ٹرمپ نے سابقہ ایرانی جوہری معاہدے کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ مذاکرات مختلف نوعیت کے ہیں اور ان سے مثبت نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔
اس موقع پر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت انتہائی مثبت رہی۔
ان کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی ختم ہو چکی ہے اور فی الحال صورتحال قابو میں ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور اسرائیل نے حالیہ میزائل اور فضائی حملوں کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔
گزشتہ چند روز کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں نے خطے میں ایک بڑے تصادم کے خدشات کو جنم دیا تھا۔
دوسری جانب پاکستان بھی ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کا حتمی ہدف پورا ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔