امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے معاملے میں حتمی فیصلہ انہی کا ہوگا اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے پاس اسے قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
ٹرمپ نے ایرانی میزائل حملوں کے باوجود مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے پاس امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے کسی بھی معاہدے کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا، کیونکہ اس معاملے میں حتمی فیصلہ ان ہی کا ہوگا۔
برطانوی اخبار فائننشل ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہوگا۔
فیصلے میں کرتا ہوں، تمام فیصلے میں ہی کرتا ہوں، وہ فیصلے نہیں کرتا۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران نے چند گھنٹے قبل اسرائیل کی جانب چار مرحلوں میں بیلسٹک میزائل داغے تھے، جسے اخبار نے اپریل میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سب سے سنگین واقعہ قرار دیا۔
مزید پڑھیں
امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی حملوں کا تہران کے ساتھ جاری مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا اس سے معاہدے پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملے کسی مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے اور موجودہ کشیدگی مذاکراتی عمل کو متاثر نہیں کرنی چاہئے۔
دوسری جانب اسرائیلی چینل 12 نے پیر کے روز انکشاف کیا کہ نیتن یاہو
نے ٹرمپ کی درخواست پر ایران کے خلاف فوری جوابی کارروائی مؤخر کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ وہ ایرانی میزائل حملے کا فوری جواب نہ دیں اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو چند دن مزید جاری رہنے دیں۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار اور گفتگو سے آگاہ اسرائیلی ذریعے کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ امریکا اور ایران کسی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، اس لیے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے مزید وقت دیا جانا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق نیتن یاہو نے ابتدا میں ٹرمپ کو اپنا مؤقف تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور اس درخواست پر تحفظات کا اظہار بھی کیا، تاہم آخرکار انہوں نے کسی حد تک امریکی صدر کی درخواست مان لی۔
امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اس بار دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو گزشتہ ہفتے ہونے والی کشیدہ گفتگو کے مقابلے میں زیادہ پرسکون رہی اور ٹرمپ نے اپنی آواز بھی بلند نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ صدر نے مزید وقت حاصل کر لیا ہے۔
ان کا خیال ہے کہ ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں، اسی لیے وہ مستقبل قریب میں کسی اسرائیلی حملے کی توقع نہیں رکھتے۔
عہدیدار کے مطابق ٹرمپ کا ماننا ہے کہ یہ جنگ 3 ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ آگے بڑھا جائے۔
اگرچہ ٹرمپ اس سے قبل جلد معاہدہ ہونے کے حوالے سے پُرامید دکھائی دیتے تھے، تاہم اس بار انہوں نے زیادہ محتاط انداز اپنایا اور کہا کہ میرا خیال ہے کہ معاہدہ اب بھی ممکن ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ معاہدے کی کامیابی یا ناکامی اس کی افادیت پر منحصر ہوگی، تاہم حالیہ واقعات اس پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔
معاہدہ ناکام ہونے کی صورت میں ممکنہ امریکی اقدامات کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن کے پاس دو راستے موجود ہیں۔