براہ راست نشریات

’زمین اُبل رہی ہے‘: فٹبال ورلڈ کپ کے شائقین کے لیے شدید گرمی کا انتباہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فٹبال ورلڈ کپ کے دوران اسٹیڈیم کے باہر شدید گرمی کا منظر
یہ صورتحال فٹبال ورلڈکپ کے شائقین کے لیے اسٹیڈیم تک پہنچنے کے سفر میں ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے (فوٹو: اے آئی)

فٹ بال ورلڈ کپ کے سلسلے میں ’ڈلاس-فورٹ ورتھ‘ پہنچنے والے شائقین کو ایک غیر معمولی اور بڑے طبی خطرے کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس شہر کا بنیادی ڈھانچہ گاڑیوں کے لیے تو موزوں ہے، مگر پیدل چلنے والے شائقین کے لیے یہ شدید گرمی کا باعث بن رہا ہے۔

موسمیاتی ذرائع ابلاغ کے مطابق درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، تاہم فٹ پاتھ اور سڑکوں پر موجود کنکریٹ کی سطح پر درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ رہا ہے۔ 

یہ فرق فٹبال ورلڈکپ کے شائقین کے لیے اسٹیڈیم تک پہنچنے کے سفر میں ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

شائقین کو پارکنگ، ٹرین اسٹیشنوں اور کھلے میدانوں سے گزر کر اسٹیڈیم تک پہنچنا پڑتا ہے، جہاں سورج کی تپتی شعاعیں براہ راست پڑتی ہیں۔

ورلڈ کپ کی تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں

اسفالٹ اور دھاتی سیکیورٹی گیٹس سے گزرنا کسی ’ہیٹ ٹریپ‘ سے کم نہیں، جس کی پیش گوئی عام موسمیاتی ایپس میں نہیں کی جاتی۔

نیشنل ویدر سروس کی ماہر جینیفر ڈن کے مطابق کنکریٹ اور اسفالٹ جیسی سطحیں سورج کی تپش کو جذب کر کے اسے منعکس کرتی ہیں، جس سے زمین کے قریب درجہ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے۔ 

فٹبال ورلڈ کپ کے دوران اسٹیڈیم کے باہر شدید گرمی کا منظر
اردن کے خلاف اپنی قومی ٹیم کے ورلڈکپ میچ سے قبل ارجنٹائن کے شائقین ڈلاس اسٹیڈیم کے باہر جمع ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

یہی وجہ ہے کہ طویل پیدل چلنے والے شائقین کے لیے یہ صورتحال انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

شمالی ٹیکساس میں دوپہر 2 بجے سے شام 7 بجے تک کا وقت سب سے زیادہ گرم ہوتا ہے۔ 

سویڈش شائقین وکٹر بلومڈال کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال غیر معمولی ہے اور وہ اس شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقے اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آپ خود کو ٹھیک بھی محسوس کر رہے ہوں، تب بھی چند منٹوں میں شدید گرمی کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ 

ایسے حالات میں تھکاوٹ یا جلن محسوس ہونے کی صورت میں فوری طور پر کسی سایہ دار جگہ پر پناہ لینا ہی واحد حل ہے۔