براہ راست نشریات

ایتھوپیا: خلیجی سیاحوں اور دیہی قبائل کی مشترکہ زندگی کے انوکھے رنگ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایتھوپیا کے دورزی گاؤں میں مقامی قبائلی باشندوں کے ساتھ روایتی ماحول میں بیٹھے خلیجی سیاح
جنوبی ایتھوپیا کے دیہی علاقوں میں اب یہ مناظر بہت عام ہو چکے ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

مشرقی افریقا کے ملک ایتھوپیا کے جنوب مغربی حصے میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں ’دورزی‘ میں ان دنوں ایک انوکھا منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔

مزید پڑھیں

تنکے اور گھاس پھوس سے بنی چٹائیوں پر روایتی مقامی لباس پہنے چند خلیجی سیاح بیٹھے ہیں۔ 

وہ یہاں کے عام باشندوں کے ساتھ روایتی قہوے کے دور چلا رہے ہیں، ان کے ساتھ گپ شپ میں مصروف ہیں اور بڑی دلچسپی سے اس قدیم گاؤں کی تاریخ اور کہانیاں سن رہے ہیں۔ 

اس محفل سے چند قدم دوری پر سیاحوں کا ایک اور گروپ قبائلی 

مردوں کی نگرانی میں آس پاس کے کھیتوں کی سیر کر رہا ہے۔

یہ لوگ یہاں کی مشہور فصلوں کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں اور کچھ سیاح تو مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر درختوں سے پھل اور فصلیں کاٹنے میں بھی ہاتھ بٹا رہے ہیں۔

ایتھوپیا کے دورزی گاؤں میں مقامی قبائلی باشندوں کے ساتھ روایتی ماحول میں بیٹھے خلیجی سیاح
خلیجی ممالک اور بالخصوص سعودی عرب سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

سیاح نہیں بلکہ گھر کے مہمان

جنوبی ایتھوپیا کے دیہی علاقوں میں اب یہ مناظر بہت عام ہو چکے ہیں، جہاں خلیجی ممالک اور بالخصوص سعودی عرب سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ان سیاحوں کا مقصد ہوٹلوں کی پرتعیش زندگی کے بجائے دُور دراز کے پسماندہ دیہات میں رہ کر مقامی لوگوں کی روزمرہ زندگی کو قریب سے دیکھنا اور ان کی ثقافت و عادات کا تجربہ کرنا ہے۔ 

’دبرزيت‘ نامی قصبے کے رہائشی غمدی بیرا بتاتے ہیں کہ مقامی لوگ یہاں آنے والوں کو محض سیاح نہیں سمجھتے، بلکہ انہیں اپنا ایسا مہمان مانتے ہیں جو ان کے دُکھ سکھ اور زندگی کے معاملات میں شریک ہوتے ہیں۔ 

غمدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب باہر سے آنے والے لوگ ہماری روایات میں اتنی دلچسپی لیتے ہیں تو ہمیں اپنی ثقافت پر فخر محسوس ہوتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ جس زندگی کو ہم بالکل عام سمجھتے ہیں، وہ دوسروں کے لیے کتنی قیمتی اور منفرد ہے۔

ایتھوپیا کے دورزی گاؤں میں مقامی قبائلی باشندوں کے ساتھ روایتی ماحول میں بیٹھے خلیجی سیاح
مقامی لوگ یہاں آنے والوں کو محض سیاح نہیں سمجھتے، بلکہ انہیں اپنا مہمان مانتے ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

روایتی رہائش اور معاشی فائدہ

غمدی بیرا کے مطابق ماضی میں جن چیزوں کو عجیب سمجھا جاتا تھا، جیسے روایتی مٹی اور گھاس کے جھونپڑوں میں رات گزارنا یا کھیتوں میں کٹائی کرنا، وہ اب سیاحوں کی سب سے پسندیدہ سرگرمی بن چکی ہے۔

سیاحت کے اس نئے رُخ نے جہاں ثقافتی روابط کو مضبوط کیا ہے، وہاں مقامی غریب خاندانوں کے لیے اضافی آمدنی کا ایک بہترین ذریعہ بھی فراہم کر دیا ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ اب دیہات کے لوگ ان خلیجی مہمانوں کا دل کھول کر استقبال کرتے ہیں اور ان کے سفر کو یادگار بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔

ایتھوپیا کے دورزی گاؤں میں مقامی قبائلی باشندوں کے ساتھ روایتی ماحول میں بیٹھے خلیجی سیاح
دیہات کے لوگ خلیجی مہمانوں کا دل کھول کر استقبال کرتے ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

نئے سیاحتی مراکز: اربا مینش اور اواسا

ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں ٹورازم اور سفری خدمات فراہم کرنے والے ایک ادارے کی ڈائریکٹر لینا محمد کہتی ہیں کہ خلیجی سیاحوں کی جانب سے اب ایسی تفریح کا مطالبہ بہت بڑھ گیا ہے جو سادہ ہو اور قدرت کے قریب ہو۔

انہوں نے بتایا کہ خلیج کے جدید اور پُررونق شہروں سے آنے والے لوگ اب شہری زندگی کے شور شرابے سے دُور ہو کر دیہات کی پرسکون اور سادہ زندگی میں وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ 

لینا محمد کے مطابق اب سیاحت صرف ادیس ابابا تک محدود نہیں رہی، بلکہ اربا مینش، اواسا اور دبرزيت جیسے علاقے نئے سیاحتی مراکز بن کر ابھرے ہیں۔ 

ان علاقوں میں سیاحوں کو ایسے تجربات ملتے ہیں جو بڑے شہروں میں ممکن نہیں، جیسے جھیلوں میں روایتی کشتیوں کی سواری، چوپالوں اور چرواہوں کے ساتھ دُور دراز علاقوں کا سفر اور زراعت میں عملی حصہ لینا۔ 

خلیجی سیاح ان یادگار لمحوں کی تصاویر اور ویڈیوز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بڑے فخر سے شیئر کرتے ہیں۔

ایتھوپیا کے دورزی گاؤں میں مقامی قبائلی باشندوں کے ساتھ روایتی ماحول میں بیٹھے خلیجی سیاح
لوگ شہری زندگی کے شور شرابے سے دُور ہو کر دیہات کی پرسکون اور سادہ زندگی میں وقت گزارنا چاہتے ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

ذہنی سکون اور نیٹ ورکنگ کا متبادل

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے معروف ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئٹر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر علی داؤد نے اس حوالے سے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے اس سفر کا اصل مقصد شہروں کے ہنگاموں سے دُور فطرت کے ساتھ رشتہ جوڑنا اور ایتھوپیا کی قدیم ثقافت کو گہرائی سے سمجھنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دیہی زندگی انسان کو ذہنی اور نفسیاتی توازن فراہم کرتی ہے اور اسے اندرونی سکون اور تازگی کا احساس دلاتی ہے۔ 

علی داؤد نے اعتراف کیا کہ ایتھوپیا کے دیہات میں بنیادی  انفرا اسٹرکچر کی کمی کی وجہ سے کچھ مشکلات ضرور پیش آتی ہیں، لیکن یہاں کے لوگوں کی سادگی اور اپنی روایات سے جڑے رہنے کا انداز اس پورے سفر کو انتہائی سحر انگیز بنا دیتا ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ جو لوگ خاموشی اور گہرے غور و فکر کے عادی ہیں، ان کے لیے یہ دیہی سفر ذہن کو صاف کرنے اور زندگی کی اصل حقیقتوں پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔

ایتھوپیا کے دورزی گاؤں میں مقامی قبائلی باشندوں کے ساتھ روایتی ماحول میں بیٹھے خلیجی سیاح
ان علاقوں میں سیاحوں کو ایسے تجربات ملتے ہیں جو بڑے شہروں میں ممکن نہیں (فوٹو: الجزیرہ)

سفری سہولیات اور بڑھتا ہوا رجحان

سیاحتی امور کے ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ خلیجی سیاحوں کے ایتھوپیا کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کے پیچھے چند اہم عوامل کارفرما ہیں۔

ان میں سب سے اہم دونوں خطوں کا جغرافیائی طور پر قریب ہونا، ویزا کے حصول میں آسانی اور دونوں خطوں کے درمیان براہ راست پروازوں کی دستیابی ہے۔ 

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر موجود انفلوئنسرز اور عام سیاحوں کی طرف سے شیئر کی جانے والی سیکڑوں ویڈیوز نے بھی اس رجحان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جنہیں دیکھ کر نئے لوگ ان خوبصورت اور اچھوتے افریقی دیہات کا رخ کر رہے ہیں۔

ایتھوپیا کے دیہی علاقوں میں خلیجی، خصوصاً سعودی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید دور کا سیاح اب مصنوعی چمک دمک کے بجائے مٹی سے جڑے حقیقی انسانی تجربات کی تلاش میں ہے۔ 

یہ رجحان نہ صرف بین الثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دے رہا ہے بلکہ افریقا کے پسماندہ دیہی علاقوں کی معیشت کے لیے بھی ایک پائیدار اور مثبت امید بن کر ابھرا ہے، بشرطیکہ مقامی سطح پر بنیادی سفری سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے۔