فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایران اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والے میچ سے قبل لاس اینجلس میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
ہزاروں ایرانی نژاد افراد نے اسٹیڈیم کے اطراف احتجاج کی تیاری کر لی ہے اور وہ انقلابِ ایران سے قبل والا پرچم لہرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت مخالف پرچم یا نعرے اسٹیڈیم میں نظر آئے تو میچ رکوانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایران اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والے میچ سے قبل لاس اینجلس میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں ہزاروں ایرانی نژاد تارکین نے اسٹیڈیم کے باہر احتجاج کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
العبیہ کی رپورٹس کے مطابق مظاہرین ایران کے موجودہ سرکاری پرچم کے بجائے 1979 کے اسلامی انقلاب سے قبل استعمال ہونے والا ایرانی پرچم لہرانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس پر ایرانی حکام نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ایران کے وزیر کھیل احمد دنیامالی نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک میچ کے دوران اسٹیڈیم میں لہرائے جانے والے جھنڈوں اور نعروں پر گہری نظر رکھے گا۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر حکومت مخالف علامتیں یا پرچم نظر آئے تو ایران میچ رکوانے کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
اسی طرح ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ میچ کے دوران صرف ایران کے موجودہ سرکاری پرچم کی نمائش کو یقینی بنایا جائے۔
دوسری جانب امریکا میں مقیم بعض ایرانی نژاد افراد کا کہنا ہے کہ موجودہ ایرانی ٹیم ان کی نمائندگی نہیں کرتی۔
ایرانی نژاد امریکی خاتون سارہ باہمن نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی
اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میچ رکتا ہے یا نہیں، کیونکہ ان کے بقول یہ قومی ٹیم نہیں بلکہ حکومت کی ٹیم ہے۔
کیلیفورنیا میں دنیا کی بڑی ایرانی تارکینِ وطن آبادیوں میں سے ایک آباد ہے، جہاں گزشتہ چند برسوں کے دوران ایرانی حکومت کے خلاف متعدد مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔
رواں سال ایران میں ہونے والے عوامی احتجاج اور حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد بھی بڑی تعداد میں ایرانی نژاد افراد سڑکوں پر نکلے تھے اور انقلاب سے پہلے والا ایرانی پرچم بلند کیا تھا۔
یونیورسٹی کے پروفیسر سید محاسب کا کہنا ہے کہ ایران میں عوام کو درپیش مشکلات انہیں راتوں کو سونے نہیں دیتیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ میچ کے موقع پر 40 سے 50 ہزار افراد اسٹیڈیم کے اطراف احتجاج میں شریک ہوں گے۔
جنوبی لاس اینجلس کی اورنج کاؤنٹی سے تعلق رکھنے والے ایرانی نژاد امریکی کارکن ایمان فروتان نے سوال اٹھایا کہ اگر ہزاروں افراد احتجاج کریں تو فیفا آخر کیا کر سکتا ہے؟
کیا وہ میچ روک دے گا یا تمام شائقین کو باہر نکال دے گا؟
ان کے مطابق ایسا کرنا عملی طور پر آسان نہیں ہوگا۔
68 سالہ فروتان کا کہنا تھا کہ موجودہ ایرانی فٹبال ٹیم حکومت کے لیے تشہیری آلے کا کردار ادا کر رہی ہے۔
ان کے بقول ٹیم کے کئی کھلاڑی حکومت کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اپوزیشن حلقوں میں انہیں سخت تنقید کا سامنا ہے۔
ایران اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والا یہ میچ اب صرف کھیل تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے ساتھ سیاسی کشیدگی اور علامتی احتجاج کا پہلو بھی جڑ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر کی نظریں اس مقابلے اور اس کے اردگرد ہونے والی سرگرمیوں پر مرکوز ہو گئی ہیں۔