قطر کے رأس لفان صنعتی شہر میں واقع برزان گیس پلانٹ میں ہونے والے دھماکے اور آتشزدگی کے نتیجے میں 13 کارکن جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق حادثہ فنی خرابی کے باعث پیش آیا اور اس سے قطر کی مائع قدرتی گیس کی برآمدات یا رأس لفان بندرگاہ کی سرگرمیوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
امدادی ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
قطر انرجی نے اعلان کیا ہے کہ رأس لفان مائع قدرتی گیس کمپلیکس میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 13 ہو گئی ہے، جبکہ حادثے کی وجوہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
کمپنی نے واضح کیا کہ اس واقعے سے مائع قدرتی گیس کی برآمدات یا توانائی کے شعبے کی معمول کی سرگرمیوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
دوسری جانب قطری وزارت داخلہ نے بتایا کہ حادثے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 54 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ داخلی سیکیورٹی فورس ’لخویا‘ کی بین الاقوامی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم اور سول ڈیفنس کے اہلکار 18 لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
بيان قطر للطاقة حول مستجدات الحادث التشغيلي في مدينة راس لفان الصناعية#قطر_للطاقة #قطر pic.twitter.com/QI1ZloIszL
— QatarEnergy (@qatarenergy) June 22, 2026
حکام نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ حادثہ آپریشن کے دوران پیش آنے والی ایک فنی خرابی کے باعث رونما ہوا اور اس کے نتیجے میں ایسا کوئی گیس یا کیمیائی اخراج نہیں ہوا جو انسانی جانوں یا ماحول کے لیے خطرہ بن سکتا ہو۔
قطر کے وزیر مملکت برائے توانائی، سعد بن شریدہ الکعبی نے دوحہ میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ دھماکا اور اس کے بعد لگنے والی آگ اتوار کی رات تقریباً ساڑھے 10 بجے رأس لفان صنعتی شہر میں واقع برزان گیس پلانٹ میں پیش آئی۔
یہ پلانٹ مقامی ضروریات کے لیے قدرتی گیس فراہم کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا ہے اور اسے قطر انرجی ایل این جی چلاتی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ایک حادثاتی واقعہ تھا اور اس میں کسی تخریب کاری یا دشمنانہ کارروائی کے شواہد نہیں ملے۔
الکعبی کے مطابق پلانٹ گزشتہ دسمبر سے ضروری مرمت اور دیکھ بھال کے لیے بند تھا اور صرف دو روز قبل ہی دوبارہ فعال کیا گیا تھا۔
وزیر توانائی نے بتایا کہ دھماکے کی اصل وجوہات معلوم کرنے کے لیے جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور قطر انرجی متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔
انہوں نے جاں بحق ہونے والے بھارتی اور پاکستانی کارکنوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔
الکعبی کے مطابق زخمیوں میں قطری، بھارتی، پاکستانی، بنگلہ دیشی، کینیائی، گنی، تنزانیہ، نائجیریا اور نیپالی شہری شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام زخمیوں کو ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے، جبکہ کوئی بھی مریض جان لیوا حالت میں نہیں۔
بيان وزارة الداخلية بشأن الحادث الذي وقع في أحد المصانع بمدينة رأس لفان الصناعية إثر عطل فني أثناء التشغيل.#الداخلية_قطر pic.twitter.com/QQa780lIl8
— وزارة الداخلية - قطر (@MOI_Qatar) June 22, 2026
انہوں نے مزید واضح کیا کہ اس حادثے سے قطر کی مائع قدرتی گیس کی برآمدات ہرگز متاثر نہیں ہوں گی، کیونکہ برآمدی تنصیبات، رأس لفان بندرگاہ اور متعلقہ لاجسٹک سرگرمیاں مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
ادھر قطری وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ حادثے کے فوراً بعد متعلقہ سیکیورٹی اداروں اور ہنگامی امدادی ٹیموں نے موقع پر کارروائی شروع کر دی تھی۔
امدادی منصوبوں کے تحت متاثرہ علاقے کی مکمل تلاشی، ریسکیو آپریشن اور زخمیوں کی فوری منتقلی کو یقینی بنایا گیا۔
وزارت کے مطابق متعلقہ فنی اور قانونی ادارے حادثے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
وزارت نے ایک بار پھر یقین دہانی کرائی کہ حادثے کے نتیجے میں کسی قسم کے خطرناک اخراج کا سراغ نہیں ملا اور نہ ہی اردگرد کے ماحول یا عوامی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔