انیسویں صدی کے اواخر میں سلطنتِ عثمانیہ ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہی تھی۔ روس کے ساتھ تباہ کن جنگ، بلقان میں بڑھتی ہوئی بغاوتیں اور یونان کے جارحانہ عزائم نے خلافت کو ایک دوراہے پر کھڑا کر دیا تھا۔
ان حالات میں سلطان عبد الحمید ثانی نے محسوس کیا کہ سلطنت کا مستقبل ایک طاقتور بحریہ کے بغیر محفوظ نہیں ہے۔
مزید پڑھیں
اسی ضرورت کے تحت عثمانی بحریہ نے ایک ایسے ہتھیار (آبدوز) کا انتخاب کیا جس نے آنے والے وقتوں میں بحری جنگوں کا نقشہ بدلنا تھا۔
جب سمندر میدان جنگ میں بدل گئے
روسی بحریہ کی ’ٹارپیڈو کشتیوں‘ کی کامیابی اور یونان کی جانب سے کریٹ (Crete) جزیرے پر مسلسل دباؤ نے عثمانی حکمتِ عملی کو ’دفاعی موڈ‘ پر مجبور کر دیا تھا۔
سلطان عبد الحمید ثانی بخوبی جانتے تھے کہ باسفورس اور درہِ دانیال (Dardanelles) جیسے تزویراتی مقامات کی حفاظت کے لیے پانی کے نیچے چھپ کر وار کرنے والی ٹیکنالوجی ناگزیر ہے۔
تاریخی تجربہ
عثمانیوں کا یہ زیرِ آب سفر نیا نہیں تھا۔ 1720ء میں انجینئر ابراہیم آفندی نے ایک ’مگر مچھ‘ نما کشتی تیار کی تھی جو پانی کے اندر جا کر دوبارہ نمودار ہو سکتی تھی۔
یہ دنیا کے ابتدائی تجربات میں سے ایک تھا، تاہم باقاعدہ فوجی سطح پر پیش رفت 1886ء میں ہوئی جب برطانیہ کی ’نورڈن فیلٹ‘ (Nordenfelt) کمپنی سے 2 جدید آبدوزیں آرڈر کی گئیں۔
’عبد الحمید’ اور ’عبد المجید‘ آبدوزیں:
سلطان نے اپنے ذاتی خزانے سے ان آبدوزوں کی خریداری کے لیے 22 ہزار پاؤنڈ خرچ کیے۔
یہ آبدوزیں 31 میٹر لمبی، 160 ٹن وزنی اور 250 ہارس پاور کے انجن سے لیس تھیں۔ ان کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ یہ دنیا کی پہلی آبدوزیں تھیں، جنہوں نے زیرِ آب رہتے ہوئے ’ٹارپیڈو‘ (Torpedo) فائر کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔
- ٹیکنالوجی: یہ آبدوزیں بھاپ کے انجن (Steam engine) پر چلتی تھیں۔
- تاریخی لمحہ: 1888ء میں استنبول کے ساحل پر ایک قدیم جہاز کو ٹارپیڈو سے غرق کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا گیا۔ یہ تاریخ کا پہلا ریکارڈ یافتہ واقعہ تھا جس میں کسی آبدوز نے زیرِ آب رہتے ہوئے ہدف کو تباہ کیا تھا۔
تکنیکی چیلنجز اور حقائق
اگرچہ یہ ایک عظیم تکنیکی پیش رفت تھی، لیکن اس وقت کی ٹیکنالوجی کی اپنی حدود تھیں۔ رپورٹس کے مطابق ان میں کچھ سنگین مسائل بھی تھے:
- عدم توازن: زیرِ آب جاتے وقت آبدوز کا توازن بگڑ جاتا تھا۔
- حرارت: بھاپ کے انجن کی وجہ سے اندر کا درجہ حرارت ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جاتا تھا۔
- سرعت: پانی کے اندر ان کی رفتار متوقع حد (5-7 میل) سے کہیں کم (3 میل) تھی۔
کیا یہ محض ایک ’ڈرامہ‘ تھا؟
کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ سلطان نے یہ آبدوزیں یونان کو خوفزدہ کرنے کے لیے خریدی تھیں، کیونکہ یونان نے بھی اس وقت ایسی ہی ایک آبدوز خریدی تھی۔
عثمانی بحریہ نے ان کا استعمال کبھی کسی جنگ میں نہیں کیا اور 1914ء تک یہ آبدوزیں ناکارہ ہو کر گوداموں میں پڑی رہیں، جس کے بعد انہیں کباڑ میں فروخت کر دیا گیا۔
ایک دور اندیش حکمران کا خواب
آج کی جدید آبدوزوں کے دور میں سلطان عبد الحمید ثانی کا فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ وہ اپنے دور سے کتنا آگے سوچتے تھے۔
اگرچہ ’عبد الحمید‘ اور ’عبد المجید‘ نامی یہ آبدوزیں جنگی اعتبار سے بہت زیادہ کامیاب نہیں ہو سکیں، لیکن انہوں نے عثمانی بحریہ کو ایک جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا اور تاریخ میں یہ اعزاز رقم کر دیا کہ خلافتِ عثمانیہ ہی وہ پہلی طاقت تھی جس نے زیرِ آب ٹارپیڈو فائر کرنے کی صلاحیت حاصل کی۔
سلطان عبد الحمید ثانی کی یہ کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سلطنت کو بچانے کے لیے ہر ممکن سائنسی اور عسکری راستے تلاش کر رہے تھے، تاکہ عالمی طاقتوں کے سامنے عثمانی بحریہ کو ایک جدید قوت کے طور پر پیش کیا جا سکے۔