براہ راست نشریات

ورلڈکپ: ایران کی فیفا کو امریکہ کے خلاف شکایت، امتیازی سلوک کا الزام

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فیفا ورلڈ کپ میں ایرانی فٹبال ٹیم پر پابندیاں اور امریکی ویزا تنازع پر ایرانی فٹبال فیڈریشن کی شکایت
ایران کی قومی ٹیم اپنا تربیتی کیمپ میکسیکو منتقل کرنے پر مجبور ہو گئی ہے (فوٹو: رائٹرز)

ایرانی فٹبال فیڈریشن نے عالمی تنظیم فیفا میں امریکہ کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرانے کا اعلان کیا ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق یہ قدم ورلڈکپ کے دوران ایرانی ٹیم پر عائد پابندیوں کے خلاف اٹھایا گیا ہے، جو ٹیم کی تیاریوں میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ٹیم کے معاون عملے کے تقریباً 15 ارکان کو ویزے دینے سے انکار کر دیا ہے۔ 

اس کے علاوہ ایران کی فٹبال ٹیم کو میچ سے 2 دن پہلے میزبان شہر پہنچنے کی اجازت دینے کے بجائے صرف ایک دن کی مہلت دی گئی۔

یاد رہے کہ ایران کو اتوار کے روز بیلجیئم کے خلاف اہم میچ کھیلنا ہے، جس کے لیے انہوں نے جمعہ کو لاس اینجلس پہنچنے کی درخواست کی تھی۔

تاہم امریکی حکام نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے ٹیم کو میچ سے محض ایک دن قبل پہنچنے کا پابند کیا ہے۔

میکسیکو میں ایرانی فٹبال ٹیم کا سیکیورٹی حصار اور تربیتی کیمپ
میکسیکو کی فوج اور نیشنل گارڈ کے 300 اہلکار ایرانی قومی ٹیم کی رہائش گاہ کے ارد گرد تعینات ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

ایرانی ٹیم کے عہدیدار کے مطابق یہ پابندیاں تمام شریک ٹیموں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے بین الاقوامی اصول کے خلاف ہیں۔

ان رکاوٹوں کی وجہ سے کھلاڑیوں کی جسمانی و تکنیکی تیاریوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

اس سے قبل ٹیم کے ہیڈ کوچ امیر قلعہ نوئی نے بھی نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے میچ کے بعد شدید ردعمل دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ورلڈ کپ میں ایرانی ٹیم کو سب سے زیادہ امتیازی سلوک اور سیاسی بنیادوں پر پیدا کردہ مشکلات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث ایرانی ٹیم کو اپنا تربیتی کیمپ ایریزونا کے بجائے میکسیکو کے شہر تیخوانا منتقل کرنا پڑا تھا۔ 

اسی طرح نیوزی لینڈ کے خلاف 2، 2 سے برابر رہنے والے میچ میں بھی ٹیم کو مقابلے سے چند گھنٹے قبل پہنچنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

ایرانی وفد نے واضح کیا ہے کہ وہ فیفا کے متعلقہ چینلز کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔ 

اُن کا مطالبہ ہے کہ عالمی فٹبال تنظیم اس معاملے میں فوری مداخلت کرے تاکہ ٹیم کو کھیل کے لیے پرسکون اور سازگار ماحول مل سکے۔