اہم خبریں
13 June, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

پاکستان متحرک: محسن نقوی پھر تہران پہنچ گئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پاکستان ایران امریکا ثالثی

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ دنوں میں ہونے والے باہمی حملوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے ایک بار پھر سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ 

اسی سلسلے میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی آج ہفتے کے روز ایرانی حکام سے ملاقات کے لیے تہران پہنچ گئے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق محسن نقوی ایرانی حکام کے ساتھ اہم ملاقاتیں کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور ایران، امریکا تنازع کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

مزید پڑھیں

اس سے قبل محسن نقوی نے جمعرات اور جمعہ کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم SCO کے وزرائے داخلہ اجلاس کے موقع پر اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے دو مرتبہ ملاقات کی تھی۔ 

دونوں رہنماؤں نے پاک، ایران تعلقات، علاقائی سلامتی اور حالیہ پیش رفت پر تفصیلی گفتگو کی۔

پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب 

ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ چند روز قبل فریقین کے درمیان پیش رفت کی امید پیدا ہوئی تھی۔

منجمد ایرانی اثاثوں پر اختلاف

ذرائع کے مطابق تہران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ عبوری معاہدے پر دستخط ہوتے ہی بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز کا نصف حصہ، یعنی تقریباً 12 ارب ڈالر، جاری کیا جائے، جبکہ باقی رقم دو ماہ کے اندر فراہم کی جائے۔

ChatGPT Image 6 يونيو 2026، 01 01 13 م

تاہم واشنگٹن نے اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ 

العربیہ کے ذرائع کے مطابق دونوں فریق اس وقت ان رقوم کی ادائیگی کے لیے قابلِ قبول طریقہ کار اور مالیاتی میکانزم پر غور کر رہے ہیں۔

جوہری پروگرام بھی اہم رکاوٹ

ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کئی بنیادی اختلافات بھی بدستور موجود ہیں۔ 

اگرچہ فریقین نے ابتدائی معاہدے کے بعد 60 روزہ مدت میں اس حساس مسئلے پر تفصیلی مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم یہ موضوع اب بھی مذاکراتی عمل میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔

پاکستان کا ثالثی کردار

پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ 

اسلام آباد نے اپریل میں دونوں ممالک کے درمیان طویل براہِ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کی تھی، تاہم وہ بات چیت کسی ٹھوس نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔

اس کے باوجود پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے اور رکاوٹوں کو دور کرنے کی سفارتی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں، تاکہ 28 فروری کو ایران اور دوسری جانب امریکا و اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کا پائیدار خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔