گوگل نے اعلان کیا ہے کہ اس کے ویب براؤزر کروم نے براؤزر کارکردگی جانچنے والے دو اہم ٹیسٹوں، Speedometer 3.1 اور JetStream 3 میں نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔
کروم نے Speedometer ٹیسٹ میں 61 پوائنٹس حاصل کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 فیصد زیادہ ہیں۔
اسی طرح JetStream 3 ٹیسٹ میں 469 پوائنٹس حاصل کیے گئے، جو 2026 کے آغاز کے مقابلے میں 10 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ ٹیسٹ MacBook Pro پر کیے گئے، جس میں M5 چِپ اور macOS 26.0.1 استعمال کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں
Speedometer 3.1 ٹیسٹ ویب ایپلی کیشنز اور روزمرہ ویب سرگرمیوں میں براؤزر کی رفتار اور ردعمل کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ JetStream 3 جاوا اسکرپٹ اور WebAssembly انجن کی خام کارکردگی اور پیچیدہ کوڈز چلانے کی صلاحیت کو جانچتا ہے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ کروم نے میک پلیٹ فارم پر دستیاب تمام بڑے براؤزرز، بشمول سفاری، کو کارکردگی میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
کمپنی نے جاوا اسکرپٹ پروسیسنگ کے طریقہ کار کو ازسرنو ڈیزائن کیا، غیر ضروری مراحل ختم کیے اور غیر ہم آہنگ عمل کو براہِ راست ایگزیکیوشن کے عمل میں شامل کیا۔
اس کے علاوہ WebAssembly اور Blink رینڈرنگ انجن میں بھی متعدد اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔
گوگل کے مطابق ان تکنیکی بہتریوں کا براہِ راست فائدہ صارفین کو تیز تر، زیادہ ہموار اور بہتر براؤزنگ تجربے کی صورت میں ملے گا۔
گوگل کے مطابق کروم کی حالیہ کامیابی محض ایک بینچ مارک ریکارڈ نہیں بلکہ براؤزر کی بنیادی ساخت میں کی گئی اہم تکنیکی بہتریوں کا نتیجہ ہے۔
کمپنی نے جاوا اسکرپٹ انجن کو مزید مؤثر بنایا ہے، جس سے ویب سائٹس اور آن لائن ایپلی کیشنز پہلے کے مقابلے میں تیزی سے لوڈ ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق جدید ویب سائٹس، آن لائن آفس ایپلی کیشنز، مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کی کارکردگی بڑی حد تک براؤزر کی پروسیسنگ صلاحیت پر منحصر ہوتی ہے۔
ایسے میں کروم کی رفتار میں اضافہ صارفین کے روزمرہ تجربے کو بہتر بنا سکتا ہے۔