بٹ کوائن ایک اہم موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں تقریباً 10 ارب ڈالر مالیت کے آپشن معاہدوں کی میعاد ختم ہونے والی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور ادارہ جاتی طلب، سخت مالیاتی پالیسی اور کم ہوتی مارکیٹ لیکویڈیٹی کے باعث یہ پیش رفت کرپٹو مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں تقریباً 10 ارب ڈالر مالیت کے آپشن معاہدوں Options Contracts کی میعاد ختم ہونے والی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت پہلے ہی کمزور طلب، ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں کمی اور عالمی معاشی دباؤ کا شکار کرپٹو مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتی ہے۔
یہ معاہدے جمعہ کو سنگاپور کے وقت کے مطابق شام 4 بجے دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو آپشنز ایکسچینج ڈیریبٹ Deribit پر ختم ہوں گے۔
چونکہ ان میں سے زیادہ تر معاہدے بٹ کوائن کی قیمت بڑھنے کی توقع پر کیے گئے تھے، جبکہ موجودہ قیمت ان توقعات سے نیچے آ چکی ہے، اس لیے سرمایہ کار دفاعی حکمتِ عملی اختیار کر سکتے ہیں یا مزید مندی پر شرط لگانے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں
ڈیریبٹ کے کمرشل ڈائریکٹر ژاں ڈیوڈ پیکینو کے مطابق یہ درمیانی مدت میں قیمت بڑھنے کی توقع پر بنائے گئے سرمایہ کاری کے پوزیشنز تھے، لیکن اب قیمت گرنے کے باعث بیشتر خریداری والے معاہدے منافع کے دائرے سے باہر ہو چکے ہیں۔
بدھ کے روز نیویارک میں بٹ کوائن کی قیمت گر کر 59,023 ڈالر تک آ گئی، جو اکتوبر 2024 کے بعد کم ترین سطح تھی، تاہم جمعرات کی صبح
لندن میں اس کی قیمت کچھ سنبھل کر تقریباً 61,650 ڈالر تک پہنچ گئی۔
اس کے باوجود بٹ کوائن اب بھی 10 اکتوبر کی شدید مندی کے بعد اپنی رفتار بحال نہیں کر سکی اور اپنی تاریخی بلند ترین سطح سے 50 فیصد سے زیادہ نیچے ٹریڈ کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ قیمت اب بھی 200 ہفتوں کی موونگ ایوریج سے نیچے ہے، جسے تکنیکی تجزیہ کار طویل مدتی مندی کی علامت قرار دیتے ہیں۔
ڈیریبٹ پر ختم ہونے والے یہ آپشن معاہدے مارکیٹ میں موجود مجموعی فعال معاہدوں کا تقریباً 37 فیصد بنتے ہیں، جبکہ Put/Call Ratio اس وقت 0.83 ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ قیمت بڑھنے کی توقع رکھنے والے معاہدے اب بھی زیادہ ہیں، لیکن ان میں سے بڑی تعداد موجودہ قیمت پر اپنی حقیقی قدر کھو چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں معاہدوں کی میعاد ختم ہونے سے جمعہ کو قیمت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، تاہم اس کا مطلب لازماً مارکیٹ کے طویل مدتی رجحان میں تبدیلی نہیں ہوگا، بلکہ یہ زیادہ تر پوزیشنز بند ہونے اور ہیجنگ کی سرگرمیوں کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
10 ارب ڈالر کے آپشن معاہدے، بٹ کوائن کے لیے فیصلہ کن امتحان
بٹ کوائن ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جہاں بڑے آپشن معاہدوں کی میعاد ختم ہونے سے مارکیٹ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
مارکیٹ پر دباؤ کیوں بڑھ رہا ہے؟
📉 کمزور طلب
ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں کمی اور ETF فنڈز سے مسلسل اخراج نے بٹ کوائن کی بحالی کو مشکل بنا دیا ہے۔
⏳ آپشنز ایکسپائری
ڈیریبٹ پر تقریباً 10 ارب ڈالر مالیت کے آپشن معاہدے ختم ہو رہے ہیں، جو مختصر مدت میں قیمت کو جھٹکا دے سکتے ہیں۔
⚠️ تکنیکی دباؤ
بٹ کوائن تاریخی بلند ترین سطح سے 50 فیصد سے زیادہ نیچے ہے اور 200 ہفتوں کی موونگ ایوریج سے بھی کم سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
🔁 ہیجنگ اثرات
ماہرین کے مطابق قیمت میں اچانک حرکت زیادہ تر ہیجنگ اور پوزیشنز بند ہونے کا نتیجہ ہو سکتی ہے، مستقل رجحان کی تبدیلی نہیں۔
🔥 فیصلہ کن نکتہ
جمعہ کو آپشن معاہدوں کی میعاد ختم ہونے کے بعد بٹ کوائن میں تیز اتار چڑھاؤ کا امکان ہے، لیکن اصل سمت جولائی کے پہلے ہفتے میں واضح ہو سکتی ہے جب سہ ماہی پوزیشنز صاف ہوں گی۔اہم ٹائم لائن
Tesseract Group کے اثاثہ جات کے سربراہ ایڈم ہائمز نے کہا کہ کم ہوتی مارکیٹ لیکویڈیٹی اور آپشن معاہدوں کی بڑی تعداد کسی بھی ابتدائی قیمت کی حرکت کو غیر معمولی حد تک بڑھا سکتی ہے، لیکن ہیجنگ مکمل ہونے کے بعد قیمتیں دوبارہ معمول کے قریب آ سکتی ہیں۔
ان کے مطابق بٹ کوائن کے لیے اصل امتحان جولائی کے پہلے ہفتے میں ہوگا، جب سہ ماہی کے اختتام پر سرمایہ کاری کی پوزیشنز صاف ہونے اور لیوریج کم ہونے کے بعد مارکیٹ کی حقیقی سمت واضح ہوگی۔
اسی دوران امریکا میں بٹ کوائن سے منسلک ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز ETFs سے جون کے آغاز سے اب تک 3 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ نکل چکا ہے، جبکہ بٹ کوائن کی سب سے بڑی ادارہ جاتی ہولڈر کمپنی Strategy بھی مالیاتی دباؤ اور سرمایہ کاروں کے خدشات کا سامنا کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلند شرحِ سود، سخت مالیاتی پالیسی اور کم ہوتی لیکویڈیٹی اب بھی کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ ڈال رہی ہے، جس کے باعث بٹ کوائن کے لیے قلیل مدت میں مضبوط بحالی کا راستہ آسان دکھائی نہیں دیتا۔