نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں پیر 15 جون کا دن عالمی ارب پتیوں کے لیے تاریخی ثابت ہوا، جہاں دنیا کے 500 امیر ترین افراد کی دولت میں 336 ارب ڈالر کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔
مزید پڑھیں
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق یہ ایک دن میں ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔
بلومبرگ بلین ائیر انڈیکس کے مطابق ان 500 امیر ترین شخصیات کی مجموعی دولت اب 13.3 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
اب اس فہرست میں شامل ہونے کے لیے کم از کم دولت کی حد بھی بڑھ کر 7.9 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔
دنیا کے سب سے پہلے ٹریلین پتی ایلون مسک نے اپنی برتری مزید مستحکم کر لی ہے اور ان کے اثاثوں میں 10 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
مسک کی مجموعی دولت اب 1.27 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو کہ ایک غیر معمولی عالمی ریکارڈ ہے۔
عالمی منڈیوں میں اس غیر معمولی تیزی کی بڑی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا وہ عبوری معاہدہ ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا۔
اس مثبت صورتحال کے باعث ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا جبکہ نیسڈیک 100 اور ایم ایس سی آئی ورلڈ انڈیکس بھی اپنی بلند ترین سطح کے قریب بند ہوئے۔
اسی طرح انڈیکس میں شامل کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی پبلک لسٹنگ اور کامیاب آغاز نے دولت میں اضافے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں 20 فیصد اضافہ ہوا جس سے مسک کی دولت میں تنہا 164 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایلون مسک کو ہونے والا 164 ارب ڈالر کا یہ فائدہ بلومبرگ انڈیکس میں شامل بقیہ 499 افراد کے مجموعی فائدے کے تقریباً برابر ہے۔
یہ کسی بھی ایک فرد کی دولت میں ایک دن کے دوران ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کے امیر ترین افراد کے درمیان بھی دولت کا فرق تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
اس وقت سرفہرست 50 افراد 6.5 ٹریلین ڈالر کے مالک ہیں، جبکہ فہرست کے بقیہ 450 افراد کے پاس مجموعی طور پر 6.8 ٹریلین ڈالر ہیں۔