ایلون مسک کی خلائی اور مصنوعی ذہانت کی کمپنی اسپیس ایکس 7 جولائی سے امریکی اسٹاک مارکیٹ کے معروف انڈیکس نیسڈیک 100 میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔
مزید پڑھیں
نیسڈیک اسٹاک ایکسچینج کے مطابق اس اہم پیش رفت سے کمپنی کے حصص میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے۔
ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں پر مشتمل اس انڈیکس میں شمولیت کے بعد ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز اور انڈیکس فنڈز خودکار طور پر اسپیس ایکس کے حصص خریدیں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جے پی مورگن بینک نے اس
عمل سے مجموعی طور پر 4.3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ لگایا ہے۔
واضح رہے کہ اسپیس ایکس کی انڈیکس میں شمولیت اس کے 12 جون کو ہونے والے آئی پی او کے محض ایک ماہ بعد عمل میں آ رہی ہے۔
نیسڈیک، ایف ٹی ایس ای رسل اور ایم ایس سی آئی نے لسٹنگ کے لیے منافع، وقت اور حصص کی تعداد سے متعلق شرائط میں خصوصی نرمی کی ہے۔
یاد رہے کہ کمپنی کی مالیاتی کارکردگی گزشتہ 3 برسوں کے دوران اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، جس میں معمولی منافع اور بڑے نقصانات دونوں شامل ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ برس آمدنی میں مسلسل اضافے کے باوجود اسپیس ایکس کو مجموعی طور پر 4.9 ارب ڈالر کا خالص مالی خسارہ برداشت کرنا پڑا تھا۔
مارننگ اسٹار کے ماہر مائیکل فیلڈ کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس کی انڈیکس میں جلد شمولیت حصص کی شدید طلب کو ظاہر کرتی ہے، تاہم بعض فنڈ مینیجرز اس حوالے سے پُرامید نہیں ہیں اور ان کا خیال ہے کہ کمپنی کے حصص کی قیمت اس وقت اصل قدر سے زیادہ ہے۔
دوسری جانب ایس اینڈ پی گلوبل نے واضح کیا ہے کہ وہ اسپیس ایکس کو اپنے 500 انڈیکس میں شامل کرنے کے لیے قواعد میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔
ادارے کے مطابق اس انڈیکس میں شمولیت کے لیے لسٹنگ کے بعد کم از کم 12 ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔
واضح رہے کہ امریکی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑی لسٹنگز کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے کیونکہ اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی کمپنیاں بھی آئی پی او کی تیاری کر رہی ہیں۔
ان کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو ایک ٹریلین ڈالر سے زائد ہونے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔