روسی سامراج کا صدیوں تک سب سے بڑا خواب ’گرم پانیوں‘ تک رسائی رہا۔
مزید پڑھیں
یہ وہ خواب تھا جس نے مشرقی یورپ اور بحیرہ اسود کے خطے میں انتشار اور تنازعات کو جنم دیا اور یہی خواب روسی توسیع پسندی کو صدیوں تک ہوا دیتا رہا۔
پندرہویں صدی سے شروع ہونے والی روسی طاقت کا ارتقا سب سے پہلے منگول اور عثمانی قوتوں سے سرحدی جھڑپوں کی شکل میں سامنے آیا اور بالآخر ایک وسیع سامراجی منصوبے کی صورت اختیار کر گیا جس کا
اصل ہدف خود خلافتِ عثمانیہ کا دل ، یعنی استنبول تھا۔
پہلی عالمی جنگ کے آغاز کے ساتھ یہ روسی عزائم اپنے عروج کو پہنچ گئے۔
اب روس محض سرحدی علاقوں پر قبضے سے مطمئن نہیں تھا بلکہ استنبول اور آبنائے باسفورس وہ سب سے بڑا انعام بن چکا تھا جس کے بدلے میں روس نے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ خفیہ اتحاد قائم کیے۔
روسی عروج اور عثمانی زوال
پندرہویں صدی کے آغاز سے جنوبی روس، قفقاز، یوکرین اور پولینڈ کے کچھ حصوں میں مسلم منگول اقتدار بکھرنا شروع ہو گیا تھا، جبکہ روسی طاقت تیزی سے ابھر رہی تھی۔
اِسی دور میں روس نے فوجی مہمات اور سیاسی تصادموں کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا جس کے ذریعے وہ اپنی روایتی حدود سے باہر نکل کر بحیرہ آزوف تک جا پہنچا۔
یوں پہلی بار منگول مسلم تسلط کو سنجیدہ چیلنج درپیش ہوا، جو بعد ازاں براہِ راست عثمانیوں کے لیے خطرہ بن گیا ، جو بحیرہ اسود کو اپنا مخصوص اور مکمل زیرِ تسلط سمندر سمجھتے تھے۔
روس اٹھارہویں صدی تک ایک مؤثر جیو پولیٹیکل طاقت بن چکا تھا۔
’پیٹر دی گریٹ‘ اور ’کیتھرین دی گریٹ‘ جیسے حکمرانوں نے ایک وسیع تر اسٹریٹجک وژن اپنایا جس کا بنیادی مقصد اپنی جغرافیائی تنہائی توڑ کر مغربی یورپ تک براہِ راست رسائی اور گرم سمندروں تک پہنچنا تھا۔ اس کے لیے عثمانی سلطنت کو کمزور کرنا اولین ترجیح تھی۔
1768ء کی جنگ اور عثمانی سقوط
عثمانی ریاست نے 1768ء کی جنگ میں اس وقت قدم رکھا، جب وہ عسکری طور پر اس کے لیے تیار نہیں تھی۔ امن کے طویل دورانیے نے فوج کو کمزور کر دیا تھا، جبکہ روس نے اس دوران اپنی عسکری ڈھانچے کی مکمل اصلاح کر لی تھی۔
روس نے بحیرہ بالٹک میں ایک جدید بحریہ تیار کی اور اسے بحرِ اطلس کے ذریعے بحیرۂ روم بھیجا، جو عثمانیوں کے لیے ایک حیران کن قدم تھا۔ اُن کا گمان تھا کہ یہ خطہ ابھی روسی بحری دسترس سے باہر ہے۔
1770ء میں بحیرہ ایجیئن میں شدید بحری معرکوں کے بعد روس کو ایک بڑی فتح ملی۔ بندرگاہِ چیسمہ میں عثمانی بحریہ کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا اور روس نے خیوس جزیرے پر قبضہ کر لیا۔
اس فتح نے پورے یورپ اور عثمانی دنیا میں ہلچل مچا دی۔ روسی قریب تھے کہ دار دانیلز کے راستے استنبول پر چڑھ دوڑیں، مگر اپنے رہنماؤں کے اختلافات کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔
1774ء میں معاہدہ ’کوچک قینارجہ‘ پر دستخط ہوئے جو عثمانی تاریخ کے سخت ترین معاہدوں میں سے ایک تھا۔
اس کے تحت عثمانی سلطنت نے کریمیا پر اپنا براہِ راست اثر و رسوخ کھو دیا، روس کو عثمانی اراضی میں وسیع سیاسی و مذہبی مراعات ملیں اور بحیرہ اسود میں روسی قدم جم گیا۔
مصری مؤرخ محمد فرید نے اپنی کتاب ’عظیم سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ‘میں لکھا ہے کہ عثمانی زوال کی بڑی وجہ عثمانی حکمرانوں کی پیٹر دی گریٹ کے دور سے شروع ہونے والے روسی توسع پسندانہ منصوبے کو ابتدا میں نہ سمجھنا تھا۔
استنبول: سب سے بڑا انعام
پہلی عالمی جنگ میں جب عثمانی سلطنت جرمنی کی ہم نوا بنی تو روس کو اپنی تاریخی خواہش پوری کرنے کا موقع نظر آیا۔
مؤرخ ڈیوڈ فرومکن اپنی کتاب (سلام ما بعده سلام) ’سلام کے بعد پھر سلام‘میں لکھتے ہیں کہ روس کا اصرار ہی وہ عنصر تھا جس نے برطانوی رہنماؤں، جن میں وزیرِ جنگ کچنر اور اس وقت کے وزیرِ بحریہ چرچل شامل تھے ، کو 1915ء کی دار دانیلز مہم پر مجبور کیا جو ’جنگِ چنّک قلعہ‘ پر منتج ہوئی، جہاں عثمانیوں نے اتحادیوں کا بھرپور مقابلہ کیا۔
4 مارچ 1915ء کو روسی وزیرِ خارجہ سرگئی سازونوف نے لندن اور پیرس کو ایک خفیہ تار بھیجا، جس میں قیصرِ روس نکولس دوم کا پیغام تھا۔
اس پیغام میں مطالبہ یہ تھا کہ استنبول اور اس سے ملحق آبناؤں کو روس کے حوالے کیا جائے اور اس کے بدلے روس عثمانی علاقوں میں،بالخصوص عرب خطے میں ، برطانیہ اور فرانس کی خواہشات کو ہمدردی سے سنے گا۔
اس مطالبے سے فرانس میں خوف و ہراس پھیل گیا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں فرانسیسی مفادات کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا، مگر برطانیہ نے فرانس کو اطمینان دلایا۔
برطانوی وزیرِ اعظم ہربرٹ اسکوتھ نے لکھا: ’بہت کم چیزیں مجھے اتنی خوشی دیتی ہیں جتنی یہ کہ ترک سلطنت یورپ سے مکمل طور پر غائب ہو جائے اور قسطنطینیہ روسی ہو جائے۔‘
1915ء کے اواخر میں ’معاہدہ قسطنطینیہ‘طے پایا جس میں روس کو استنبول اور ترک آبناؤں پر حاکمیت کی ضمانت دی گئی، جبکہ روس نے عرب اراضی میں برطانوی اور فرانسیسی مفادات کو تسلیم کیا۔
سائیکس پیکو اور روس کی مہر
1916ء کے آغاز میں سائیکس پیکو مذاکرات کی حتمی منظوری کے لیے لندن اور پیرس کے نمائندے روس گئے۔
روسی وزیرِ خارجہ سازونوف نے ’سازونوف پیلیولوگ معاہدے‘ کے تحت مزید مراعات حاصل کیں ، جن میں مغربی آرمینیا اور جنوب مشرقی اناطولیہ کے وسیع حصوں کا الحاق اور یروشلم کے بارے میں فیصلے میں شراکت کا حق شامل تھیں۔
یوں جب شریف حسین اور ہنری مک ماہون کی خط و کتابت عربوں سے آزادی کے وعدے کر رہی تھی، اسی وقت خفیہ کمروں میں روس، برطانیہ اور فرانس عثمانی ترکہ آپس میں بانٹ رہے تھے اور اس تقسیم کی تکمیل روسی مہر کے بغیر ممکن نہ تھی۔
تاہم 1917ء کے بالشویک انقلاب نے یہ سارا کھیل پلٹ دیا۔ لینن اور ٹراٹسکی کی قیادت میں نئی حکومت نے تمام ’سامراجی خفیہ معاہدوں‘ سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا اور 23 نومبر 1917ء کو ’سائیکس پیکو معاہدے‘ کا متن اخبارات ’ازوستیا‘ اور ’پراودا‘ میں شائع کر دیا گیا۔
اس طرح سے عربوں کو پتا چلا کہ ان کے ساتھ کس حد تک دھوکا ہوا تھا۔
روس کے اناطولیہ سے متعلق عزائم قیصری نظام کے سقوط کے ساتھ ہی دم توڑ گئے، جس نے مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں ترک مزاحمتی تحریک کو پنپنے کا موقع دیا۔
تاہم گرم پانیوں کا روسی خواب مکمل طور پر کبھی نہیں مرا اور وہ وقتاً فوقتاً ابھرتا رہتا ہے۔