براہ راست نشریات

بحرِ مردار سکڑ رہاہے: سیٹلائٹ تصاویرنے سیاحتی چیلنجز کا پردہ چاک کردیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
بحرِ مردار کا سکڑنا، سیٹلائٹ تصاویر میں ساحلی پٹی کی تنزلی اور نمکین زمین نمودار ہونے کا ماحولیاتی منظر نامہ
بحرِ مردار کا پانی مسلسل پیچھے ہٹ رہا ہے (فوٹو: اے آئی)

بحرِ مردار اب وہ نہیں رہا جسے سیاح اور مقامی باشندے دہائیوں سے جانتے تھے۔

مزید پڑھیں

سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ بحرِ مردار کا پانی مسلسل پیچھے ہٹ رہا ہے، جس سے نمکین زمین کے وسیع و عریض ٹکڑے نمودار ہو رہے ہیں اور سیاحتی مقامات تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔

واضح ماحولیاتی تبدیلی

الجزیرہ کی اوپن سورس یونٹ کی جانب سے 20 جون 2017 سے 15 جون 2026 کے درمیان لی گئی سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کیا گیا۔ 

ان تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ساحلی پٹی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس سے اُردن اور مغربی کنارے دونوں جانب نئی زمینیں سطح پر آ گئی ہیں۔

ساحلی پٹی میں غیر معمولی تنزلی

ابتدائی جائزے کے مطابق اُردن میں ’غور المزرعہ‘ کے قریب پانی کی سطح تقریباً 2400 میٹر پیچھے ہٹی ہے۔

اسی طرح مغربی کنارے پر تاریخی قلعہ ’مسادا‘ کے قریب ساحل میں 1450 میٹر کی کمی دیکھی گئی ہے، جو ماحولیاتی بگاڑ کا ایک تشویشناک ثبوت ہے۔

بحرِ مردار کا سکڑنا، سیٹلائٹ تصاویر میں ساحلی پٹی کی تنزلی اور نمکین زمین نمودار ہونے کا ماحولیاتی منظر نامہ
تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ساحلی پٹی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے (فوٹو: وکیپیڈیا)

سیاحت پر اثرات

کالیا، نیوی مدبار اور بیانکینی سیستا جیسے معروف ساحلی ریزورٹس بھی اس تبدیلی سے متاثر ہوئے ہیں۔

بعض مقامات پر پانی 43 سے 97 میٹر تک پیچھے ہٹ چکا ہے۔ ’عین جدی‘ جیسے سیاحتی مقامات پر تو زمین دھنسنے کے خدشات کے پیشِ نظر ساحل کو پہلے ہی عوام کے لیے بند کیا جا چکا ہے۔

بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرات

پانی کے پیچھے ہٹنے سے زمین میں دراڑیں اور اچانک گڑھے بننے کا عمل تیز ہو گیا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے  کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف ساحل بلکہ قریبی سڑکوں اور سیاحتی تنصیبات کے لیے بھی شدید خطرہ ہے، جس سے مستقبل میں تعمیراتی منصوبے مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔

بحرِ مردار کا سکڑنا، سیٹلائٹ تصاویر میں ساحلی پٹی کی تنزلی اور نمکین زمین نمودار ہونے کا ماحولیاتی منظر نامہ
اُردن میں ’غور المزرعہ‘ کے قریب پانی کی سطح تقریباً 2400 میٹر پیچھے ہٹی ہے (فوٹو: الجزیرہ)

پانی کے توازن کا بگڑتا نظام

بحرِ مردار ایک بند حوض ہے اور اس کی آبی سطح کا انحصار دریائے اُردن کے بہاؤ پر ہے۔

زراعت، صنعت اور گھریلو استعمال کے لیے پانی کے رُخ موڑنے سے اس جھیل تک پہنچنے والی مقدار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ شدید گرمی میں تیزی سے ہوتا ہوا تبخیر کا عمل اسے مزید سکوڑ رہا ہے۔

صنعتی دباؤ اور ماحولیاتی حقائق

جنوبی حصے میں اُردن اور اسرائیل کی کمپنیاں نمکیات نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر پانی استعمال کر رہی ہیں۔

یہ صنعتی عمل پانی کے قدرتی توازن کو بگاڑ رہا ہے۔ سالانہ بارشوں کی کمی (تقریباً 50 ملی میٹر) اس بحران کی شدت میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔

بحرِ مردار کی یہ صورتحال محض ایک ماحولیاتی تبدیلی نہیں، بلکہ سیاحتی اور معاشی بحران کا پیش خیمہ ہے۔