امریکی فلسفی اور ماہرِ تعلیم پروفیسر کرسچین بی ملر نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال سے انسانوں میں فوری نتائج کی عادت پیدا ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں صبر، تنقیدی سوچ اور گہرے مطالعے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق AI اگرچہ معلومات تک رسائی کو تیز بناتی ہے، لیکن اس پر حد سے زیادہ انحصار تعلیمی اور فکری صلاحیتوں کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔
جس دور میں مصنوعی ذہانت AI کے ٹولز سے فوری جوابات حاصل کرنا اور کاموں کو غیرمعمولی رفتار سے مکمل کرنا معمول بنتا جا رہا ہے، ایک امریکی ماہرِ تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ایک کم نظر آنے والا مگر اہم منفی اثر بھی پیدا کر سکتی ہے، اور وہ ہے ’صبر کی خوبی‘ کا بتدریج خاتمہ، جو ہمیشہ سے سیکھنے، غوروفکر اور گہری سوچ سے وابستہ رہی ہے۔
امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کی ویک فاریسٹ یونیورسٹی کے فلسفے کے پروفیسر کرسچین بی ملر نے ’دی کنورسیشن‘ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف تحقیق اور تحریر کے طریقوں کو تبدیل کر رہی ہے بلکہ یہ اس تصور کو بھی بدل رہی ہے کہ علم حاصل کرنے کے لیے کتنا وقت اور محنت درکار ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے وضاحت کی کہ ماضی میں طلبہ اپنی تحقیقی اسائنمنٹس کی تیاری کے لیے گھنٹوں لائبریریوں میں بیٹھتے یا مختلف ذرائع کا مطالعہ کرتے تھے۔
یہ ایک ایسا عمل تھا جس میں صبر، تجزیہ، تنقیدی سوچ اور مسلسل محنت کی ضرورت ہوتی تھی لیکن آج مصنوعی ذہانت کے ٹولز چند سیکنڈ میں مکمل اور تیار شدہ جوابات فراہم کر دیتے ہیں۔
رفتار کی ثقافت
پروفیسر ملر کے مطابق انٹرنیٹ نے اس تبدیلی کی بنیاد کئی برس پہلے رکھ دی تھی، لیکن مصنوعی ذہانت نے اسے ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
اب صارف کو مختلف ذرائع تلاش کرنے یا ان کا تقابل کرنے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ اسے فوری طور پر تیار شدہ جواب مل جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس رجحان کے نتیجے میں لوگوں کی تاخیر برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے اور وہ ایسے کاموں سے گریز کرنے لگتے ہیں جن کے لیے زیادہ وقت اور ذہنی محنت درکار ہو۔ اس کے اثرات تحقیق، تحریر اور تنقیدی سوچ جیسی بنیادی صلاحیتوں پر پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے نفسیات کی متعدد تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسانی توقعات بار بار کے تجربات کے مطابق خود کو ڈھال لیتی ہیں۔
جس طرح کوئی شخص تیز رفتار نیا کمپیوٹر یا موبائل استعمال کرنے کے بعد معمولی سست رفتاری بھی برداشت نہیں کر پاتا، اسی طرح مصنوعی ذہانت پر مسلسل انحصار فوری جوابات کو ایک فطری اور متوقع چیز بنا سکتا ہے۔
تعلیم پر اثرات
مضمون میں تعلیمی اداروں کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ بعض طلبہ اب نصوص کی تشریح، تجزیہ اور تنقیدی جائزہ خود تیار کرنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کے ٹولز سے مدد لینے لگے ہیں۔
مصنف کے مطابق یہ اثر صرف تعلیم تک محدود نہیں بلکہ مذہبی خطبات کی تیاری، پیشہ ورانہ خطوط نویسی، کاروباری منصوبہ بندی اور دیگر شعبوں تک بھی پھیل رہا ہے، جہاں پہلے طویل تحقیق اور تیاری کی ضرورت ہوا کرتی تھی۔
صبر کے فوائد
پروفیسر ملر نے زور دیا کہ صبر محض ایک مثبت سماجی رویہ نہیں بلکہ ایک ایسی خوبی ہے جو متعدد مثبت نتائج سے جڑی ہوئی ہے۔ مختلف مطالعات کے مطابق صبر:
- ذہنی صحت کو بہتر بناتا ہے۔
- جذبات پر قابو پانے کی صلاحیت بڑھاتا ہے۔
- زندگی سے اطمینان اور خوشی میں اضافہ کرتا ہے۔
- سماجی تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔
- دوسروں کے ساتھ تعاون اور برداشت کو فروغ دیتا ہے۔
ممکنہ حل
اس ممکنہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے پروفیسر ملر نے چند تجاویز پیش کیں، جن میں:
- بعض اوقات آسان راستہ اختیار کرنے کے بجائے زیادہ محنت طلب طریقہ اپنانا۔
- مطالعہ اور تحریر کے لیے ڈیجیٹل مداخلت سے پاک وقت مختص کرنا۔
- تعلیمی اور ثقافتی اداروں کی جانب سے براہِ راست فکری مکالمے کی حوصلہ افزائی کرنا۔
- مصنوعی ذہانت کو ہر کام اور ہر مرحلے میں شامل نہ کرنا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صبر کی عادت صرف تعلیم اور تحقیق سے نہیں بلکہ روزمرہ سرگرمیوں کے ذریعے بھی پروان چڑھ سکتی ہے، جیسے ورزش، باغبانی، دستکاری اور دیگر ایسے مشاغل جن میں وقت، مستقل مزاجی اور محنت درکار ہوتی ہے۔
نتیجہ
مضمون کے مطابق مصنوعی ذہانت معلومات تک رسائی کو بے حد تیز اور آسان بنا رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ انسان آہستہ آہستہ ان ذہنی اور رویہ جاتی صلاحیتوں سے محروم ہو جائے جو انتظار، تجربے اور تدریجی سیکھنے کے عمل سے تشکیل پاتی ہیں، اور ان میں سب سے اہم صبر ہے۔