برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کو 10 برس بیت چکے ہیں اور آج سوال صرف یہ نہیں کہ بریگزٹ کا برطانیہ کو کتنا نقصان ہوا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس تجربے نے خود یورپی یونین کو کہاں لا کھڑا کیاہے؟
مزید پڑھیں
کیا یورپی یونین نے ایک ناقابلِ تلافی معاشی ساتھی کھو دیا یا براعظم میں مالیاتی توازن بحال کرنے میں کامیاب رہی؟
بریگزٹ کے اثرات
برطانوی پارلیمنٹ کی لائبریری کے اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں بھی یورپی یونین برطانیہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا۔ برطانیہ کی برآمدات کا 41 فیصد اور درآمدات کا 50 فیصد یورپی یونین کے ساتھ رہا۔
برطانیہ نے 384 ارب پاؤنڈ کی برآمدات کیں، جبکہ 472 ارب پاؤنڈ کی درآمدات ہوئیں، یوں 88 ارب پاؤنڈ کا تجارتی خسارہ رہا۔
اشیا اور خدمات کا متضاد رجحان
بریگزٹ کے بعد برطانوی اشیا کی برآمدات میں 2019 کے مقابلے میں 2025 میں 14 فیصد کمی آئی، جبکہ اس کے برعکس خدمات کی برآمدات میں 28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان تجارت بند نہیں ہوئی، البتہ کسٹمز کی رکاوٹوں اور دستاویزات کی پیچیدگیوں نے اشیا کی تجارت کو مہنگا اور مشکل بنا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کی آرا
اقتصادی ماہر ريان رسول کے مطابق یورپی یونین کے لیے نتائج ملے جلے اور معمولی نقصان والے رہے، جو برطانیہ کے معاشی نقصان کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
برطانوی جی ڈی پی میں 6 سے 8 فیصد کمی آئی ہے اور سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور روزگار کے مواقع میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
مالیاتی مراکز کی منتقلی
برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے بعد لندن سے مالیاتی حقوق ختم ہو گئے۔
سٹی آف لندن کارپوریشن کے مطابق تقریباً 40 ہزار ملازمتیں اور اثاثے لندن سے پیرس، فرینکفرٹ، ڈبلن، لکسمبرگ اور ایمسٹرڈیم منتقل ہوئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ لندن کی جگہ کسی ایک ’نئی لندن‘ کا جنم نہیں، بلکہ یورپی مالیاتی مراکز کا بکھراؤ ہے۔
سرمایہ کاری کے بدلتے رجحانات
بریگزٹ کے بعد سرمایہ کاری کا منظرنامہ تبدیل ہو گیا ہے۔
یورپی یونین کی جانب سے یورپی انویسٹمنٹ اٹریکٹو نیس سروے کے مطابق 2025 میں یورپ میں نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کے منصوبوں میں 7 فیصد کمی آئی اور یہ تعداد 5026 رہی، جو 11 برسوں میں سب سے کم ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے انکٹاڈ (UNCTAD) کے مطابق یورپ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 2024 میں 58 فیصد گر کر 182 ارب ڈالر رہ گئی۔
افرادی قوت اور ہجرت
بریگزٹ نے برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان نقل و حرکت کی آزادی ختم کر دی۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے مائیگریشن آبزرویٹری کے مطابق 2025 تک برطانیہ چھوڑنے والے یورپی شہریوں کی تعداد آنے والوں سے زیادہ رہی۔
جون 2025 تک خالص ہجرت منفی 70 ہزار رہی، جبکہ 2021 سے 2025 کے درمیان برطانیہ میں مقیم یورپی شہریوں کی تعداد میں 1 لاکھ 62 ہزار کی کمی واقع ہوئی۔
مجموعی طور پر بریگزٹ نے برطانیہ کو شدید معاشی دھچکا پہنچایا ہے، جس کا اظہار کم ترقی اور سرمایہ کاری میں کمی سے ہوتا ہے۔
اسی طرح یورپی یونین نے بھی ایک اہم معاشی رکن کھویا ہے، لیکن وہ اپنی مارکیٹ کو سنبھالنے میں نسبتاً کامیاب رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس طلاق سے دونوں فریقین کو نقصانات کا سامنا ہے، جو کسی ایک فریق کی جیت یا ہار سے زیادہ ایک طویل مدتی معاشی ایڈجسٹمنٹ کا نام ہے۔