کبھی کبھی تاریخ کے بڑے معاشی انقلاب شور و غوغا سے نہیں بلکہ ایک عام سے لمحے سے جنم لیتے ہیں۔
ایسا ہی ایک لمحہ 22 مئی 2010 کو آیا، جب ایک شخص نے دو پیزا خریدنے کے لیے ایسی ادائیگی کی جسے آج دنیا مالیاتی تاریخ کے حیران کن ترین سودوں میں شمار کرتی ہے۔
یہ کہانی امریکی پروگرامر لازلو ہانئچ کی ہے، جنہوں نے تقریباً 15 سال قبل دو پیزا کے بدلے 10 ہزار بٹ کوائن ادا کئے۔
اُس وقت شاید کسی نے تصور بھی نہ کیا ہو کہ یہی بٹ کوائن ایک دن عالمی مالیاتی نظام، سرمایہ کاری کی دنیا اور ٹیکنالوجی کے منظرنامے کو بدل کر رکھ دے گا۔
آن لائن پوسٹ جس نے تاریخ لکھ دی
22 مئی 2010 کو لازلو ہانئچ نے ایک آن لائن فورم پر پیغام لکھا کہ وہ دو پیزا کے بدلے 10 ہزار بٹ کوائن دینے کے لیے تیار ہیں۔
ان کی خواہش سادہ تھی، وہ چاہتے تھے کہ کوئی شخص ان کے لیے پیزا آرڈر کر دے تاکہ وہ بٹ کوائن کو حقیقی دنیا میں استعمال کرنے کا تجربہ کر سکیں۔
کچھ وقت بعد ایک صارف نے یہ پیشکش قبول کی اور دو بڑے پیزا خرید کر بھجوا دیے۔
یوں پہلی مرتبہ بٹ کوائن کے ذریعے حقیقی دنیا میں ایک تجارتی لین دین مکمل ہوا۔
اُس وقت ان 10 ہزار بٹ کوائن کی مالیت تقریباً 41 ڈالر تھی۔
دنیا کا ’مہنگا ترین پیزا‘ کیسے بن گیا؟
وقت گزرتا گیا، بٹ کوائن کی قیمت آسمان کو چھونے لگی اور یہی سودا دنیا بھر میں مشہور ہو گیا۔
آج اگر انہی 10 ہزار بٹ کوائن کی موجودہ قدر دیکھی جائے تو یہ رقم اربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جس کے بعد لوگ مذاقاً اسے ’تاریخ کا مہنگا ترین پیزا‘ قرار دیتے ہیں۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ لازلو ہانئچ کو اپنے فیصلے پر کبھی افسوس نہیں ہوا۔
مختلف انٹرویوز میں وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ان کے لیے اصل خوشی اس بات کی تھی کہ انہوں نے بٹ کوائن کو ایک تجرباتی ڈیجیٹل تصور سے نکال کر حقیقی لین دین کا حصہ بنانے میں کردار ادا کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی 10 ہزار بٹ کوئن جو 2010 میں 41 ڈالر کے تھے، آج ان کی قیمت 775 ملین ڈالر ہے جبکہ اگر آل ٹائم ہائی (6 اکتوبر 2025) کے حساب سے دیکھا جائے تو رقم 1,262,380,000 ڈالر بنتی ہے۔
پیزا ڈے کیوں منایا جاتا ہے؟
ہر سال 22 مئی کو دنیا بھر کی کرپٹو کمیونٹی ’بٹ کوائن پیزا ڈے‘ مناتی ہے۔
اس دن کرپٹو سرمایہ کار، ٹیکنالوجی کے شوقین افراد اور بٹ کوائن کے حامی اس تاریخی واقعے کو یاد کرتے ہیں۔
یہ دن صرف دو پیزا کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسے مالیاتی انقلاب کی علامت ہے، جس نے روایتی بینکاری نظام، سرمایہ کاری کے تصورات اور ڈیجیٹل معیشت کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
بٹ کوائن، جو کبھی چند سینٹس یا چند ڈالر میں خریدا جاتا تھا، آج عالمی مالیاتی منڈیوں کا ایک اہم اثاثہ بن چکا ہے۔
دنیا کے بڑے سرمایہ کار، ادارے اور کئی ممالک بھی ڈیجیٹل اثاثوں کی اہمیت کو پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔
دو پیزا کے ان ڈبوں سے شروع ہونے والی یہ کہانی آج بھی دنیا کو یاد دلاتی ہے کہ بعض اوقات معمولی دکھائی دینے والے فیصلے، آنے والے برسوں میں تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں۔
اور شاید اسی لیے کرپٹو دنیا میں آج بھی 22 مئی کو ایک مسکراہٹ کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے:
’دو پیزا… اور اربوں ڈالر کی داستان!‘