ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے اعلان کیا ہے کہ شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز 4 جولائی سے دارالحکومت تہران میں ہوگا، جبکہ ان کی تدفین 9 جولائی کو مشہد میں کی جائے گی۔
مزید پڑھیں
ایرانی میڈیا کے مطابق 4 اور 5 جولائی کو تہران کے جامع خمینی کبیر میں تعزیتی تقریبات منعقد ہوں گی، جبکہ 6 جولائی کو تہران میں باقاعدہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔
اس کے بعد 7 جولائی کو شہر قم میں بھی جنازے کی تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق علی خامنہ ای کی تدفین 9 جولائی کو مشہد میں
ہوگی، جو ان کا آبائی شہر ہے اور ایران کے اہم مذہبی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ علی خامنہ ای گزشتہ برس 28 فروری کو ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں میں شہید ہوگئے تھے۔
ان کی وفات کے ساتھ ہی اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کا ایک طویل دور ختم ہوگیا تھا، کیونکہ وہ 3 دہائیوں سے زائد عرصے تک ملک کے سپریم لیڈر رہے۔
علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ابتدائی طور پر مارچ میں ہونا تھی، تاہم جنگی حالات کے باعث ان کی آخری رسومات کو مؤخر کر دیا گیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ علی خامنہ ای کے سفر آخرت کی ان تقریبات کا آغاز 4 جولائی کو ہوگا، جو امریکا کے 250ویں یومِ آزادی کے موقع سے مطابقت رکھتا ہے۔
علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای نے مارچ کے اوائل میں سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا اور وہ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد تیسرے سپریم لیڈر بن گئے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای بھی اسی حملے میں زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد اور متعدد اعلیٰ حکام شہید ہوئے۔
بعد ازاں منصب سنبھالنے سے لے کر اب تک وہ عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے، جب کہ ان سے منسوب بیانات ہی جاری کیے جاتے ہیں۔