فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے فٹبال حلقوں میں وسیع بحث چھیڑ دی۔
گروپ مرحلے کے دوسرے راؤنڈ میں پیراگوئے اور ترکی کے درمیان کھیلے گئے میچ میں پہلی بار فیفا کے نئے قوانین کے تحت ایک کھلاڑی کو میدان سے باہر بھیج دیا گیا۔
میچ کے پہلے ہاف کے اختتام پر ریفری نے پیراگوئے کے مڈفیلڈر میگوئل المیرون کو سرخ کارڈ دکھا دیا، جب انہوں نے ترک کھلاڑی میرٹ مولدر سے گفتگو کے دوران اپنا منہ ہاتھ سے ڈھانپ لیا۔
ریفری نے اس عمل کو نئے ضوابط کی خلاف ورزی قرار دیا۔
🚨 شاهد الفيديو..
— ♛ Al-Sharif Hassan II ♛ (@hassan_833) June 20, 2026
لأول مرة في كأس العالم 2026، يُطبَّق ما يُعرف إعلامياً بـ«قانون بيريستاني وفينيسيوس»، والذي ينص على معاقبة أي لاعب يتعمد تغطية فمه أثناء الحديث مع الخصم أو الحكم إذا اعتُبر أنه يحاول إخفاء ألفاظ مسيئة أو عنصرية أو مخالفة للروح الرياضية.
وفي مباراة تركيا… pic.twitter.com/GMnNesiMMR
یہ فیصلہ اس قانون کے تحت کیا گیا جسے میڈیا میں ’بیلنگھم اور وینیسیئس قانون‘‘ کے نام سے پکارا جا رہا ہے۔
اس قانون کا مقصد میدان میں نسلی، توہین آمیز یا غیر اخلاقی جملوں کے استعمال کی روک تھام ہے۔
اس کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی حریف یا ریفری سے بات کرتے وقت جان بوجھ کر اپنا منہ ڈھانپے تاکہ اس کے الفاظ کیمرے یا نگرانی کے نظام سے پوشیدہ رہیں، تو اسے تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس فیصلے کے ساتھ میگوئل المیرون ورلڈ کپ 2026 میں اس قانون کے تحت سرخ کارڈ پانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے، جس نے فٹبال قوانین کے ایک نئے باب کا آغاز کر دیا۔
فیفا کا مؤقف واضح ہے:
نسل پرستی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
پوشیدہ زبانی بدسلوکی قابل قبول نہیں۔
میدان میں کہی جانے والی ہر بات احتساب اور نظم و ضبط کے دائرے میں ہونی چاہیے۔
تاہم اس واقعے نے ایک اہم سوال بھی کھڑا کر دیا ہے: کیا یہ قانون واقعی میدانوں میں زبانی بدسلوکی اور نسلی تعصب کو کم کرنے میں کامیاب ہوگا، یا پھر یہ ریفریوں کے فیصلوں سے متعلق نئے تنازعات اور بحثوں کو جنم دے گا؟