سعودی عرب کے تاریخی شہر العلا کی فضاؤں میں جون بوٹڈ June Bootids شہابی بارش کا دلکش منظر دیکھا گیا، جہاں صاف آسمان اور روشنی کی انتہائی کم آلودگی نے فلکیاتی شوقین افراد اور فوٹوگرافروں کو اس نایاب مظہر کے مشاہدے کا بہترین موقع فراہم کیا۔
سعودی پریس ایجنسی ’واس‘ کے مطابق جون بوٹڈ شہابی بارش ہر سال تقریباً 22 جون سے 2 جولائی تک جاری رہتی ہے، جبکہ اس کی سالانہ سرگرمی 27 جون کے آس پاس اپنے عروج پر پہنچتی ہے۔
اگرچہ بیشتر برسوں میں فی گھنٹہ صرف چند شہابئے ہی دکھائی دیتے ہیں، لیکن بعض غیر معمولی برسوں میں ان کی تعداد 100 سے بھی تجاوز کر چکی ہے، جس کی وجہ سے اسے اہم فلکیاتی مظاہر میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ شہابی بارش دم دار ستارے 7P/Pons-Winnecke کے چھوڑے ہوئے گرد و غبار کے ذرات سے بنتی ہے۔
جب یہ ذرات انتہائی تیز رفتاری سے زمین کے فضائی غلاف میں داخل ہوتے ہیں تو رگڑ کے باعث جل کر روشن لکیروں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، جنہیں عام طور پر شہابِ ثاقب کہا جاتا ہے اور مناسب موسمی حالات میں انہیں ننگی آنکھ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
رواں سال اگرچہ العلا میں فلکیاتی مشاہدے کے لیے مثالی ماحول موجود تھا، تاہم تقریباً مکمل چاند کی روشنی نے آسمان کو زیادہ روشن کر دیا، جس کے باعث مدھم شہابوں کا مشاہدہ متاثر ہوا، البتہ زیادہ روشن شہاب اب بھی واضح طور پر نظر آئے۔
العلا کی عالمی شہرت میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب اس کے متعدد مقامات کو ڈارک اسکائی Dark Sky کا بین الاقوامی درجہ ملا، جس نے اسے فلکیاتی سیاحت اور ستاروں کے مشاہدے کے لیے دنیا کی نمایاں منزلوں میں شامل کر دیا۔
اسی وژن کے تحت ’منارة العلا‘ منصوبہ بھی ترقی کے مراحل میں ہے، جس میں جدید فلکیاتی رصدگاہ، تحقیقی مرکز، جدید دوربینیں، مشاہداتی پلیٹ فارم، تعلیمی نمائشیں اور انٹرایکٹو سائنسی تجربات شامل ہوں گے۔
اس منصوبے کا مقصد سعودی عرب کو فلکیاتی تحقیق اور خلائی علوم کے عالمی مراکز میں شامل کرنا اور وژن 2030 کے اہداف کو تقویت دینا ہے۔