مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکہ اور چین کے مابین جاری مسابقت اب محض نظریاتی بحث نہیں رہی، بلکہ یہ ایک کثیر جہتی جنگ میں بدل چکی ہے۔
مزید پڑھیں
اس لڑائی میں بھاری سرمایہ کاری، ریگولیٹری ضوابط، قیمتوں کی جنگ اور عالمی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوششیں شامل ہیں۔
سرمایہ کاری اور چینی حکمت عملی
اخبار ’بیجنگ ڈیلی‘ کے مطابق چینی کمپنی ’ڈیپ سیک‘ (DeepSeek) نے 7.5 ارب ڈالر کے قریب سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔
ٹینسنٹ، جی ڈی، نیٹ اییز اور کیٹل (CATL) جیسے بڑے اداروں نے حصہ لیا ہے۔
اس میں ریاستی ’نیشنل انویسٹمنٹ فنڈ‘ کی شمولیت ظاہر کرتی ہے کہ بیجنگ مصنوعی ذہانت کو محض ایک ڈیجیٹل پروڈکٹ نہیں بلکہ قومی بنیادی ڈھانچہ سمجھتا ہے۔
یہ نجی اور سرکاری سرمایہ کاری کا امتزاج طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکہ سے تکنیکی فرق کو کم کرنا ہے۔
امریکی ماڈل پر خدشات اور پابندیاں
اے آئی کمپنی ’انتھروپک‘ (Anthropic) کا ماڈل ’کلاوڈ فیبل 5‘ (Claude Fable 5) اپنی صلاحیتوں کے باعث اس وقت عالمی سطح پر توجہ کا مرکز ہے۔
گوگل کے بانی سرگئی برین نے اسے خالص مصنوعی ذہانت قرار دیا ہے، تاہم اس کی صلاحیتوں نے امریکی حکام میں سیکیورٹی خدشات کو جنم دیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق یہ ماڈل ایسی کوڈنگ کر سکتا ہے جو سائبر حملوں میں استعمال ہو سکے۔
اسی وجہ سے امریکی وزارت تجارت نے اس کے غیر ملکی صارفین کے لیے برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کمرشل اے آئی ماڈل کو قومی سلامتی کے تحت کنٹرول کیا گیا ہے۔
چینی ماڈلز کی ابھرتی ہوئی صلاحیت
امریکی پابندیوں نے عالمی سطح پر ایک خلا پیدا کیا ہے، جسے چینی کمپنی ’زی پو‘ (Zhipu) اپنے ماڈل ’جی ایل ایم 5.2‘کے ذریعے پُر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ ماڈل منطقی لحاظ سے بعض امریکی ماڈلز کے مقابلے میں بہتر اور کافی سستا ثابت ہو رہا ہے۔
اگرچہ یہ چین کی مکمل برتری کا دعویٰ نہیں ہے، لیکن یہ ماڈل ان عالمی صارفین کی مانگ کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو امریکی ماڈلز تک رسائی سے محروم ہیں۔
یہ پیش رفت چین کی تکنیکی خود انحصاری کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کو ظاہر کرتی ہے۔
بنیادی ڈھانچہ، توانائی اور چپ سازی
ہانگ کانگ یونیورسٹی کے محقق لی چینگ کے مطابق امریکہ کے پاس ایڈوانس چپس اور کلاؤڈ انفرا اسٹرکچر میں برتری برقرار ہے۔
تاہم چین نے توانائی اور اے آئی ایپلی کیشنز میں اہم پیش رفت کی ہے۔ بیجنگ گزشتہ ایک دہائی سے چپ ریسرچ اور ڈیولپمنٹ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
اس حکمت عملی کا مقصد امریکہ کی تکنیکی اجارہ داری کے ’محفوظ قلعے‘ کو کمزور کرنا ہے۔
چینی کمپنیاں اب قیمتوں میں کمی کے بجائے کوالٹی کی بنیاد پر مقابلہ کر رہی ہیں، جو کہ چینی ٹیکنالوجی کے ارتقا کی ایک اہم علامت ہے۔
اعتماد کا بحران
’پبلک فرسٹ‘ کے سروے کے مطابق دنیا کے 11 ممالک میں لوگ چین کو اے آئی میں تیزی سے ترقی کرنے والا مانتے ہیں، لیکن امریکی ماڈلز پر اعتماد زیادہ ہے۔
بیجنگ کو تکنیکی برتری کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنے ماڈلز کے محفوظ اور غیر جانبدار ہونے کا بیانیہ بھی بنانا ہوگا۔
ایلون مسک کی پیش گوئی ہے کہ چینی ماڈلز 2027 کی پہلی سہ ماہی تک فیبل کی سطح تک پہنچ سکتے ہیں۔
یہ جنگ اب جوہری ہتھیاروں کی دوڑ جیسی نہیں، بلکہ عالمی معیشت کے اعصاب پر قابو پانے کی ایک طویل مدتی جدوجہد ہے، جس میں امریکہ کا بند اور محفوظ ماڈل اور چین کا وسیع پیمانے پر مبنی کھلا ماڈل آمنے سامنے ہیں۔