تاکہ منصوبوں کی تکمیل تیز تر اور بجلی سستی ہو سکے۔

معاشی ترقی کا نیا محرک

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ یہ جوہری پروگرام کینیڈا کے لیے ایک بڑا معاشی محرک ثابت ہوگا۔

توقع ہے کہ اس منصوبے سے بنیادی ڈھانچے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی اور انجینئرنگ، مینوفیکچرنگ و تکنیکی شعبوں میں ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ 

یہ پائیدار بجلی کی فراہمی صنعتوں کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنائے گی۔

کینیڈا کی نئی قومی جوہری پالیسی اور انرجی پلان
اونٹاریو میں ڈارلنگٹن نیوکلیئر پاور پلانٹ (فوٹو: اونٹاریو پاور جنریشن کمپنی)

برآمدات اور تجارتی توازن

سائمن فریزر یونیورسٹی کے پروفیسر عادل اسکندر کے مطابق اس منصوبے پر 100 ارب ڈالر سے زائد لاگت آئے گی جو معیشت کو سہارا دے گی۔

کینیڈا کی جانب سے یورینیم اور جوہری ٹیکنالوجی کی برآمدات سے نہ صرف غیر ملکی زرمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ برآمدی منڈیوں میں تنوع بھی آئے گا، جس سے امریکہ پر انحصار کم ہوگا۔

خود انحصاری اور بیرونی دباؤ

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی کینیڈا کو بیرونی توانائی کے جھٹکوں سے بچانے کے لیے ایک ڈھال کا کام کرے گی۔

مقامی سطح پر بجلی کی وافر فراہمی سے امریکی درآمدات پر انحصار کم ہوگا، تاہم میک ماسٹر یونیورسٹی کے ماہر معاشیات عاطف قبرصی کا کہنا ہے کہ جوہری برآمدات تجارتی خسارے کا مکمل متبادل نہیں بن سکتیں، بلکہ یہ ایک جزوی تلافی ہیں۔

کینیڈا کی نئی قومی جوہری پالیسی اور انرجی پلان
کینیڈا میں بروس نیوکلیئر پاور پلانٹ (فوٹو: بروس پاور کمپنی)

یورینیم کی عالمی منڈی

کینیڈا میں یورینیم کی پیداوار کا مرکز شمالی ساسکیچیوان ہے۔ 2024 میں تقریباً 14.3 سے 16.9 ہزار ٹن یورینیم پیدا ہوا، جس کی مالیت 3 ارب کینیڈین ڈالر (2.14 ارب امریکی ڈالر) تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پیداوار کا 90 فیصد برآمد کیا جاتا ہے، جس سے کینیڈا عالمی توانائی سیکیورٹی میں ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کینیڈا کی یہ نئی جوہری حکمت عملی طویل المدتی معاشی استحکام کی جانب ایک جرأت مندانہ قدم ہے۔ 

اگرچہ اسے سیاسی چیلنجز اور تجارتی رکاوٹوں کا سامنا ہے، لیکن جوہری ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ملک کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانے اور عالمی سطح پر ایک اہم اسٹریٹجک طاقت کے طور پر مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔