افریقہ دنیا کے سونے کے تقریباً 40 فیصد ذخائر کا مالک ہے، تاہم اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق یہ خطہ اپنی اس عظیم دولت سے بہت محدود فوائد حاصل کر پاتا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک سے نکالا جانے والا سونا بڑی مقدار میں برآمد کر دیا جاتا ہے۔
تجارتی مسائل
رپورٹ کے مطابق برآمدی سونے کا بڑا حصہ برطانیہ بھیجا جاتا ہے، جہاں اس کی ریفائننگ، قیمتوں کا تعین اور فروخت ہوتی ہے۔
افریقہ پریکٹس کی تجزیہ کار کیٹ کولٹ کے مطابق افریقی سونے کی
صنعت کو ڈھانچہ جاتی مسائل کا سامنا ہے، جن میں ریفائننگ کی محدود صلاحیتیں، سرمایے کی کمی اور خام سونا برآمد کرنے کا تاریخی رجحان شامل ہے۔
معاشی خودمختاری اور سونے کی اہمیت
افریقی حکومتیں سونے کو ایک تزویراتی اثاثہ سمجھتی ہیں۔ ان کا مقصد ملکی مالیاتی ذخائر کو مضبوط کرنا اور بیرونی منڈیوں پر انحصار کم کرنا ہے۔
عالمی گولڈ کونسل کے ڈیٹا کے مطابق چین، بھارت، روس اور ترکی بھی ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے اپنے مرکزی بینکوں میں سونے کے ذخائر بڑھا رہے ہیں۔
ممالک کی انفرادی کوششیں
دوسری جانب گھانا، نائیجیریا اور تنزانیہ جیسے ممالک سونے کے ذخائر پر کنٹرول کے لیے کوشاں ہیں۔
گھانا نے مقامی سطح پر سونا جمع کرنے کا پروگرام شروع کیا ہے، جبکہ تنزانیہ نے کان کنی کرنے والی کمپنیوں کے لیے یہ لازمی قرار دیا ہے کہ وہ اپنی پیداوار کا 20 فیصد حصہ مرکزی بینک کو فروخت کریں۔
گنی کا سخت موقف
گنی کے صدر مامادی دومبویا نے خام سونے کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے، جس کے بعد اب تمام سونے کو ملک کے اندر ہی پگھلا کر تصدیق کرنا ضروری ہے۔
حکومت نے خبردار کیا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لائسنس اور کان کنی کے معاہدے منسوخ کر دیے جائیں گے۔
ساحل ریجن اور متبادل حکمت عملی
مالی اور برکینا فاسو نے کان کنی کے شعبے میں حکومتی کنٹرول بڑھایا ہے۔
مالی کے صدر عاصمی گوئتا، روس کے تعاون سے کان کنی کے شعبے کو دوبارہ ترتیب دے رہے ہیں اور دارالحکومت باماکو میں سرکاری ریفائنری قائم کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد فرانسیسی معاشی تسلط سے آزادی حاصل کرنا ہے۔
سوڈان: جنگ، سونا اور اسمگلنگ
سوڈان میں صورتحال پیچیدہ ہے۔ بزنس انسائیڈر افریقہ کے مطابق ملک کے بیشتر سونے کے ذخائر پر فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کا قبضہ ہے۔
سال 2025 میں سوڈان نے مجموعی طور پر 70 ٹن سونا پیدا کیا، جو مقرر کردہ ہدف سے 13 فیصد زیادہ ہے، مگر سرکاری برآمدات صرف 20 ٹن رہیں۔
اسمگلنگ کا بحران
سوڈان میں صرف 14.7 ٹن سرکاری برآمدات سے 1.5 ارب ڈالر کمائے گئے۔
آرگنائزیشن ’سوئس ایڈ‘ کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق افریقہ سے ہر سال 321 سے 474 ٹن سونا اسمگل کیا جاتا ہے، جس کی مالیت 24 سے 35 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ یہ اسمگلنگ افریقی معیشتوں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
افریقہ کے 10 سرفہرست سونا پیدا کرنے والے ممالک (2024)
- گھانا: 140.6 ٹن
- مالی: 100 ٹن
- جنوبی افریقہ: 98.9 ٹن
- برکینا فاسو: 94.4 ٹن
- سوڈان: 73.8 ٹن
- گنی: 68 ٹن
- کوٹ ڈی آئیوری: 58 ٹن
- تنزانیہ: 51.8 ٹن
- زمبابوے: 50.9 ٹن
- کانگو: 42.3 ٹن
مبصرین کے مطابق افریقی ممالک کی جانب سے سونے پر کنٹرول کے اقدامات ایک مثبت پیش رفت ہیں، تاہم سرمایہ کاری کی کمی اور تکنیکی مہارت کا فقدان بدستور رکاوٹیں ہیں۔
اگر یہ ممالک اپنی ریفائننگ صلاحیت بڑھا لیں اور اسمگلنگ پر قابو پا لیں تو سونے کی دولت براعظم کی معاشی تقدیر بدلنے کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔