اہم خبریں
11 June, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

غزہ و لبنان میں اسرائیلی بمباری: کئی خاندانوں کا نام و نشان تک مٹ گیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
0% LikesVS
100% Dislikes
غزہ اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی بمباری کے بعد تباہ شدہ رہائشی مکانات اور ملبہ
اسرائیل جارحیت سے غزہ اور جنوبی لبنان کے شہری اندراج سے لبد اور العبد خاندانوں کا نام و نشان مٹ گیا (فوٹو: الجزیرہ)

اسرائیل کی جانب سے غزہ اور جنوبی لبنان میں شہری آبادیوں پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں متعدد خاندانوں کا نام و نشان تک مٹ گیا ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملوں میں لبنانی اور فلسطینی خاندانوں کو نشانہ بنا کر انہیں سول ریکارڈ سے مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

جنوبی لبنان کے قصبے المارونیہ میں گزشتہ منگل کو اسرائیلی فوج نے ایک ہولناک قتل عام کیا، جس کے نتیجے میں العبداللہ خاندان کے تمام افراد شہید ہو گئے۔ 

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں خاندان کے گھر کی مکمل تباہی اور ملبے کے ڈھیر کے دلخراش مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

اُدھر غزہ شہر کے شمال مغربی علاقے شارع المخابرات میں جمعرات کو ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر اسرائیلی فضائی حملے میں لبد خاندان کے 5 افراد شہید ہو گئے۔ 

اس حملے کے نتیجے میں ایک اور پورا خاندان فلسطینی سول ریکارڈ کی فہرستوں سے ہمیشہ کے لیے مٹ گیا۔

لبد خاندان کے گھر میں لگنے والی آگ بجھانے کی کوششوں کے دوران 9 سالہ بچی حلا حسن رباح لبد کو ملبے سے زندہ نکالا گیا۔ وہ اس ہولناک واقعے میں اپنے خاندان کی واحد بچی ہے، جبکہ اس کے تمام پیارے اس حملے میں جاں بحق ہو کر اب منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں۔

الشفاء اسپتال کے ذرائع کے مطابق غزہ شہر میں 4 رہائشی اپارٹمنٹس پر ہونے والے حالیہ حملوں میں 9 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ 

یہ حملے 10 اکتوبر 2025ء سے نافذ جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جس سے امن کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔

ان لرزہ خیز واقعات کے ردعمل میں سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں صارفین اسے اسرائیلی درندگی اور دانستہ نسل کشی قرار دے رہے ہیں۔ 

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوابتہ کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک 12 ہزار سے زائد قتل عام کیے جا چکے ہیں اور ان کارروائیوں میں تقریباً 2 ہزار 700 فلسطینی خاندانوں کے تمام افراد شہید ہو کر سول ریکارڈ سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکے ہیں۔

2 سالہ جنگ کے دوران امریکی تعاون سے ہونے والی اسرائیلی جارحیت میں 73 ہزار فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

اس وحشیانہ مہم میں 90 فیصد غزہ تباہ کیا گیا اور اس میں زیادہ تر نشانہ معصوم خواتین و بچوں کو بنایا گیا ہے۔

حالیہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے امداد کی بندش اور روزانہ کی بنیاد پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ 

ان خلاف ورزیوں میں اب تک 936 فلسطینی شہید اور 2 ہزار 903 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی بتائی جاتی ہے۔