براہ راست نشریات

اسمارٹ فون پانی میں گرجائے تو کون سی غلطیاں اسے ناکارہ بناسکتی ہیں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پانی میں گرے فون کو بچانا، اسمارٹ فون پانی سے نکالنے کے بعد چارجنگ یا ہیئر ڈرائر کے استعمال سے ہونے والے نقصانات کا خاکہ
اگر فون بند ہو جائے تو اسے چارج کرنے کی ہرگز کوشش نہ کریں (فوٹو: انٹرنیٹ)

اسمارٹ فون کا پانی میں گرنا ایک عام حادثہ ہے، تاہم اس کے بعد کیے جانے والے ابتدائی اقدامات اسمارٹ فون کی زندگی کا تعین کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

ماہرین کے مطابق اکثر لوگ انجانے میں ایسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں جو عارضی مسئلے کو مستقل نقصان میں بدل دیتی ہیں۔

خطرناک ترین غلطیاں 

بہت سے صارفین فون کے گرتے ہی اسے فوری آن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو ایک سنگین غلطی ہے۔ 

پانی کی موجودگی میں برقی کرنٹ گزرنے سے شارٹ سرکٹ کا خطرہ ہوتا 

ہے، جو فون کے اندرونی الیکٹرانک سرکٹس اور مدر بورڈ کو مستقل طور پر ناکارہ بنا سکتا ہے۔

اسی طرح فون کو فوری طور پر چارجنگ پر لگانا بھی انتہائی خطرناک ہے۔ 

اگر فون بند ہو جائے تو اسے چارج کرنے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔ نمی کی موجودگی میں بجلی کا گزرنا بیٹری پھٹنے یا چارجنگ پورٹ کے جلنے کا سبب بن سکتا ہے۔

پانی میں گرے فون کو بچانا، اسمارٹ فون پانی سے نکالنے کے بعد چارجنگ یا ہیئر ڈرائر کے استعمال سے ہونے والے نقصانات کا خاکہ
لوگ انجانے میں ایسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں جو عارضی مسئلے کو مستقل نقصان میں بدل دیتی ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

حرارت اور جھٹکوں سے نقصان

کچھ لوگ ہیئر ڈرائر یا براہِ راست دھوپ کا استعمال کرتے ہیں، حالانکہ یہ طریقہ کار اسکرین، بیٹری اور نازک پرزوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

گرم ہوا پانی کو فون کے اندرونی حصوں تک مزید گہرائی میں دھکیل سکتی ہے، جس سے پہنچنے والا نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

اسی طرح فون کو زور سے جھٹکنا بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ 

اس عمل سے پانی فون کے ان حصوں تک پھیل سکتا ہے جو پہلے خشک تھے، جس سے ڈیوائس کے مزید حصے متاثر ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا، فون کو تیزی سے ہلانے سے مکمل گریز کرنا چاہیے۔

پانی میں گرے فون کو بچانا، اسمارٹ فون پانی سے نکالنے کے بعد چارجنگ یا ہیئر ڈرائر کے استعمال سے ہونے والے نقصانات کا خاکہ
بہت سے صارفین فون کے گرتے ہی اسے فوری آن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو ایک سنگین غلطی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

چاول کی ٹرِک اور غلط فہمی

مشہور ’چاول کی ٹرک‘ دراصل بے اثر عمل ہے۔

ماہرین کے مطابق چاول نمی جذب کرنے میں غیر مؤثر ہیں، جبکہ اس کے چھوٹے ذرات اور نشاستہ فون کی پورٹس میں جا کر صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔ 

لہٰذا اس طریقے پر انحصار کرنا فون کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔

فون کو آن چھوڑنا بھی ایک بڑی غلطی ہے۔ جیسے ہی فون پانی سے نکلے، اسے فوری بند کر دینا چاہیے۔ 

پانی میں گرے فون کو بچانا، اسمارٹ فون پانی سے نکالنے کے بعد چارجنگ یا ہیئر ڈرائر کے استعمال سے ہونے والے نقصانات کا خاکہ
فون کو فوری طور پر چارجنگ پر لگانا بھی انتہائی خطرناک ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

مسلسل کرنٹ کی فراہمی سے اندرونی حصوں میں زنک لگنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے، جو فون کو مرمت کے قابل نہیں چھوڑتا۔

پانی میں گرنے والے فون کو بچانے کے لیے ہر سیکنڈ اہم ہوتا ہے۔ 

پانی میں نمکیات اور معدنیات بجلی کے غیر معمولی بہاؤ کا باعث بن کر اندرونی پرزوں کو تباہ کرتے ہیں۔ لہٰذا مذکورہ غلطیوں سے بچنا اور فوری طور پر پیشہ ورانہ مہارت سے نمٹنا ہی فون کو بچانے کا واحد مؤثر طریقہ ہے۔