فٹ بال ورلڈ کپ کے سلسلے میں ’ڈلاس-فورٹ ورتھ‘ پہنچنے والے شائقین کو ایک غیر معمولی اور بڑے طبی خطرے کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس شہر کا بنیادی ڈھانچہ گاڑیوں کے لیے تو موزوں ہے، مگر پیدل چلنے والے شائقین کے لیے یہ شدید گرمی کا باعث بن رہا ہے۔
موسمیاتی ذرائع ابلاغ کے مطابق درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، تاہم فٹ پاتھ اور سڑکوں پر موجود کنکریٹ کی سطح پر درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ رہا ہے۔
یہ فرق فٹبال ورلڈکپ کے شائقین کے لیے اسٹیڈیم تک پہنچنے کے سفر میں ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
شائقین کو پارکنگ، ٹرین اسٹیشنوں اور کھلے میدانوں سے گزر کر اسٹیڈیم تک پہنچنا پڑتا ہے، جہاں سورج کی تپتی شعاعیں براہ راست پڑتی ہیں۔
اسفالٹ اور دھاتی سیکیورٹی گیٹس سے گزرنا کسی ’ہیٹ ٹریپ‘ سے کم نہیں، جس کی پیش گوئی عام موسمیاتی ایپس میں نہیں کی جاتی۔
نیشنل ویدر سروس کی ماہر جینیفر ڈن کے مطابق کنکریٹ اور اسفالٹ جیسی سطحیں سورج کی تپش کو جذب کر کے اسے منعکس کرتی ہیں، جس سے زمین کے قریب درجہ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ طویل پیدل چلنے والے شائقین کے لیے یہ صورتحال انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
شمالی ٹیکساس میں دوپہر 2 بجے سے شام 7 بجے تک کا وقت سب سے زیادہ گرم ہوتا ہے۔
سویڈش شائقین وکٹر بلومڈال کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال غیر معمولی ہے اور وہ اس شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقے اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آپ خود کو ٹھیک بھی محسوس کر رہے ہوں، تب بھی چند منٹوں میں شدید گرمی کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایسے حالات میں تھکاوٹ یا جلن محسوس ہونے کی صورت میں فوری طور پر کسی سایہ دار جگہ پر پناہ لینا ہی واحد حل ہے۔