براہ راست نشریات

خلائی معیشت: نجی کمپنیاں کس طرح آسمان کو کاروبار میں بدل رہی ہیں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عالمی خلائی معیشت اور نجی کمپنیوں کی جانب سے سیٹلائٹ مواصلات کا کاروبار
عالمی خلائی معیشت کی مالیت 2023 میں تقریباً 630 بلین ڈالر تھی (فوٹو: الجزیرہ)

خلا اب محض سائنسی دریافت یا بڑی طاقتوں کے جیوپولیٹیکل مقابلے کا میدان نہیں رہا۔

مزید پڑھیں

گزشتہ 2 دہائیوں میں یہ دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے معاشی شعبوں میں سے ایک بن چکا ہے، جہاں اربوں ڈالر سرمایہ کاروں اور نجی کمپنیوں کی طرف سے اس اقتصادی طاقت ور اکانومی میں داخل ہو رہے ہیں جس کی مجموعی مالیت آنے والی دہائیوں میں کھربوں ڈالروں سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

اسپیس ایکس کا نیس ڈیک اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی آئی پی او، جس 

میں کمپنی نے 75 ارب ڈالر اکٹھے کیے، یہ اب تک کا سب سے بڑا آئی پی او ہے، جس سے کمپنی کی مجموعی مالیت 1.77 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس سے خلا میں سرمایہ کاروں کا بھروسہ دکھائی دیتا ہے۔

دوسری جانب ماہرین کے مطابق کمپنی کی آمدن ابھی ٹیکنالوجی کی دیگر بڑی کمپنیوں سے بہت کم ہے۔

عالمی خلائی معیشت اور نجی کمپنیوں کی جانب سے سیٹلائٹ مواصلات کا کاروبار
اسپیس ایکس نے اب تک کے سب سے بڑے آئی پی او میں 75 ارب ڈالر اکٹھا کیا (فوٹو: اے پی)

سرکاری سے نجی ملکیت تک

خلائی صنعت تاریخی طور پر حکومتوں سے منسلک رہی ہے۔ سرد جنگ (1957-1975) کے دوران امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان خلائی دوڑ، پھر ناسا، یورپی خلائی ادارے، روسی اور چینی ایجنسیوں کے قومی پروگرام ، یہی اس شعبے کا مجموعی خاکہ تھا۔

مگر یہ منظر اس وقت ڈرامائی طور پر بدلنا شروع ہوا جب نجی شعبہ اس میدان میں اترا۔ 

ایلون مسک کی اسپیس ایکس نے دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ تیار کر کے ایک انقلاب برپا کیا ، جس سے مدار میں بوجھ پہنچانے کی لاگت گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں انتہائی حد تک کم ہو گئی۔ 

کمپنی نے ’اسٹار شپ‘ راکٹ کی تیاری پر 15 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے ہیں، جو اسٹارلنک سیٹلائٹس کی تیز رفتار تعیناتی اور مستقبل میں ناسا کے چاند مشن کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اسپیس ایکس کی اس کامیابی نے جیف بیزوس کی بلو اوریجن، راکٹ لیب اور فائرفلائی ایرو اسپیس جیسی کمپنیوں کو جنم دیا۔ اب مقابلہ ملکوں کے درمیان نہیں بلکہ کمپنیوں کے درمیان سرکاری معاہدوں اور مستقبل کی تجارتی منڈیوں کے لیے ہے۔

عالمی خلائی معیشت اور نجی کمپنیوں کی جانب سے سیٹلائٹ مواصلات کا کاروبار
اسپیس ایکس نے اپنے اسٹار شپ راکٹ کی تیاری پر 15 بلین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں (فوٹو: اے پی)

کھربوں ڈالر کی معیشت

میکنزی کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی خلائی معیشت 2023ء میں تقریباً 630 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور توقع ہے کہ 2035ء تک یہ 1.8 کھرب ڈالر ہو جائے گی۔

سالانہ 9 فیصد ترقی کی یہ رفتار عالمی جی ڈی پی کی متوقع نمو سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔

عالمی اقتصادی فورم اور پرائس واٹر ہاؤس کوپرز کے اندازے کے مطابق خلا، مواصلات، ڈیٹا اور ڈیجیٹل خدمات کی توسیع کی بدولت  آنے والی دہائی میں عالمی معیشت کا ایک بڑا انجن بننے والا ہے۔

یوروکونسلٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خلائی معیشت کی موجودہ قدر کا 70 فیصد سے زائد حصہ سیٹلائٹس سے منسلک تجارتی خدمات سے آتا ہے ، نہ کہ انسان بردار پروازوں یا سیاروں کی دریافت سے، جیسا کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں۔

عالمی خلائی معیشت اور نجی کمپنیوں کی جانب سے سیٹلائٹ مواصلات کا کاروبار
سیٹلائٹ انٹرنیٹ کا شعبہ تیزی سے توسیع اور ترقی کررہا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

اصل پیسہ کہاں سے آتا ہے؟

فضائی مہمات اور دیوہیکل راکٹوں کی آسمان چھوتی شہرت کے باوجود زیادہ تر آمدن کم معروف مگر زیادہ منافع بخش سرگرمیوں سے آتی ہے۔

سیٹلائٹس اب عالمی ڈیجیٹل معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہیں ۔ مواصلات، انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن نشریات، نیویگیشن، جغرافیائی محل وقوع کا تعین، لاجسٹکس، سپلائی چین مینجمنٹ، ذہین زراعت اور موسمیاتی نگرانی سب کچھ انہی کے ذریعے ہو رہا ہے۔ 

امریکن سیٹلائٹ انڈسٹری ایسوسی ایشن کے مطابق تجارتی سیٹلائٹ صنعت کی آمدن 2023ء میں 285 ارب ڈالر رہی جو عالمی خلائی معیشت کا 71 فیصد بنتا ہے۔

اسی طرح خلائی انٹرنیٹ کا شعبہ بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اسپیس ایکس کی اسٹارلنک سروس ہزاروں سیٹلائٹس کے ذریعے پوری دنیا میں لاکھوں صارفین کو خدمات فراہم کر رہی ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ مارکیٹ آنے والے برسوں میں سیکڑوں ارب ڈالروں سے تجاوز کر سکتی ہے۔

مستقبل پر جُوا

اسپیس ایکس کی 1.77 کھرب ڈالر کی مالیت ان طویل المدتی توقعات کو ظاہر کرتی ہے جو سرمایہ کار اس شعبے سے لگائے بیٹھے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ 28.5 کھرب ڈالر کی مارکیٹ کو ہدف بنا رہی ہے۔ سرمایہ کاروں کے مطابق آنے والی دہائیوں میں خلائی کمپنیاں وہی مقام حاصل کریں گی جو 1990ء کی دہائی سے انٹرنیٹ کمپنیوں نے حاصل کیا ہے۔

عالمی خلائی معیشت اور نجی کمپنیوں کی جانب سے سیٹلائٹ مواصلات کا کاروبار
خلاباز Soyuz MS-28 خلائی جہاز پر سوار ہونے سے پہلے (فوٹو: الجزیرہ)

امریکہ بمقابلہ چین

خلائی سرمایہ کاری کی اس دوڑ کے پیچھے امریکہ اور چین کے درمیان جیوپولیٹیکل کشمکش بھی ہے۔

دونوں ممالک نہ صرف چاند مشن اور خلائی اڈوں کے لیے بلکہ اس بنیادی ڈھانچے پر بھی مقابلہ کر رہے ہیں جس پر مستقبل کی عالمی معیشت، خلائی مواصلاتی نیٹ ورکس، نیویگیشن سسٹمز اور ریموٹ سینسنگ کا انحصار ہوگا۔

امریکی حکومت نے جہاں دفاعی اور شہری خلائی پروگراموں پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، وہیں چین اپنے فضائی پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ 

اس کا اپنا خلائی اسٹیشن موجود ہے اور 2030ء تک چین کا اپنے خلاباز کو چاند پر اتارنے کا ہدف ہے۔

2025ء تک چین نے خلائی پٹی میں 300 سے زائد سیٹلائٹس تعینات کیے ہیں۔ بیجنگ مستقبل میں لاکھوں سیٹلائٹس اتارنے کے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

عالمی خلائی معیشت اور نجی کمپنیوں کی جانب سے سیٹلائٹ مواصلات کا کاروبار
چین میں لانگ مارچ-2 ایف راکٹ پر سوار شینزو 16 خلائی جہاز کا آغاز (فوٹو: الجزیرہ)

سیٹلائٹس کے علاوہ ممکنہ خلائی صنعتیں

اگرچہ فی الحال سیٹلائٹس ہی خلا سے سب سے بڑا ذریعہ آمدن ہیں، تاہم ماہرین اور سرمایہ کار ان شعبوں کو بھی دیکھ رہے ہیں، جو ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔

فضائی کان کنی جو سیاروں اور چاند سے نایاب معدنیات نکالنے کا ہدف رکھتی ہے اور خلائی سیاحت جو 2021ء میں اسپیس ایکس، بلو اوریجن اور ورجن گیلیکٹک کی پروازوں سے باقاعدہ شروع ہوئی، مستقبل کے اہم ترین کاروباری شعبے بن سکتے ہیں۔ 

ناسا کے مطابق نظامِ شمسی کے سیاروں میں تقریباً 700 کوئنٹلیئن ڈالر کی معدنی دولت موجود ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ چین نے رواں سال جنوری میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔ یعنی خلائی ماحول میں پہلی بار دھاتوں کی تھری ڈی پرنٹنگ ، جس سے چاند اور مریخ مشن میں خود کفیل تیاری کے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔

اس وقت سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ خلائی معیشت بڑھے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کی قیادت کون کرے گا؟۔ حکومتیں یا نجی کمپنیاں؟ اور کھربوں ڈالرز کی اس دوڑ میں کس کی بالادستی ہوگی؟