براہ راست نشریات

ٹرمپ نے تجارتی جنگ پھر چھیڑ دی، 60 ممالک پر ٹیکس  لگانے کا فیصلہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عالمی تجارتی درآمدات پر نئے محصولات کا تنازع
ٹرمپ نے 60 تجارتی پارٹنرز سے آنے والی درآمدات پر کم از کم 10 فیصد نئی ڈیوٹی لگانے کی تجویز دی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 60 تجارتی شراکت داروں سے آنے والی درآمدات پر کم از کم 10 فیصد نئی ڈیوٹی لگانے کی تجویز دی ہے۔

مزید پڑھیں

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ اقدام جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ اشیا کی روک تھام کے حوالے سے کی گئی تحقیقات کے بعد کیا گیا ہے۔

بلومبرگ کے مطابق کینیڈا، میکسیکو، یورپی یونین، تائیوان اور برطانیہ پر 10 فیصد جبکہ چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، برازیل اور سوئٹزرلینڈ پر ساڑھے 12 فیصد ڈیوٹی لگے گی۔ 

ان ممالک پر جبری مشقت کے قوانین پر سختی سے عمل نہ کرنے کا الزام ہے۔

اس حوالے سے مزید تفصیل میں بتایا گیا ہے  کہ یہ محصولات فوری طور پر نافذ نہیں ہوں گے بلکہ ان پر عوامی رائے لی جائے گی، جس کے بعد حتمی فیصلہ ہوگا۔ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عالمی تجارتی درآمدات پر نئے محصولات کا تنازع
ان ممالک پر جبری مشقت کے قوانین پر سختی سے عمل نہ کرنے کا الزام ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی انتظامیہ نے اس سلسلے میں 6 جولائی کی آخری تاریخ مقرر کی ہے، جس کے بعد عوامی سماعتیں شروع ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا ہے کہ اب مزدوروں کے ساتھ عالمی سطح پر غیر مساوی سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا۔ 

واضح رہے کہ یہ تحقیقات 1974 کے تجارتی قانون کی دفعہ 301 کے تحت کی گئی ہیں، جس کا مقصد امریکی کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

دوسری جانب چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکی اقدام پر کڑی تنقید کی ہے۔

بیجنگ میں ٹرمپ اور شی جن پنگ ملاقات اور جی ٹو اتحاد کا تصور
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اسی طرح جاپانی حکام واشنگٹن سے مسلسل رابطے میں ہیں، جبکہ یورپی یونین نے ان محصولات کو بلاجواز قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کی پاسداری کا اعادہ کیا ہے۔

ہینریچ فاؤنڈیشن کی ماہر ڈیبورا ایلمز کے مطابق اس اقدام سے عالمی شراکت داروں میں شدید بے چینی پھیلے گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اس اقدام کے ذریعے محصولات میں بڑی تبدیلیوں اور جوابی تجارتی کارروائیوں کے لیے ایک نیا راستہ کھول دیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے حساس وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے خلاف جنگ اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے مہنگائی میں پہلے ہی بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ 

نومبر میں ہونے والے امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل یہ فیصلہ ووٹرز کی قوت خرید پر اثر ڈالے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عالمی تجارتی درآمدات پر نئے محصولات کا تنازع
نومبر میں امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل یہ فیصلہ ووٹرز کی قوت خرید پر اثر ڈالے گا (فوٹو: انٹڑنیٹ)

دریں اثنا امریکی انتظامیہ نے گوشت، ٹماٹر، کیلے، کافی اور مالٹے کے جوس سمیت بعض ایندھن اور کیمیکلز کو ان نئے محصولات سے مستثنیٰ رکھنے کی تجویز دی ہے۔

تاہم کپاس، پام آئل اور شمسی توانائی میں استعمال ہونے والی نایاب معدنیات پر ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

وائٹ ہاؤس اس مرتبہ ان محصولات کے لیے مضبوط قانونی بنیاد تلاش کر رہا ہے کیونکہ فروری میں سپریم کورٹ نے ہنگامی اختیارات کے تحت لگائی گئی ڈیوٹی ختم کر دی تھی۔ 

اقتصادی ماہرین کے مطابق نئے محصولات کا اطلاق جولائی کے آخر میں ہونے کا قوی امکان ہے۔