گزشتہ 5 برس کے دوران مصر کے مختلف گورنریٹس میں ایک غیر ملکی پرندے ’مینا‘کی آبادی میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں
برصغیر پاک و ہند سے تعلق رکھنے والا یہ پرندہ اپنی موافقت کی زبردست صلاحیت کے باعث مصری ماحول میں نہ صرف ڈھل چکا ہے بلکہ تیزی سے اپنی نسل بھی بڑھا رہا ہے۔
اگرچہ کچھ لوگ اس کی آواز اور نقل اتارنے کی مہارت سے متاثر ہوتے ہیں، لیکن وائلڈ لائف ماہرین اسے حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کے لیے سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
’مینا‘ایک جارح پرندہ کیوں ہے؟
پرندوں کے ماہرین کے مطابق مینا کو دنیا کے کئی ممالک میں ایک ’جارح پرندہ‘تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کی جارحیت کی بنیادی وجہ مقامی پرندوں کے ساتھ خوراک اور گھونسلے بنانے کی جگہ پر مقابلہ کرنا ہے۔
یہ پرندہ نہ صرف مقامی پرندوں کے انڈوں اور بچوں کو اپنا لقمہ بناتا ہے، بلکہ اسے چھوٹے بازوں کے بچوں کا شکار کرنے میں بھی ملوث پایا گیا ہے۔
یہ غیر معمولی سلوک مقامی پرندوں کی آبادی کو شدید متاثر کر رہا ہے اور ماحولیاتی توازن کو بگاڑ رہا ہے۔
مصر میں آمد اور تیزی سے پھیلاؤ
ماحولیاتی محقق واتر البحری کا کہنا ہے کہ ’مینا‘ کا اصل وطن بھارت ہے، جہاں سے یہ مشرقِ بعید اور کئی عرب ممالک تک پہنچا۔
مصر میں اس کی آمد کا آغاز شمالی سینا سے ہوا، لیکن کورونا وائرس کی وبا کے دوران اس کے پھیلاؤ میں بے پناہ تیزی آئی۔
اپنی وسیع خوراک کی عادات،جن میں کچرا، کیڑے مکوڑے اور انسانی آبادیوں میں دستیاب خوراک شامل ہے، اور بلند عمارتوں و بجلی کے کھمبوں پر گھونسلے بنانے کی صلاحیت نے اسے مصر کے تقریباً ہر کونے میں پھیلنے میں مدد دی ہے۔
یہ پرندہ سال میں 2 سے 4 بار افزائشِ نسل کر سکتا ہے، جو اس کے تیزی سے بڑھنے کی بڑی وجہ ہے۔
زرعی معیشت پر منفی اثرات
مینا صرف پرندوں ہی کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ مصری زراعت پر بھی کاری ضرب لگا رہی ہے۔
یہ پرندہ انگور، انجیر، شہتوت اور زیتون کے باغات پر دھاوا بولتا ہے، جس سے کسانوں کو بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
اس کے علاوہ یہ مقامی اور مفید پرندوں جیسے کہ چڑیا اور بلبل کے گھونسلوں کو تباہ کر کے انہیں اپنی جگہ سے بے دخل کر رہا ہے، جس سے مقامی ماحولیاتی سلسلے میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔
ماہرین کی تشویش اور حل
سینٹ کیتھرین پروٹیکٹڈ ایریا کے ڈائریکٹر اسماعیل حطب کا کہنا ہے کہ مینا اب مصر کے ڈیلٹا کے اندرونی علاقوں تک پہنچ چکا ہے، جو اس کی کامیابی کے ساتھ مقامی ماحول میں جڑ پکڑنے کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پرندے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر اقدامات ضروری ہیں۔
عالمی سطح پر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف تجربات کیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق:
- منظم شکاری پروگرام: خلیجی ممالک بالخصوص قطر کی طرز پر مینا کو منظم طریقے سے پکڑ کر اس کی آبادی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
- سائنسی مانیٹرنگ: اس کے پھیلاؤ اور مقامی پرندوں پر اثرات کو جانچنے کے لیے جامع سائنسی مطالعہ کیا جانا چاہیے۔
- حکمتِ عملی: ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے اور اپنی مقامی حیات کو بچانے کے لیے فوری طور پر ایک قومی سطح کی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔
مینا کا مصر میں تیزی سے پھیلنا صرف ایک پرندے کی آمد کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ماحولیاتی چیلنج ہے جو ملکی معیشت اور حیاتیاتی تنوع کو براہِ راست متاثر کر رہا ہے۔
اگر اس کے پھیلاؤ کو سائنسی بنیادوں پر محدود نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف مقامی پرندوں کی کئی اقسام کو معدوم ہونے کے دہانے پر لے آئے گا بلکہ زرعی شعبے کے لیے بھی ایک مستقل دردِ سر بنا رہے گا۔
یہ صورتحال متقاضی ہے کہ حکام اس پرندے کے اثرات کا سنجیدہ جائزہ لیں اور اسے ایک جارح پرندے کے طور پر نمٹنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اپنائیں۔